Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، جوہری مقام کے قریب آنے والوں کو’تباہ‘ کرنے کا انتباہ

Updated: May 11, 2026, 5:05 PM IST | Washington

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مزید فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکہ ایران کے جوہری مواد کے مقام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خبردار کیا کہ اگر کسی نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات صحافی شیرل اٹکیسن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج اس مقام کی سخت نگرانی کر رہی ہیں اور دعویٰ کیا کہ امریکہ وہاں ہونے والی ہر نقل و حرکت کا سراغ لگا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا:’’امریکہ ایران کے جوہری مواد کے مقام پر بہت اچھی نگرانی رکھے ہوئے ہے۔ ہم کسی بھی وقت وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ جب چاہیں گے۔ ہم اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نگرانی کا نظام اس مقام کے قریب آنے والے ہر شخص کی شناخت کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس صلاحیت کو یو ایس اسپیس فورس سے جوڑا۔ انہوں نے کہا:’’میں نے ایک چیز بنائی تھی جسے اسپیس فورس کہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص وہاں داخل ہو تو وہ آپ کو اس کا نام، پتہ اور اس کے بیج نمبر تک بتا سکتے ہیں۔ ہم اس جگہ پر بہت اچھی نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ماؤنٹ ایوریسٹ پر چڑھائی کیلئے نیپال نے ریکارڈ ۴۹۲؍ اجازت نامے جاری کئے

فوجی کارروائی کے بارے میں ٹرمپ نے کیا کہا؟
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زیرِ زمین جوہری مواد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ جواب دے گا۔ انہوں نے کہا:’’اگر کوئی بھی اس جگہ کے قریب آیا تو ہمیں فوراً معلوم ہو جائے گا اور ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوج مزید حملے بھی کر سکتی ہے اور دعویٰ کیا کہ ماضی کی کارروائیوں میں پہلے ہی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ٹرمپ نے کہا:’’ہم مزید دو ہفتے تک کارروائی کر سکتے ہیں اور ہر ایک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہم۷۰؍ فیصد کام کر چکے ہیں۔ ‘‘ان کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کمزور ضرور ہوا ہے لیکن مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل پر مکمل کنٹرول پرغور

ایران کے جوہری خطرے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا:’’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے کیونکہ وہ خطرناک ہیں۔ ہم انہیں جوہری صلاحیت تک رسائی نہیں دے سکتے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو حملوں کے بعد دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں سے ایران کی صلاحیت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی داخلی معاملات پر بھی بات کی، جن میں انتخابات، توانائی کی قیمتیں اور عوامی پالیسی کے مباحث شامل تھے۔ انہوں نے انتخابی قوانین اور ووٹر شناختی قوانین پر گفتگو کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی اپیل کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا: آئین میں ترمیم، کم جونگ ان کے قتل کی صورت میں جوہری حملہ لازمی

انہوں نے امریکہ میں توانائی کی پیداوار کے بارے میں کہا کہ ملک تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں دنیا میں سرفہرست ہے اور پیش گوئی کی کہ مستقبل میں ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ ٹرمپ نے نیشنل فٹ بال لیگ کی نشریاتی لاگت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں ناظرین کو متاثر کر سکتی ہیں اور شائقین کی رسائی کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ویکسین پالیسی پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویکسین کے حامی ہیں لیکن لازمی ویکسینیشن کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ نے کہا:’’ہم والدین کو فیصلہ کرنے دے سکتے ہیں۔ ‘‘ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے بھی ایران کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی آمدنی میں کمی اور ایرانی حکام سے منسلک بیرونِ ملک اثاثوں کے خلاف مالی کارروائیوں کے باعث ایران پر معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کوایران کے یورینیم معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایران کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک ری پبلک نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے تنازع ختم کرنے کے امریکی تجویز پر پاکستان کے ذریعے جواب بھیجا ہے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا مرکز خطے کو مستحکم کرنا اور نئی کشیدگی کو روکنا ہے، جس میں اہم بحری راستوں کو محفوظ بنانا بھی شامل ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK