• Tue, 27 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا میں قانون کی حکمرانی کے بجائے جنگل راج عام ہو رہا ہے: انتونیو غطریس

Updated: January 27, 2026, 11:59 AM IST | New York

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی عالمی امن و سلامتی کی بنیاد اور اقوام متحدہ کے منشور کا اصل جوہر ہے لیکن اب دنیا بھر میں اس کی جگہ جنگل کا قانون عام ہو رہا ہے۔

Antonio Guterres. Photo: INN.
انتونیو غطریس۔ تصویر: آئی این این۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی عالمی امن و سلامتی کی بنیاد اور اقوام متحدہ کے منشور کا اصل جوہر ہے لیکن اب دنیا بھر میں اس کی جگہ جنگل کا قانون عام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر سلامتی کونسل کے عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے دھڑک لاپروائی کے مظاہر اب عام دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ سے یوکرین، ساہل، میانمار اور وینزویلا تک دنیا بھر میں قانون کے حوالے سے من چاہا طرزعمل نظر آتا ہے۔ رکن ممالک بے خوف و خطر عالمی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس میں طاقت کا غیر قانونی استعمال، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا، انسانی حقوق کی پامالی، جوہری ہتھیاروں کی غیر قانونی تیاری، غیر آئینی تبدیلیاں اور جروری انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ قانون کی ایسی پامالیوں سے خطرناک مثال قائم ہوتی ہے اور رکن ممالک کے درمیان عدم اعتماد اور تقسیم کو ہوا ملتی ہے۔ 
منصفانہ و پائیدار امن 
سیکرٹری جنرل نے تنازعات کی علامات کے بجائے ان کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے میں معاون منصفانہ اور پائیدار امن کیلئے اپنی انتھک کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ تمام لازم فیصلے کرتا ہے۔ اس کی ذمہ داری منفرد اور اس کا دائرہ کار عالمی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کونسل میں اصلاحات ناگزیر ہیں جن کیلئے بلا تاخیر اقدامات کئے جانے چاہئیں تاکہ اس ادارے کی نمائندگی اور تاثیر کو مضبوط بنایا جا سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پیرس: لوور میوزیم ایک بار پھر ہڑتال کے باعث بند، ایک ملین یورو سے زائد نقصان

تین نکاتی لائحہ عمل 
سیکرٹری جنرل نے قانون کی عملداری کے مستقبل سے متعلق تین نکاتی لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
رکن ممالک اپنے وعدوں کو پورا کریں۔ 
تنازعات کو حل کرنے کے ان طریقہ ہائے کار سے فائدہ اٹھایا جائے جو اقوام متحدہ کے منشور میں موجود ہیں تاکہ جنگوں کو آغاز سے پہلے روکا جا سکے۔ 
منصفانہ اور آزاد عدالتی طریقہ کار کو فروغ دیا جائے۔ 
انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام اور اقوام متحدہ کے منشور میں درج وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کے عزم کی تجدید کریں اور اس حوالے سے سلامتی کونسل کے ارکان پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ 

عالمگیر خطرات اور اجتماعی ردعمل 
اسی اجلاس میں افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے کثیرالفریقی نظام کیلئے افریقی یونین کے عزم کی توثیق کرتےہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، دور حاضر کے مسائل کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا جن میں دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، وبائیں، غربت اور عدم تحفظ شامل ہیں۔ یہ خطرات سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے اور بین الاقوامی قانون سمیت بامعنی اور حقیقی تعاون پر مبنی اجتماعی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کیلئے افریقہ کا عزم محض اصولی نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام میں علاقائی تنظیموں کے کردار کو بھی سراہا اور دنیا بھر میں قیام امن کیلئے اقوام متحدہ کی کارروائیوں میں افریقی ممالک کی مسلسل کوششوں اور اہم خدمات کا اعتراف کیا۔ 
سلامتی کونسل میں افریقی نشست 
انہوں نے سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ۸ء۱؍ ارب آبادی اور۵۵؍ رکن ممالک پر مشتمل ایک براعظم کے پاس اس ادارے میں مستقل نشست نہیں جو اس کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ صرف افریقہ کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ خود کونسل کی ساکھ اور تاثیر کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کونسل میں مستقل نشست کیلئے افریقی اتفاق رائے، تمام اختیارات بشمول ویٹو اور پانچ غیر مستقل نشستوں کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراعات کا سوال نہیں بلکہ ایک تاریخی ناانصافی کے ازالے کا معاملہ ہے۔ اس موقع پر افریقی ادارہ برائے بین الاقوامی قانون کے بانی صدر اور عالمی عدالت انصاف کے سابق جج عبدالقوی یوسف نے کونسل کو بتایا کہ قانون کی حکمرانی پر یہ گفتگو نہایت موزوں اور بروقت ہے۔ قواعد و ضوابط کے بغیر دنیا اور عدم تحفظ و انتشار کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK