Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرض کے سبب گردہ بیچنے والے کسان نے خود کشی کی اجازت طلب کی

Updated: April 05, 2026, 10:17 AM IST | Ali Imran | Mumbai

کسان نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا، حکومت کے اعلان کے باوجود ساہوکاروںکے خلاف کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

The condition of farmers is unspeakable these days. (File photo)
کسانوں کی حالت ان دنوں ناگفتہ بہ ہے۔ (فائل فوٹو)

غیر قانونی ساہوکاروں کے چنگل میں پھنس کر قرض کی ادائیگی کے لئے اپنا گردہ بیچنے پر مجبور ہونے والے کسان روشن کُوڑے، نے اب ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ سے موت کی اجازت مانگی ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر پوری ریاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ چندر پور ضلع کے مِنتھور کے ایک کسان روشن کُوڑے نے ساہوکاروں کے دباؤ میں قرض کی ادائیگی کے لئے کمبوڈیا جاکر اپنا ایک گردہ فروخت کردیا تھا، یہ معاملہ دسمبر ۲۰۲۵ ءمیں سامنے آیا تھا۔ یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد اسمبلی سے لے کر پوری ریاست میں اس معاملے کی گونج سنائی دی تھی، سیاسی رہنماؤں نے اس کسان سے ملاقات کی اور اُسے انصاف دلانے کی یقین دہانی کراوئی۔ یہی نہیں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بھی اِن ساہوکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور اُن کے اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، کسان روشن کُوڑے کا الزام ہے کہ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود، کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ مالی تنگی سے پریشان ایک گردے پر زندگی کاٹ رہے روشن کُوڑے نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر موت کی بھیک مانگی ہے۔ ضلع کلکٹر کے توسط سے وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں روشن کُوڑے نے کہا ہے کہ حکومت نے میرے ساتھ ہوئی ناانصافی پر ایکشن لینے کا وعدہ کیا تھا، حکومت کی مداخلت سے مجھے انصاف ملنے کی امید تھی۔ فی الحال میری زندگی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ اب میرے پاس جینے کا کوئی ذریعہ نہیں بچا۔ میرے گھر والوں کی حالت بہت دگرگوں اور قابل رحم ہے۔ ساہوکاروں نے مجھ پر دباؤ ڈال کر پوری زرعی زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستانی کاسمیٹک اشیاء فروخت کرنے کا الزام، ۲؍ دکاندار گرفتار

انہوں نےکہا’’ ساہوکار نے میرے والد کی ۰ء۴۵؍ ہیکٹر زمین اپنے نام کرلی اور ایک بروکر کے ذریعے باقی بچی ہوئی ۰ء۹۹؍ ہیکٹر زمین بھی ساہوکار نے اپنی بیوی کے نام کرلی۔ یہ ہماری مرضی کے خلاف اور زبردستی کیا گیا، مجھے اپنا گردہ بیچنے پر مجبور کیا گیا۔ میں ایک گردے پر جی رہا ہوں۔ اگرچہ میرے معاملے میں فوجداری کارروائی ہوئی ہے تاہم وزیر اعلیٰ کے حکم کے مطابق ملزمین کے اثاثے منجمد نہیں کئے گئے۔ میرے کھیت مجھے واپس نہیں کئے گئے۔ میں چار ماہ سے انصاف کیلئے در در بھٹک رہا ہوں لیکن کوئی فریاد نہیں سن رہا۔ اس لئے مجھے اپنی زندگی ختم کرنے کی اجازت دی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK