Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’گوداوری ندی میں گاڑی گرانے سے قبل باپ نے دونوں بچوں کو قتل کیا تھا‘‘

Updated: July 20, 2026, 10:21 AM IST | Z. A. Khan | Nanded

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف۔ پولیس کے مطابق سنیل مورے واقعہ سے ایک دن پہلے بچوں کو لے کر نکل گیا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

یہاں  سے قریب آمدورا میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والےواقعہ کی تفتیش میں اہم انکشاف ہوا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دونوں بچوں کی موت گوداوری ندی میں ڈوبنے سے نہیں بلکہ چاقو کے وار سے ہوئی تھی۔ رپورٹ سے واضح ہوا ہے کہ سرکاری اسکول کے استاد سنیل مورے نے گاڑی کو ندی میں گرانے سے قبل اپنے دونوں بچوں کو چاقو سے قتل کر دیا تھا۔اس انکشاف کے بعد سنیل مورے کے مجموعی رویّے اور اس واقعہ کے پس منظر پر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ناندیڑ دیہی پولیس نے اس معاملے میں مہلوک سنیل مورے کے خلاف قتل کا کیس درج کر لیا ہے ۔

پولیس کے مطابق سنیل مورے واقعہ سے ایک دن پہلے ہی اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے کر گھر سے نکل گیا تھا۔ اس کی بیوی نے جمعرات کی رات ہوائی اڈہ پولیس اسٹیشن میں شوہر اور بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی دی تھی لیکن پوری رات تلاش کرنے  کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اگلی صبح پیش آنے والے اس واقعہ میں دونوں معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: کئی دَل بدلیوں کے بعدآج سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس

واضح رہے کہ جمعہ کی صبح ناندیڑ کے قریب پونے گاؤں اور آمدورا کے درمیان گوداوری ندی میں ایک کار گرنے سے سنیل مورے، اس کی بیٹی سارا اور بیٹا سمیت تینوں کی موت ہو گئی تھی۔ ابتدائی طور پر اسے خودکشی کا معاملہ سمجھا جا رہا تھا کیونکہ سنیل مورے نے اپنے وہاٹس ایپ اسٹیٹس پر لکھا تھا کہ وہ محکمۂ تعلیم کے بعض افسران کی   ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کر رہا ہے۔تاہم اب پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس معاملے کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سارا اور سمیت کے جسم پر چاقو کے گہرے زخم تھے اور ان کی موت انہی زخموں کی وجہ سے ہوئی، نہ کہ پانی میں ڈوبنے سے۔ اس سے یہ بات تقریباً واضح ہو گئی ہے کہ بچوں کو پہلے قتل کیا گیا اور بعد میں گاڑی سمیت ندی میں گرایا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سنیل مورے نے اپنے وہاٹس ایپ اسٹیٹس میں یہ بھی لکھا تھاکہ ’’  دوستو! مجھے معاف کر دینا، میں اپنے بچوں کو ختم کر کے خود بھی خودکشی کر رہا ہوں۔ ‘‘ اس بیان کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے رات ہی میں بچوں کو قتل کر دیا تھا اور اس کے بعد کئی گھنٹے تک مختلف مقامات پر گھومتا رہا یا کہیں رکا رہا۔عینی شاہدین کے مطابق ایک نیلے رنگ کی کار پہلے پونے گاؤں سے آمدورا کی طرف تیز رفتاری سے گئی  پھر واپس پونے گاؤں کی سمت آئی  اور دوبارہ آمدورا کی طرف جاتے ہوئے پل کی حفاظتی دیوار توڑ کر سیدھی گوداوری ندی میں جا گری۔ پولیس کا شبہ ہے کہ بچوں کی لاشیں گاڑی میں موجود تھیں اور سنیل مورے نے اسی مقام کو اپنی منصوبہ بندی کیلئے منتخب کیا تھا۔ اس پہلو سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔واقعے کے بعد متعدد افراد نے سنیل مورے کے وہاٹس ایپ اسٹیٹس کو دیکھ کر اسے فون کیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس دوران فون پر صرف سنیل مورے ہی بات کر رہا تھا، بچوں کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK