Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ میں شدید ترین گرمی ، اسکولی طلبہ کا برا حال

Updated: April 19, 2026, 12:27 AM IST | Mumbai

ٹین کی چھت، پانی کی قلت، لوڈ شیڈنگ اوپر سے درجۂ حرارت کی سختی، طلبہ کے بیمار پڑنے اور کلاس میں غش کھاکر گرنے کے واقعات

A school with a tin roof where children study during the scorching heat
ٹین کی چھت والا ایک اسکول جہاں شدید گرمی کے دوران بچے پڑھائی کرتے ہیں( انقلاب)

ان دنوں ملک میں سب سے زیادہ گرمی ودربھ کے اکولہ ضلع میں پڑ رہی ہے ،جسکی وجہ سے بالخصو ص اسکولی طلبہ اور ان کے والدین بڑے پریشان ہیں ۔ شدید گرمی اور تیزدھوپ سے جسم میں پانی کم ہونے، قے، دست اور چکر آنے سے متعدد طلبہ اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ کچھ اسکولوں میں گرمی کی شدت برداشت نہ کر پانے سے طلبہ کے غش کھا کر گرجانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔  اطلاع کے مطابق چند اسکولوں میں گرمی سے نمٹنے کیلئے اساتذہ نے اپنے طور پر کولر اور مٹی کے مٹکے میں پینے کے پانی کا انتظام کیا ہے تاکہ طلبہ گرمی سے محفوظ رہ سکیں۔ گرمی کی اس سنگینی کے پیش نظر تعلیمی تنظیموں نے اس طرح کے علاقوں کے اسکول کا وقت صبح ۷؍ تا ۱۰؍ بجے کرنے کی اپیل کی ہے ۔
 اکولہ کےکھڈی چاندور ضلع پریشد پرائمری اسکول کے معلم سید شاہد نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ ’’ ان دنوں اکولہ ملک کا گرم ترین علاقہ ہے ۔ یہاں کا درجۂ حرارت ۴۰؍ سے ۴۵؍ ڈگری چل رہا ہے ،جس کی وجہ سے ضلع میں شدید گرم لہر چل رہی ہے ۔ حالانکہ ضلع کلکٹر نے ۱۰؍مارچ سے اسکول کا وقت صبح ۷؍ سے ۱۱؍بجے کر دیا ہے ،لیکن ۱۱؍بجے اسکول سے چھوٹنے پر جو بچے یا والدین تیز دھوپ میں گھر جانےکیلئے ۲۔۳؍ کلومیٹر کا سفر پیدل طے کر تے ہیں ،وہ دوپہر میں ایک بجے تک گھر پہنچتےہیں۔ شدید دھوپ میں ٹین کی چھت والی اسکول میں بیٹھنے ، لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی سپلائی متاثر ہونے ، بورنگ میں پانی کی سطح کم ہونے ، پینے کی پانی کی قلت اور اس طرح کے دیگر مسائل کی وجہ سے طلبہ کے جسم میں پانی کم ہونے ، قے ، دست اور لُو لگنے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ایسے ۸۔۱۰؍ طلبہ کو میں جانتا ہوں جو ان دنوں اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔ ‘‘  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ہمارے اسکول میں اوّل تا پنجم کے ۳۸؍ طلبہ ۲؍ کمروں میں بیٹھتے ہیں۔ ۲؍ میں سے ایک کمرہ ٹین کا ہونے سے طلبہ کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے ۔ علاوہ ازیں پانی کی قلت  ہے۔ ہم نے اپنے طور پر اس کمرہ کیلئے ایک کولر کا انتظام کیا ہے اور مٹی کے بڑے مٹکے لاکر رکھے ہیں۔ ان مٹکوں میں رات کو پانی بھر دیا جاتا ہے تاکہ اسکول کے اوقات میں طلبہ کو ٹھنڈا پانی پینے کیلئے مل سکے ۔‘‘
 پی ایم شری ضلع پریشد اُردو اسکول مہان (ضلع اکولہ ) کے معلم شفیق خان کے مطابق ’’ ہمارے اسکول میں اوّل تا آٹھویں جماعت کے ساڑھے ۳۰۰ ؍ طلبہ ہیں ۔شدید گرمی میں بجلی اور پانی کی کم فراہمی سے بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔گرمی کی وجہ سے بورنگ کا لیول گرنےسے طلبہ پینے کے پانی کیلئے پریشان ہیں ۔ گرمی میں ۲۴؍  گھنٹے اگر بجلی نہ ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طلبہ ٹین کی چھت والے اسکول میں کس طرح پڑھائی کرتے ہوںگے ۔ جو طلبہ گرمی کی شدت برداشت نہیں کر پاتے وہ بیمار پڑ جاتے ہیں ۔ دور درا ز علاقوں سے اسکول آنے والے طلبہ اور زیادہ پریشان ہیں ۔‘‘
 اکولہ کی ایک ضلع پریشد اسکول کے معلم نے بتایا کہ ’’ جمعرات کو ہمارے اسکول کی ایک طالبہ شدید گرمی کی وجہ سے غش کھا کر اسکول میں گر گئی ۔ طالبہ کو فوراً اُٹھا کر اسکے چہرے پر پانی چھڑکا گیا،کچھ دیر بعد آرام ملنے پر، والدین کوبلاکراسے گھر روانہ کیا گیا ۔‘‘اکھل بھارتیہ اُرد و شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ان دنوں ودربھ اور مراٹھواڑہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ گرمی کے علاوہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت سے اسکولی طلبہ بری طرح متاثر ہیں۔ کچھ اضلاع میں مقامی ایجوکیشن افسران نے ۱۰؍مارچ سے اسکول کا وقت صبح ۷؍ سے ۱۱؍بجے کر دیا ہے لیکن جس طرح کی شد یدگرمی پڑ رہی ہے ایسےمیں اس طرح کے دیگر علاقوں میں اسکول کا وقت صبح ۷؍سے ۱۰؍بجے کر دیا جائے تو بہتر ہے تاکہ دوردراز سے اسکول آنے والے طلبہ جلد اپنے گھر پہنچ سکیں ۔‘‘  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK