Inquilab Logo

دہلی چلو آندولن: کسان مظاہرین نے حکومت کی تجویز مسترد کی

Updated: February 20, 2024, 4:00 PM IST | New Delhi

دہلی چلوآندولن میں موجود کسان مظاہرین نے حکومت کی جانب سے ۵؍ فصلوں کیلئے اقل ترین قیمت کی تجویز مسترد کی ہے۔ کسانوں کے مطابق یہ تجویز ان کے مفاد میں نہیں ہے اور وہ بدھ کو پر امن طریقے سے دہلی کی جانب مارچ کریں گے۔ سمیوکت کسان مورچا نے حکومت کی تجویز کو کسانوں کے مطالبات کو کمزور کرنے اور ان کا رخ موڑنے کی کوشش قرار دیا۔

Farmers are sitting near the Shambhu border. Photo: PTI
کسان شمبھو سرحد کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

دہلی چلو آندولن میں موجود کسانوں نے آج مرکزی حکومت کی۵؍ سال تک حکومتی ایجنسیوں کو  گیہوں، دال اور کاٹن اقل ترین قیمتوں پر فروخت کرنے کی تجویز مسترد کی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کسانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کو نئی دہلی کی جانب مارچ کریں گے۔ اس حوالے سے کسان مزدور مورچا کے لیڈر سرون سنگھ نے کہا کہ ہم نےحکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ یاتو ہمارے معاملات حل کرے یا تو بیریکیڈس ہٹا کر ہمیں نئی دہلی کی جانب مارچ کرنے دے۔

کسان تقریر سنتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی
واضح رہے کہ مرکزی وزراء کے ساتھ کسان لیڈران کی گفتگو کے چوتھے مرحلے میں تین مرکزی وزراء کے وفد نے کسانوں سے معاہدہ کرنے سے قبل اتوار کوکسانوں کوتجویز پیش کی تھی کہ حکومتی ایجنسیاں ۵؍ سال تک کسانوں سے  گیہوں، دال اور کاٹن اقل ترین قیمت پر خریدنے کیلئے تیار ہیں۔پیر کو سمیوکت کسان مورچا نے حکومت کی یہ تجویز مسترد کی اور کہا ہے کہ یہ کسانوں کے مطالبات کو کمزور کرنے اور اس کارخ موڑنے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت کی پیشکش پر کسانوں کا احتجاج کل تک کیلئے موقوف

انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سوامی ناتھن کے وضع کردہ فارمولے کے مطابق اقل ترین قیمت کیلئے ’’سی ۲؍ پلس ۵۰؍ فیصد‘‘ فارمولے سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔پیر کی شام کو، جگجیت سنگھ دالیوال ، سمیوکت کسان مورچا کے لیڈر، نے کہاتھا کہ ہمارے ۲؍ فارمس کے ساتھ گفتگو کے بعد یہ طے پایا ہے کہ حکومت کی تجویز کسانوں کے مفاد میں نہیں ہے اسلئے ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ہم ۲۱؍ فروری کو صبح ۱۱؍ بجے پر امن طریقے سے دہلی میں داخل ہوں گے۔حکومت کو تب ہی فیصلہ کرنا چاہئے جس کے بعد کسی گفتگو کی ضرورت محسوس ہی نہ ہو۔انہوں نے حکومت کی تجویز کو نہ قبول کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومت کی تجویز میں کچھ بہترین نہیں لگا۔مرکزی وزراء کے ساتھ گفتگو کے چوتھے مرحلے میں انہوں نے کہا کہ حکومت اگر حکومت دالوں پراقل ترین قیمت کی گارنٹی دیتی ہے تو اس سے سرکاری خزانے پر۵۰ء۱ ؍لاکھ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔انہوں نے زراعتی ماہر کے ککیلکیولیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمام فصلوں کیلئے اقل ترین قیمت دی جارہی ہے تو ۷۵ء۱؍ لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی۔

حکومت نے ۷۵ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے کا پام تیل خریدا ہے۔ یہ تیل متعدد لوگوں کیلئے بیماری کی وجہ بنا ہے۔ اس کے باوجود بھی اسے درآمدکیا جا رہاہے۔ بجائے اس کے اگر اقل ترین قیمت پر قانونی گارنٹی دے کر دیگر فصلیں اگانے کیلئے ۷۵ء۱؍ لاکھ روپے کی قیمت دی جائے تو اس سے حکومت پر بوجھ نہیں بڑھے گا۔حکومت کی ۵؍ فصلوں کیلئے اقل ترین قیمت کی تجویز صرف ان کیلئے کارآمد ہے جو فصلوں کے تنوع کی طرف جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایم ایس پی صرف ان لوگوں کو دیا جائے گا جنہوں نے اپنی فصلوں کودھان سے دالوں میں تبدیل کیا ہے۔ایم ایس پی انہیں دیا جائے گا جو دھان کے علاوہ مونگ کی بھی فصل کاشت کر رہے ہیں۔کسانوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں حاصل ہونے والاہ ے۔ کسان پورے ۲۳؍ فصلوں کیلئے اقل ترین قیمت کی مانگ کر رہے ہیں اور اقل ترین قیمت سی اے سی پی پر مبنی ہے۔ 

کسان لیڈران ہریانہ کی سرحد پر۔ تصویر: پی ٹی آئی
دالیوال نے دعویٰ کیا کہ فصلوں کی قیمت، جو سی اے سی پی کی تجویز کے مطابق ہے، کسانوں کیلئے نفع بخش آمدنی کی یقین دہانی نہیں کرواتیں۔ اس کے باوجود بھی وہ اقل ترین قیمت پرقانون نہیں لا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسانون کولوٹا جا رہاہے جو ہمیں قبول نہیں ہے۔
کسان لیڈران نے کہا کہ میٹنگ میں تجویز یہ تھی کہ ملک بھرمیں کسانوں سے ۵؍ فصلیں اقل ترین قیمت پر خریدی جائیں گی لیکن یہ صرف ان کیلئے فائدہ مند ہے جو دھان کی فصلوں سے متنوع ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر جدید ضابطہ اخلاق نافذ ہو جاتا ہے تو کسانوں کی اگلی حکمت عملی کیا ہو گی تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ بیٹھ کر گفتگو کریں گے اور فیصلہ کریں گےکہ احتجاج کو کیا شکل دی جانی چاہئے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی بحالی کے تعلق سے دالیوال نے کہا کہ اس فیصلے کے سبب ان طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو امتحانات کی تیار ی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان میں میٹنگ میں مدعو کرنے کی اہم وجہ یہ تھی کہ ریاستی سرحدوں پر لگائے گئےبیریکیڈس کے مسئلے کو اجاگر کیا جائےاور پنجاب کے عوام کو ریاستی ٹریٹری کے اندر آنسو گیس کے گولے کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔