Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی یونین: ہسپانوی رکن کی جرأت رندانہ، ٹرمپ کو ’نسل کش‘ قرار دیا

Updated: June 18, 2026, 3:03 PM IST | Strasbourg

بھرے ایوان میں آئرین مونٹیرو نے ٹرمپ کا نام لے کر یوں طنز کیا ’’ہیپی برتھ ڈے مسٹر جینوسائیڈ‘‘۔

Irene Monitero. Photo: INN
آئرین مونیٹرو۔ تصویر: آئی این این

یورپی پارلیمان میں اسپین کی سیاستدان آئرین مونٹیرو نےایک بار پھر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو لتاڑا اور  یورپی یونین کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی ۔ ۱۶؍ جون کو یورپی پارلیمنٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر یورپی یونین کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آئرین مونٹیرو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ’’مسٹر جینوسائیڈ(نسل کش شخص )‘‘ کہا۔ یہ تبصرہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں اعلان کیے گئے امن معاہدے پر ہونے والی بحث کے دوران کیا گیا۔

’دی پرنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق بعد ازاں مونٹیرو نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر’ہیپی برتھ ڈے ٹو ٹرمپ‘ کے  عنوان سے شیئر کی، جس میں انہوں نے۱۴؍ جون کو ہونے والی ٹرمپ کی سالگرہ کا حوالہ دیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس، جو اجلاس میں موجود تھیں، سے خطاب کرتے ہوئے مونٹیرو نے سوال قائم کہ’’ آخر یورپ اس معاہدے کے بعد کس بات کا جشن منا رہا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا’’’’یورپ کس چیز کا جشن منا رہا ہے؟ کیا ہم یہ جشن منا سکتے ہیں کہ ہم نے نسل کشی روک دی؟ کیا ہم نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی غیر قانونی جارحیت کو روکا؟ کیا ہم نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کیے؟ کیا ہم نے لبنان پر قبضہ ختم کروایا؟ نہیں، ہم ان میں سے کسی چیز کا جشن نہیں منا سکتے۔‘‘ اسکے بعد مونٹیرو نے کاجا کالاس کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا’’اگر آپ ڈونالڈ ٹرمپ کی سالگرہ منا رہی ہیں، تو آئیے ہم بھی انہیں سالگرہ کا گیت سناتے ہیں۔‘‘ پھر انہوں نے انگریزی میں گانا شروع کیا:’’’’ہیپی برتھ ڈے ٹو ٹرمپ، ہیپی برتھ ڈے مسٹر جینوسائیڈ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کھانے کی اشیاء اخبارات میں دینے والوں پر کارروائی

یہ واقعہ یورپی پارلیمنٹ میں ’’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ کے اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کیلئے یورپی یونین کے کردار‘‘ پر ہونے والی بحث کے دوران پیش آیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے  ایک جنگ بندی کا معاہدہ ہے۔ اس میں عالمی تیل تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صورت میں پابندیوں میں نرمی کا امکان بھی موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK