Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرض معافی اسکیم کیخلاف کسانوں کا احتجاج، ایس ٹی میں آگ لگائی

Updated: June 18, 2026, 1:30 PM IST | Buldhana

کسان لیڈر روی کانت توپکر ۳؍ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں مگر انتظامیہ نے کوئی خبر نہیں لی، ناراض کسان سڑکوں پر اتر آئے۔

Ravi Kant Topkar`s (center) condition has deteriorated. Photo: INN
روی کانت توپکر (درمیان) کی حالت بگڑ گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

حکومت کے قرض معافی کے اعلان سے کسان خوش نہیں ہیں بلکہ وہ اس اسکیم کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ اس میں کچھ ایسی شرائط عائد کی گئی ہیں جن کی وجہ سے بہت کم کسان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ نتیجتاً ریاست کے مختلف حصوں میں کسان اس قرض معافی کے اعلان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ مشہور کسان لیڈر روی کانت توپکر بھی  بلڈانہ میں واقع اپنے گھر کے سامنےبھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ بدھ کو اس بھوک ہڑتا ل کا تیسرا دن تھا۔ ان کے اس احتجاج کو ریاست گیر حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ البتہ لگاتار ۳؍ دن بھوک ہڑتال کے باوجود انتظامیہ نے ان کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے کسانوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور وہ سڑکوں پر اتر آئے۔ اطلاع ہے کہ اس دوران مشتعل کسانوں نے ایک ایس ٹی بس میں آگ لگا دی۔  

یہ بھی پڑھئے: شہر و مضافات میں مختلف مقامات پر محرم کا وعظ اور مجالس کا انعقاد

ادھر روی کانت توپکر نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے جو قرض معافی کا اعلان کیا ہے وہ دھوکہ دہی ہے۔ حکومت کی جابرانہ شرائط کی وجہ سے بہت سے اہل کسان قرض معافی سے محروم ہو جائیں گے، اسلئے ان کا مطالبہ ہے کہ تمام کسانوں کو بغیر کسی شرط کے فوری طور پر قرض معافی دی جائے۔اسی کیلئے انہوں نےغیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ توپکر کے احتجاج کوودربھ اور مراٹھواڑہ میں کسانوں کی طرف سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔ ان کی حمایت میں کسان اور عام کارکنان سڑکوں پر اتر آئے۔  انہوں نے بلڈانہ۔ اورنگ آباد  ہائی وے پر واقع دھڑ کے مقام پر ٹائر جلا کر سڑک کو بلاک کر دیا ۔ دیگر علاقوں میں بھی توپکر کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ ایک جگہ کچھ مشتعل مظاہرین نے ایک ایس ٹی بس کو میں آگ لگادی۔ حالانکہ اس آتشزنی کے سبب کسی طرح کے انسانی نقصان کی خبر نہیں ہے لیکن اس سے کسانوں کی ناراضگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر قرض معافی بل میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔  

 توپکر کی بیوی نے بھیک مانگ کر احتجاج کیا

 دریں اثنا، روی کانت توپکر کی بیوی ایڈوکیٹ شروری توپکر نے ایک انوکھا احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومت کے پاس کسانوں کیلئے فنڈ نہیں ہے اس لئے وہ اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر بھیک مانگیں گی اور جو پیسے جمع ہوں گے وہ حکومت کو بھجوائیں گی تاکہ وہ کسانوں کی قرض معافی کر سکے۔ شروری اور ان کے کارکنان نے  پورا دن بلڈانہ میں بھیک مانگ کر احتجاج کیا۔ بعد میں اس احتجاج کے ذریعے جمع ہونے والی رقم کو ضلع کلکٹر کے حوالے کر دیا گیا۔اس احتجاج کا ریاست بھر میں خوب چرچا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو ایران پر حملے اور سعودی سے تعلقات استوار کرنے کے جنون میں مبتلا: کلنٹن

روی توپکر کی طبیعت بگڑی  

اس دوران یہ خبر سامنے آئی ہے کہ بھوک ہڑتال کے تیسرے دن روی کانت توپکر کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ وہ اپنے جسم میں شوگر کی سطح کم ہونے کی وجہ سے کمزوری محسوس کر رہے ہیں اور ڈاکٹروں کی جانب سے ان کی صحت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم، توپکر اپنی خراب صحت کے باوجود اپنے موقف پر قائم ہیں۔ اب کسان تنظیموں اور حامیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر کسانوں کے مسائل پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور احتجاج کا نوٹس لے۔یاد رہے کہ اس معاملے میں دیگر تنظیمیں بھی احتجاج کر رہی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK