Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پر لڑکی بن کر نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی شکایت، چند جعلی اکاؤنٹ بند

Updated: July 20, 2026, 12:34 PM IST | Mumbai

گوونڈی میں رہنے والے ایک نوجوان کی سمجھداری کی وجہ سے نہ صرف وہ خود سائبر دھوکہ باز سے محفوظ ہوگیا بلکہ اس کی جانب سے کی جانے والی شکایت کی بنیاد پر سائبر پولیس نے چند جعلی سوشل میڈیا اکائونٹ بند بھی کردیئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گوونڈی میں رہنے والے ایک نوجوان کی سمجھداری کی وجہ سے نہ صرف وہ خود سائبر دھوکہ باز سے محفوظ ہوگیا بلکہ اس کی جانب سے کی جانے والی شکایت کی بنیاد پر سائبر پولیس نے چند جعلی سوشل میڈیا اکائونٹ بند بھی کردیئے ہیں۔

بابر شیخ (نام تبدیل کیا گیا ہے) نے اس نمائندے کو بتایا کہ اس چچا زاد بھائی، جو کالج میں زیر تعلیم ہے، کو ایک لڑکی کے سوشل میڈیا اکائونٹ سے رابطہ قائم کیا گیا اور پھر دھیرے دھیرے اس اکائونٹ سے اسے فحش تصویریں بھیجی جانے لگیں اور فحش باتیں کی جانے لگیں۔ اس کے علاوہ اس لڑکی کی طرف سے اس نوجوان کی فحش تصویریں بھیجنے کا مطالبہ کیا جانے لگا جس پر اسے شبہ ہوا تو اس نے اس اکائونٹ والے سے کئی سوالات کئے جس پر اس نے قسمیں کھا کر خود کو لڑکی ثابت کرنے کی کوششیں کیں اور یہ کہہ کر کسی لڑکی کی تصویریں بھی شیئر کیں کہ یہ اس کی ہی تصاویر ہیں۔ تاہم اس کی باتوں سے غیر مطمئن اور فحش گوئیوں سے پریشان اس نوجوان نے اپنے گھر کے بڑوں کو اس کی خبر دی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں ’انوملی‘ سے بچنے کیلئے کیا کریں؟

بابر کے مطابق انہوں نے خود بھی اس اکائونٹ کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کیں جس سے پتہ چلا کہ کوئی مرد لڑکیوں کی پروفائل بنا کر مختلف اکائونٹس کو چلا رہا ہے۔

بہر حال اس نوجوان کے اہلِ خانہ نے گوونڈی پولیس اسٹیشن میں جاکر اس کے تعلق سے شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو ان سے کہا گیا کہ یہ اکائونٹ اورنگ آباد سے چلایا جارہا ہے اور آپ کو اورنگ آباد سائبر کرائم میں اس کی شکایت کرنی پڑے گی۔اس پر انہوں نے آن لائن شکایت کرنے کے ساتھ نوجوان کے چچا کو اورنگ آباد بھیجا جنہوں نے وہاں جاکر اورنگ آباد سائبر کرائم میں شکایت درج کروائی۔ اس شکایت کی بنیاد پر کم ازکم ۳؍ سوشل میڈیا اکائونٹ بند کردیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہندوتوا کوئی ٹی شرٹ نہیں ہے... جب بھگوا گھٹا تو رام نام رٹنے لگے‘‘

اس پورے معاملے میں شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ عوام تک یہ پیغام پہنچے کہ فحش تصویروں اور فحش گوئیوں کے ذریعہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دھوکہ باز اللہ کی جھوٹی قسم کھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اگرچہ اس معاملے میں یہ نوجوان تو محفوظ ہوگیا اس لئے پتہ نہیں چل سکا کہ آیا ملزم نوجوانوں کو بلیک میل کرتا ہے یا دیگر طریقوں سے پریشان کرتا ہے اس لئے نوجوانوں کو خصوصیت سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ انجان افراد کے اکائونٹ سے پیغامات ملنے پر آسانی سے ان پر یقین نہ کریں کیونکہ بھروسہ جیتنے کے بعد نہ جانے کیا مطالبات کئے جائیں یا کن مصیبتوں میں پھنسا دیا جائے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK