Inquilab Logo Happiest Places to Work

معروف صحافی اور ماہنامہ ’’گل بوٹے‘‘ کے مدیر فاروق سید کا انتقال

Updated: May 20, 2026, 10:07 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کم و بیش دو ماہ سے شدید طور پر علیل تھے۔ تدفین آج بعد نمازِ ظہرناریل واڑی قبرستان میں ہوگی۔

Farooq Syed, Popular In Academic, Literary And Social Circles.Photo;INN
علمی ، ادبی اور سماجی حلقوں میں مقبول فاروق سید- تصویر:آئی این این
ملک کے معروف صحافی اور ماہنامہ گل بوٹے کے مدیر فاروق سید طویل علالت کے بعد منگل کی شام تقریباً سات بجے اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ دو ماہ قبل وہ عمرہ کیلئے گئے تھے۔ وہیں انہیں برین ہیمریج ہوا، قدرے افاقہ ہونے اور ممبئی واپسی کے بعد اُنہیں مقامی اسپتال داخل کرایا گیا۔ ایک سے دوسرے اسپتال میں علاج کے باوجود اُن کی طبیعت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر ۵۸؍ سال تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ فاروق سید کی نماز جنازہ آج (بدھ کو) بعد نمازِ ظہر ادا کی جائیگی، بعد ازاں ناریل واڑی قبرستان میں ان کا جسد خاکی سپرد خاک کیا جائیگا۔ 
فاروق سید نہ صرف عمدہ صحافی بلکہ فروغِ اُردو کے علمبردار تھے۔ تعلیم و ترقی کے باب میں نئی نسل کی ذہن سازی کو ضروری سمجھتے ہوئے نیز اُن میں مطالعہ کا ذوق پروان چڑھانے کے مقصد سے اُنہوں نے ۱۹۹۶ء میں ’’گل بوٹے‘‘ جاری کیا تھا۔ اس ماہنامہ نے نہایت کم وقت میں خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس پرچہ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک نسل جوان ہوچکی ہے۔ فاروق کا آبائی وطن شولاپور تھا۔ اُنہوں نے پہلے مہاراشٹر کالج سے تعلیم حاصل کی اور پھر  کے سی کالج سے ڈپلوما اِن جرنلزم کیا تھا۔ معاشی جدوجہد کے ابتدائی دَور میں انہوں نے کئی کام کئے مگر پھر روزنامہ ’’اُردو ٹائمز‘‘ میں باقاعدہ ملازمت کی۔ وہ ’’اُردو مہانگر‘‘ سے بھی وابستہ رہے مگر اُن کی شناخت کا اصل ذریعہ اُن کا اپنا پرچہ ’’گل بوٹے‘‘ بنا جو ربع صدی تک باقاعدہ شائع ہوتا رہا۔ حالیہ برسوں میں اُنہوں نے اس کے نیٹ ایڈیشن پر محنت کی اور طباعتی سلسلہ موقوف کردیا۔ اُنہیں بچوں سے بے حد لگاؤ تھا۔ طلبہ کے بہتر مستقبل کیلئے وہ خود اسکولوں اور کالجوں میں جاتے۔ تعلیمی تقریبات میں بھی اُن کی موجودگی اہمیت کی حامل ہوا کرتی تھی۔ ’’جشن بچپن‘‘ کے ذریعہ انہوں نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا جو انوکھی نوعیت کا تھا۔ ممکن تھا کہ یہ سلسلہ مزید شہروں تک پہنچتا  حتیٰ کہ اس کا انعقاد بیرونِ ملک کیا جاتا اور اس کی مقبولیت کا دائرہ وسیع تر ہوتا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
 
 
فاروق سید کی سب سے بڑی خوبی اُن کی اختراع پسندی تھی۔ وہ ہٹ کر سوچنے کے قائل تھے۔ اِس کی ایک مثال ’’جشن بچپن‘‘ ہے۔ ایسی ہی ایک مثال تب قائم ہوئی تھی جب شولاپور میں اُنہوں نے ’’اُردو میلہ‘‘ کا انعقاد کیا تھا۔ اس سلسلے کو کافی سراہا گیا جس میں اسکولی طلبہ کی رَیلی نکالی جاتی اور گلی محلوں میں اُردو کے نعرے گونجتے تو ہر خاص و عام کو متوجہ کرتے۔ اُردو میلہ میں مختلف عنوانات کے تحت سمینار، مباحثے، مقابلے، کوئز اور کل ہند مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ بعد ازیں اسی انداز کے میلے دیگر شہروں میں بھی منعقد کئے گئے۔ فاروق سید جلسوں کی نظامت بھی نہایت عمدگی کے ساتھ انجام دیا کرتے تھے۔ اُن کی نظامت کی خاص بات وہ ادبیت تھی جو جلسے کی قدر افزائی میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ فاروق نہایت اُصول پسند اور غیور انسان تھے۔ ’’گل بوٹے‘‘ کے اداریوں کے دو مجموعے اب تک شائع ہوچکے ہیں۔ 
 
 
مرحوم فاروق سید لوگوں کو چاہنے اور چاہے جانے والی شخصیت تھے۔ اسی لئے کل جب اُن کے انتقال کی خبر مشتہر ہوئی تو شہر کے علمی ادبی حلقوں پر گویا سکتہ طاری ہوگیا تھا۔ بہت سے متعلق فوراً اسپتال پہنچے جبکہ دیگر نے اُن کی رہائش گاہ پر پہنچ کر اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK