Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیس بک ویری فکیشن اسکیم: ہزاروں اکاؤنٹس ہیک، ماہرین کی وارننگ

Updated: May 04, 2026, 9:03 PM IST | California

میٹا پلیٹ فارمز کے پلیٹ فارم فیس بک ایک نیا اسکیم سامنے آیا ہے جو صارفین کو مفت ’’بلیو ویریفائیڈ بیج‘‘ دینے کا لالچ دے کر ان کے اکاؤنٹس ہیک کر رہا ہے۔ سیکوریٹی کمپنی Guard.io کے مطابق اب تک ۳۰؍ ہزار سے زائد اکاؤنٹس متاثر ہو چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملہ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کیا جا رہا ہے اور خاص طور پر کاروباری اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

عالمی سطح پر سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک نیا خطرہ سامنے آیا ہے، جہاں فیس بک کے صارفین کو ایک جدید اور انتہائی منظم اسکیم کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس اسکیم میں صارفین کو مفت ویریفائیڈ ’’بلیو ٹک‘‘ دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک فشنگ حملہ ہے جو ان کے اکاؤنٹس پر قبضہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم میٹا پلیٹ فارمز کی ملکیت ہے، جو ویری فکیشن کے لیے ایک باقاعدہ اور باضابطہ نظام فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ہیکرز نے اسی خواہش کو ہتھیار بنا لیا ہے جو صارفین میں اس نیلے نشان کے لیے موجود ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کیلئے نیا قانون بنانے کا اعلان

سائبر سیکوریٹی فرم Guard.io کے محققین نے اس حملے کو ٹریک کیا اور اسے ’’اکاؤنٹ ڈمپلنگ‘‘ کا نام دیا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ۳۰؍ ہزار سے زائد اکاؤنٹس ہیک کیے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسکیم بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اسکیم کے پیچھے ایک ویتنامی ہیکر گروپ کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ہائی ویلیو اکاؤنٹس جیسے کاروباری صفحات، انفلوئنسرز اور اشتہاری اکاؤنٹس کو نشانہ بنانا ہے۔ ہیکرز ان اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرنے کے بعد ڈجیٹل بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں، جہاں ان کی قیمت کافی زیادہ ہوتی ہے۔ اس حملے کی سب سے خطرناک بات اس کا طریقہ کار ہے۔ عام فشنگ ای میلز کے برعکس، جو اکثر مشکوک لگتی ہیں، یہ ہیکرز گوگل کے ایک مصدقہ ٹول گوگل ایپ شیٹ کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس ٹول کے نوٹیفکیشن سسٹم کے ذریعے بھیجے گئے ای میلز بالکل اصل اور قابلِ اعتماد دکھائی دیتے ہیں، جس سے صارفین کو دھوکہ دینا آسان ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے امریکہ کی ’اسپرٹ‘ ایئر لائن بند ہو گئی

ہیکرز نفسیاتی حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ صارفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے یہ پیغام بھیجتے ہیں کہ ان کا اکاؤنٹ قواعد کی خلاف ورزی یا کاپی رائٹ مسئلے کی وجہ سے بند کیا جا رہا ہے۔ دوسری صورت میں، وہ لالچ دے کر مفت ویری فکیشن بیج کی پیشکش کرتے ہیں، جس سے صارفین جلدی میں لنک پر کلک کر دیتے ہیں۔ ایک بار جب صارف اس لنک پر کلک کرتا ہے اور اپنی لاگ ان تفصیلات درج کرتا ہے، تو ہیکرز فوری طور پر اکاؤنٹ پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اکاؤنٹ کا کنٹرول حاصل کر کے اسے فروخت کر دیتے ہیں یا مزید دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کشیدگی میں نمایاں اضافہ

ماہرین نے صارفین کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ نامعلوم یا مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں، خاص طور پر وہ جو فوری ایکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کسی بھی ویری فکیشن یا اکاؤنٹ اپڈیٹ سے متعلق پیغام کو ہمیشہ فیس بک کے آفیشل چینلز کے ذریعے تصدیق کرنا چاہیے۔ مزید برآں، صارفین کو اپنی ذاتی معلومات یا پاس ورڈ کسی بھی غیر مصدقہ ویب سائٹ پر شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سائبر سیکوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اسی طرح آن لائن دھوکہ دہی کے طریقے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے صارفین کو پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈجیٹل دنیا میں معمولی سی لاپرواہی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK