مسک کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار، اکثر ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ۲۰۳۰ء تک، اے آئی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی زیادہ اسمارٹ بن سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 7:04 PM IST | Davos
مسک کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار، اکثر ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ۲۰۳۰ء تک، اے آئی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی زیادہ اسمارٹ بن سکتا ہے۔
امریکی ارب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے چیئرمین ایلون مسک نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس میں منعقدہ میں ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے اجلاس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اے آئی کی ترقی کی رفتار کے بارے میں اب تک کا اپنا سخت ترین انتباہ دیتے ہوئے مسک نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی اگلے ایک سال کے اندر کسی بھی ذہین ترین انسان سے زیادہ ذہین بن کر سامنے آسکتی ہے۔
ڈیووس ۲۰۲۶ء کے مباحثوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مسک نے کہا کہ دنیا اس سال کے آخر تک اے آئی ٹیکنالوجی کو ”ذہین ترین انسان“ سے آگے نکلتے ہوئے دیکھ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس سال ایسا نہ ہوا، تو یہ ”تقریباً یقینی طور پر“ ۲۰۲۶ء میں ہو جائے گا۔ مسک کے بیان کے بعد ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ مشین انٹیلی جنس کتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور حکومتیں و معاشرے اس کیلئے کتنے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: داؤس ۲۰۲۶ء: انفوسس آئندہ مالی سال میں ۲۰؍ ہزار فریشرز کی بھرتی کرے گی
مصنوعی ذہانت توقع سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے
مسک کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار، اکثر ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تقریباً ۲۰۳۰ء تک، اے آئی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی زیادہ اسمارٹ بن سکتا ہے۔ اسے اکثر ’سپر انٹیلی جنس‘ کہا جاتا ہے یعنی ایسی ٹیکنالوجی جو سیکھنے، استدلال کرنے اور ایسے پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو جو انسانوں کی بساط کے باہر ہو۔
ٹیسلا کے سی ای او مسک اس سے قبل بھی بارہا اے آئی کی غیر منظم ترقی سے وابستہ خطرات کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں، تاہم وہ طب، تعلیم، پیداواری صلاحیت اور تحقیق میں اس کے بے پناہ فوائد کے معترف بھی ہیں۔ داؤس میں مسک کے تبصروں نے ایک بار پھر اے آئی کو ”ذمہ داری“ کے ساتھ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ حفاظتی اقدامات ٹیکنالوجی کی رفتار کا ساتھ دے سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) روزگار کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے‘‘
ہیومنائیڈ روبوٹس روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں
اے آئی سافٹ ویئر کی پیش رفت کے ساتھ، ایلون مسک نے مادی دنیا میں اے آئی سے چلنے والی مشینوں کی جانب ایک بڑی تبدیلی کی پیش گوئی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس جلد ہی معمول کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کمپنی ٹیسلا کے ’آپٹیمس‘ (Optimus) روبوٹ کا حوالہ دیا کہ کس طرح آٹومیشن گھروں اور کام کی جگہوں تک پھیل سکتی ہے۔
مسک نے کہا کہ ایسے روبوٹس روزمرہ کے کام کاج جیسے گھر کی صفائی، فیکٹری میں مزدوری، یہاں تک کہ بچوں یا بوڑھوں کی دیکھ بھال جیسے کاموں میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ روبوٹس اگلے سال کے اوائل تک خریداری کیلئے دستیاب ہو سکتے ہیں، یہ ایک ایسا ٹائم لائن ہے جس نے تجارتی ہیومنائیڈ روبوٹس کو بہت سے لوگوں کی توقعات سے کہیں زیادہ قریب لا کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کام کے مقامات پر اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن کمپنیاں تربیت میں پیچھے
اصل رکاوٹ ٹیکنالوجی نہیں، بجلی ہو سکتی ہے
اے آئی کی تیز رفتار ترقی کی پیش گوئی کرتے ہوئے مسک نے بجلی کی طلب کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ اے آئی کو کمپیوٹنگ کی بہت بڑی طاقت درکار ہوتی ہے اور ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس مسئلے کے حل کیلئے مسک نے شمسی توانائی کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کیلئے انہوں نے خلا میں ڈیٹا سینٹرز بنانے جیسی مستقبل کی تجاویز بھی پیش کیں، جہاں توانائی اور کولنگ کے مسائل کو مختلف طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔