اپنی نوعیت کی یہ ملک کی پہلی سرنگ ہوگی۔ جدید اور نئی تکنیک والی مشین کا استعمال۔ اس سے آگ، ارتعاش اور زلزلے سے بھی بچاؤ ہوسکے گا۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 12:41 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
اپنی نوعیت کی یہ ملک کی پہلی سرنگ ہوگی۔ جدید اور نئی تکنیک والی مشین کا استعمال۔ اس سے آگ، ارتعاش اور زلزلے سے بھی بچاؤ ہوسکے گا۔
احمد آباد بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے لئے دوسری ٹنل بورنگ مشین (ٹی بی ایم) کے ذریعے ساؤلی (گھنسولی) سے وکھرولی تک سرنگ کا کام شروع کردیا گیا۔ اس ۱۰؍ کلومیٹر کے حصے میں سے۷؍ کلومیٹر تھانے کھاڑی کے اندر ہوں گے۔ ملک میں کسی بھی ریل راہداری کے لئے یہ سمندر کے نیچے پہلی سرنگ ہوگی ۔ اس پروجیکٹ کے کل۲۱؍کلو میٹر سرنگ میں سے، ممبئی میں ساؤلی (گھنسولی) اور باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی) کے درمیان ۱۶؍ کلو میٹر ٹنل بورنگ مشین کا استعمال کرتے ہوئے بنائی جائے گی۔ اس تعلق سے پہلی ٹی بی ایم نے۵؍ جولائی۲۰۲۶ء کو وکھرولی سے بی کے سی درمیان ۶؍ کلومیٹر سرنگ کی کھدائی شروع کی تھی، بقیہ ۵؍ کلومیٹر پہلے ہی مکمل کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گٹکھا کھا کر آنے والوں کا بی ایم سی اسپتالوں اور دفاتر میں داخلہ ممنوع
ٹی بی ایم کیا ہے اور اس کی خاصیت کیا ہے؟
یہ ٹنل بورنگ مشین (ٹی بی ایم ) ہندوستان میں ریل سرنگ کی تعمیر کے لئے استعمال ہونے والے سب سے بڑی مشینوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ایک بڑا کٹر ہیڈ ہے جس کا قطر۱۳ء۶؍ میٹر ہے جو۴؍ منزلہ عمارت کی اونچائی کے بقدر ہے، اور اس کی لمبائی۹۶؍ میٹر ہے۔ یہ مشین کئی اہم اجزاء پر مشتمل ہے، جیسے کٹر وہیل/ہیڈ، مین بیئرنگ، جبڑے کا کولہو، ایریکٹر، مین شیلڈ، ٹیل شیلڈ اور چار خصوصی گینٹری جو سرنگ کی تعمیر میں معاونت کرتی ، مشتمل ہے۔ یہ مشین ایک مکس شیلڈ قسم کی نیم خودکار اور سلوری پر مبنی ہے۔یہ مشکل اور چیلنجنگ ارضیاتی حالات میں کام کرنے کے لئے قابل اعتماد اور بھروسے مند ٹیکنالوجی مانی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پر لڑکی بن کر نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی شکایت، چند جعلی اکاؤنٹ بند
مشین کی دیگر خصوصیات
ٹریلنگ بیک اپ سسٹم چار ڈبل اسٹوری گینٹریز پر مشتمل ہے جو شیلڈ کے پیچھے آپریشنز کو سپورٹ کرتی ہے۔ یہ گینٹری عام طور پر ۱۸-۲۰؍ میٹر لمبی ہوتی ہے اور تنگ بوفرنگ شیلڈ کے پیچھے مختلف سپورٹ سسٹم رہتا ہے۔ اس طرح جدید ٹیکنالوجی کا صحیح اور بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔ ابھی دو دن قبل ہی ہائیڈروجن ٹرین بھی شروع کی گئی ہے۔یہ تفصیلات سینٹرل ریلوے کے چیف پی آر او ڈاکٹر سوپنل نیلا نے بتائیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محفوظ سرنگ کی تعمیر اور ارد گرد کے ڈھانچے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ایک جامع ریئل ٹائم سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے آگ سے بچاؤ، ارتعاش اور زلزلے کی نگرانی کی جا سکے گی اور بغیر خطرے کے کام کو آگے بڑھایا جاسکے گا۔