Updated: May 12, 2026, 6:15 PM IST
| Zurich
فیدیاس پنائیتو نے خبردار کیا ہے کہ قبرص میں اسرائیلی سرمایہ کاری اور زمینوں کی بڑھتی خریداری جزیرے کے سماجی اور اقتصادی توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی سرمایہ کار رئیل اسٹیٹ کے بڑے خریدار بن چکے ہیں اور بعض علاقوں میں ’’بند رہائشی حلقے‘‘ قائم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق قبرصی معیشت اسرائیلی سرمائے پر زیادہ انحصار کرتی جا رہی ہے جبکہ نگرانی کے کمزور نظام اور بدعنوانی نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو غیر شفاف بنا دیا ہے۔
فیدیاس پنائیتو۔ تصویر: ایکس
یورپی رکن پارلیمان فیدیاس پنائیتو نے قبرص میں اسرائیلی سرمایہ کاری اور زمینوں کی خریداری میں تیزی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان جزیرے کے سماجی، اقتصادی اور آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’اسرائیل قبرص کو خرید رہا ہے‘‘، اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی سرمایہ کار جائیداد اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق جزیرے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمینوں اور رہائشی منصوبوں کی خریداری جاری ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں ’’بند رہائشی حلقے‘‘ یا الگ تھلگ کمیونٹیز تشکیل پا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل پر مکمل کنٹرول پرغور
فیدیاس نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں بلکہ اس پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اسرائیلی سرمایہ کاری پر منحصر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ نگرانی کے کمزور نظام اور بدعنوانی نے دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کو غیر معمولی آزادی دے دی ہے، جن میں بعض کمپنیاں بظاہر قبرصی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ ہیں مگر ان کے پیچھے غیر ملکی سرمایہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبرص میں صرف اسرائیلی سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ روس، یوکرین، چین، امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر غیر یورپی یونین ممالک کی سرمایہ کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بذاتِ خود منفی چیز نہیں، لیکن جب شفافیت، احتساب اور مقامی مفادات کے تحفظ کا فقدان ہو تو صورتحال تشویشناک بن جاتی ہے۔ یورپی قانون ساز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جزیرے کے جنوبی حصے میں اسرائیلی کمیونٹیز الگ نوعیت کا انفراسٹرکچر قائم کر رہی ہیں، جن میں ایسے اسکول بھی شامل ہیں جہاں زیادہ تر اسرائیلی بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس رجحان سے مقامی سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے اور مستقبل میں آبادیاتی توازن تبدیل ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، جوہری مقام کے قریب آنے والوں کو’تباہ‘ کرنے کا انتباہ
انہوں نے قبرصی حکام پر زور دیا کہ زمینوں کی خریداری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی نگرانی کے لیے سخت قانون سازی کی جائے تاکہ مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق قبرص گزشتہ کئی برسوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے، خصوصاً رئیل اسٹیٹ، سیاحت اور ساحلی ترقیاتی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ تیزی سے آیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی خریداری سے جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی شہریوں کے لیے رہائش مزید مہنگی ہو رہی ہے۔ قبرص کی حکومت نے ابھی تک فیدیاس کے بیانات پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم یہ معاملہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تیزی سے زیر بحث آ رہا ہے۔