Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کیلئے نیا قانون بنانے کا اعلان

Updated: May 04, 2026, 1:55 PM IST | Tehran/Washington

ایران کے مطابق دشمن ملکوں کے جہازوں کو اس وقت تک گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ جنگ کا ہرجانہ ادا نہ کر دیں۔

Iran`s Deputy Speaker Ali Nikzad speaking. Photo: INN
ایران کے نائب اسپیکر علی نیکزاد خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این

ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لئے نیا قانون بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ایران کے نائب اسپیکر کا کہنا ہے کہ ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مجوزہ بل کے تحت دشمن ملکوں کے جہازوں کو اس وقت تک آبنائے ہرمزسے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ جنگ کا ہرجانہ ادا نہ کر دیں۔ دیگر ممالک کے جہاز ایران سے پیشگی اجازت اور منظوری حاصل کرنے کے بعد گزر سکیں گے۔

ایرانی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے مستقل طور پر روک دیا جائے گا جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو صرف اسی صورت میں گزرنے کی اجازت ہوگی جب وہ جنگی ہرجانہ ادا کریں۔ اس منصوبے کے تحت اس آبی گزرگاہ کو ایرانی ’انتظام‘ میں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق علی نیکزاد، جو ایرانی پارلیمان کے پہلے نائب اسپیکر ہیں، نے بندر عباس کے دورےمیں پارلیمنٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے اراکین سے گفتگو میں کہا کہ ۱۲؍ نکاتی منصوبے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو کسی بھی وقت گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا جاسکا: رپورٹ

انہوں نے کہا کہ دشمن ممالک کے جہازوں کو بھی اس وقت تک آبنائےہرمز عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا نہ کریں۔ انہوں نے اسرائیل کے علاوہ کسی اور ملک کا نام نہیں لیالیکن ایرانی حکام ماضی میں اسی طرح کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے بعض عرب اتحادیوں کو دشمن ریاستیں قرار دیتے رہے ہیں۔امریکہ کی قیادت میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے ۲؍ ماہ بعد بھی یہ اہم آبی گزرگاہ بند ہےجس کے باعث دنیا کی تقریباً ۲۰؍ فیصد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائےہرمز اس وقت مؤثر طور پر بند ہو گئی جب ایران نے خلیج فارس میں اپنے عرب ہمسایہ ممالک پر جوابی حملے شروع کئے۔

اسی دوران ایرانی شوریٰ کونسل کی تعمیر نو کمیٹی کے سربراہ محمد رضا رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ایران کے سرکاری چینل العالم ٹی وی کے مطابق رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ایرانی عوام کا مطالبہ ہے اور ہم اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ایرانی رکن پارلیمنٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے انتظام کے منصوبے کے تحت جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا ۳۰؍ فیصد فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ممدانی کی قیادت میں نیویارک نے کروڑوں ڈالر کے ہندوستان کے لوٹے گئے نوادرات واپس کئے

دریں اثناءامریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط سے دستبردار ہوگیا ہے۔اخبار کے مطابق ایران نے اپنی شرائط میں نرمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرنے کی ضمانت دے تو بات چیت ہوسکتی ہے۔پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھیجی گئی نئی تجاویز میں جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام پر بات چیت تاحال مؤخر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK