Inquilab Logo Happiest Places to Work

گٹکھا کھا کر آنے والوں کا بی ایم سی اسپتالوں اور دفاتر میں داخلہ ممنوع

Updated: July 20, 2026, 12:36 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بی ایم سی ہائوس میں تجویز کو منظوری ملنے کے بعد عملدرآمد کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی کارروائی شروع۔ مریضوں کے رشتہ دار گٹکھا کھاکر اسپتال آتے ہیں تو داخلہ نہیں ملے گا۔

BMC headquarters building. Photo: INN
بی ایم سی ہیڈکوارٹر ز کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

گٹکھا اور پان وغیرہ کھاتے ہوئے آنے والے رشتہ داروں کو اب بی ایم سی کے اسپتالوں میں داخلہ نہیں دیا جائے گا جس کی وجہ سے مریضوں کی عیادت اور رشتہ داروں کے ذریعہ ان کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بی ایم سی کے ہائوس میں اسپتالوں کے ساتھ تمام بی ایم سی دفاتر میں بھی گٹکھا اور پان کھاکر آنے والوں کا داخلہ ممنوع قرار دینے کی تجویز کو بی ایم سی ہائوس میں منظوری دے دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پر لڑکی بن کر نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی شکایت، چند جعلی اکاؤنٹ بند

عمارتوں کی دیواروں، کونوں اور مختلف مقامات پر پان، تمباکو اور گٹکھے کے داغ کی وجہ سے نہ صرف یہ جگہیں بدنما نظر آتی ہیں بلکہ یہاں انتہائی گندگی بھی پھیلتی ہے۔ اگرچہ عوامی مقامات پر گٹکھا وغیرہ کھاکر تھوکنے پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے لیکن اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں میں جرمانہ عائد کیا جانا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں، سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں میں بھی دیواروں پر تھوکنے کے داغ نظر آتے ہیں۔ ان عمارتوں میں صاف صفائی رکھنے کی غرض سے بی ایم سی ہاؤس لیڈر گنیش کھنکر نے بی ایم سی ہاؤس میں تجویز پیش کی تھی کہ مریضوں سے ملنے کیلئے جو رشتہ دار پان گٹکھا وغیرہ کھاآکر آتے ہیں انہیں اسپتالوں میں داخلہ نہ دیا جائے اور سرکاری دفاتر میں بھی ایسے افراد کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔

ہائوس میں یہ تجویز منظور کرلی گئی ہے اور اس پر عملدرآمدکیلئے منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ ابتدائی تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ اسپتالوں کے تمام دروازوں پر موجود سیکوریٹی گارڈ کو ذمہ داری دی جائے کہ وہ دیکھیںکہ جو لوگ اسپتال آرہے ہیں وہ گٹکھا وغیرہ تو نہیں کھا رہے ہیں۔ اگر کوئی پان گٹکھا وغیرہ کھاتا پایا گیا تو انہیں اسپتال میں داخلہ نہ دیا جائے اور جن افراد کو داخلہ دیا جارہا ہے ان کی تلاشی میں اگر ان کے پاس پان گٹکھا وغیرہ کچھ پایا جاتا ہے تو اسے ضبط کرلیا جائے۔اسپتالوں کے گیٹ پر سیکوریٹی گارڈ کے علاوہ اس کام کیلئے فلائنگ اسکواڈ بھی تشکیل دیا جائے گا اور اس اسکواڈ کو بھی سرکاری عمارتوں اور اسپتالوں میں گٹکھا اور پان وغیرہ کھانے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں ’انوملی‘ سے بچنے کیلئے کیا کریں؟

اسپتالوں اور وارڈ آفسوں میں داخلے کیلئے بی ایم سی کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ قواعد تیار کئے جائیں گے۔ ان قواعد میں صرف عوام کے داخلے پر پابندی ہی نہیں بلکہ ان پر جرمانہ اور اگر کوئی تھوکتا پایا جائے تو جرمانہ کے ساتھ اس سے اس جگہ کو صاف کرانے کے اصول بھی تجویز کئے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK