Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی خواب کی کشش کم ہونے لگی، ہندوستانی طلبہ کی بڑی تعداد یورپ کا رخ کرنے لگی

Updated: July 20, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کے بجائے یورپ کا انتخاب کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں سخت امیگریشن قوانین، بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات اور ویزا پالیسیوں میں تبدیلی نے طلبہ کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے، جبکہ یورپی یونین اور ہندوستان کے درمیان حالیہ تعاون نے یورپ کو مزید پرکشش بنا دیا ہے۔

Changes in US visa policies have forced students to seek alternative routes. Photo: INN
امریکی ویزا پالیسیوں میں تبدیلی نے طلبہ کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کو اولین منزل سمجھنے کی طویل روایت اب تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہندوستان کے ہزاروں طلبہ اب امریکہ اور کنیڈا کے بجائے یورپی ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جہاں کم تعلیمی اخراجات، بہتر صنعتی روابط اور تعلیم کے بعد ملازمت کے واضح مواقع انہیں اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ چنئی سے تعلق رکھنے والے ۲۲؍ سالہ انجینئرنگ گریجویٹ اے۔ شرینیکیتھن بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کی ایک مثال ہیں۔ ان کے خاندان میں برسوں سے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانے کی روایت رہی ہے، لیکن انہوں نے اس مرتبہ جرمنی میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شرینیکیتھن اس وقت جرمن زبان سیکھ رہے ہیں اور زبان کی مہارت کا امتحان دینے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ جرمنی کی مختلف اسکولوں میں داخلے کے لیے درخواست دے سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کنیڈا میں تعلیم کے اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھ چکے ہیں، جبکہ جرمنی نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ وہاں صنعت اور اسکولوں کے درمیان مضبوط روابط بھی موجود ہیں، جو مستقبل میں روزگار کے امکانات کو بہتر بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب پہلے کی نسبت زیادہ کثیر القطبی (Multipolar) ہو چکی ہے اور اب صرف امریکہ ہی واحد منزل نہیں رہا جہاں ہر طالب علم جانا چاہتا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ’’گوداوری ندی میں گاڑی گرانے سے قبل باپ نے دونوں بچوں کو قتل کیا تھا‘‘

ٹیلی گراف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق تعلیمی مشیروں اور طلبہ کے مطابق حالیہ برسوں میں دو بڑے عوامل نے ہندوستانی طلبہ کے فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ ایک جانب امریکہ میں امیگریشن اور طلبہ ویزا کے قوانین سخت ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے تعاون نے تعلیم اور روزگار کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو عالمی سطح پر طلبہ کی نقل و حرکت کا نقشہ بدل سکتا ہے، کیونکہ یورپ تیزی سے شمالی امریکہ کا مضبوط متبادل بنتا جا رہا ہے۔ یورپی ممالک اس تبدیلی کو اپنی مستقبل کی معاشی ضرورت بھی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ عمر رسیدہ آبادی کے باعث انہیں نوجوان اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے، جس میں ہندوستانی طلبہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر گریش مہاجن کے بارے میں قابل اعتراض پوسٹ، ملزم گرفتار

تعلیمی مشاورتی ادارے KC Overseas کے مطابق یورپ میں ٹیوشن فیس عموماً امریکہ کے مقابلے میں ۵۰؍ سے ۸۰؍  فیصد تک کم ہوتی ہے جبکہ رہائش اور روزمرہ زندگی کے اخراجات بھی نسبتاً کم ہیں، جس سے مجموعی تعلیمی لاگت نمایاں طور پر گھٹ جاتی ہے۔ یورپی یونین کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ہندوستانی طلبہ کے لیے ایک اہم تعلیمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی طلبہ نہ صرف اپنی علمی صلاحیت اور تحقیقی استعداد کے ذریعے یورپی اسکولوں کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ اختراع، تجارت اور سفارت کاری کے میدان میں بھی یورپی یونین اور ہندوستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید بڑھے گا، جس سے ایک جانب یورپ کو مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت میسر آئے گی، جبکہ دوسری جانب ہندوستان کو عالمی معیار کے تجربات رکھنے والے پیشہ ور افراد حاصل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر عوام کا سیلاب، آج مارچ، دہلی پولیس کے تیور سخت

ہندوستانی حکومت کے اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۳ء میں تقریباً ۹؍ لاکھ ۸؍ ہزار ہندوستانی طلبہ بیرون ملک تعلیم کے لیے گئے تھے، جبکہ ۲۰۲۵ء  میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً ۶؍ لاکھ ۲۶؍ ہزار رہ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کی ایک بڑی وجہ امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے روایتی تعلیمی مراکز میں ویزا قوانین کی سختی اور بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی حکومت نے غیر ملکی طلبہ کے ویزا سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کا اعلان کیا، جو جنوری ۲۰۲۵ء  میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن پالیسی میں ہونے والی وسیع تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان رواں برس جنوری میں ہونے والے تعاون نے ہندوستانی طلبہ کی دلچسپی میں مزید اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر مغربی میڈیا کی نظریں، تعلیمی بحران پر نئی بحث

اس تعاون کا مقصد طلبہ اور ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنانا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے واضح مواقع فراہم کرنا اور ہندوستانی تعلیمی اسناد کو بہتر انداز میں تسلیم کرنا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یہ اقدامات ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دنیا بھر سے باصلاحیت افراد، خصوصاً ہندوستانی طلبہ اور ماہرین کو یورپ کی جانب راغب کرنا ہے۔ مطالعہ بیرونِ ملک کے معروف پلیٹ فارم Leap کے شریک بانی ارناؤ کمار کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ دنیا کا ایک بڑا معاشی اتحاد واضح پیغام دے رہا ہے کہ اسے بڑی تعداد میں ہندوستانی ہنر مند افراد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سے روزگار تک ایک مربوط راستہ تیار کیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ تین سے پانچ برسوں میں ہندوستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کی یورپ آمد میں ۶۰؍ سے ۷۰؍ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سرکاری کمپنی ’او این جی سی‘ نے آر ایس ایس سے وابستہ ۲۰ تنظیموں کو ۶۷۰ کروڑ روپے کے عطیات دیئے: رپورٹ

تعلیمی مشیروں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی طلبہ اب صرف کسی ایک ملک کا انتخاب نہیں کر رہے بلکہ اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضروریات کے مطابق مختلف یورپی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جرمنی انجینئرنگ اور صنعتی شعبوں میں مضبوط روابط کی وجہ سے سب سے زیادہ پسند کیا جا رہا ہے، جبکہ نیدرلینڈ بہتر ورک لائف بیلنس، پرتگال کم لاگت میں تحقیقی تعلیم اور فرانس مینجمنٹ اور بزنس پروگراموں کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کے نسبتاً بہتر مواقع اور انگریزی زبان میں پوسٹ گریجویٹ پروگراموں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ہندوستانی طلبہ کو یورپ کی جانب راغب کرنے والے اہم عوامل ہیں۔
تعلیمی مشاورتی ادارے یورپ اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر شیوارامن پانڈیان نے بتایا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان حالیہ تعاون کے بعد ان کے ادارے میں یورپ میں تعلیم سے متعلق معلومات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں ۲۵؍ سے ۳۰؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، بڑھتی ہوئی تعلیمی لاگت اور امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں ویزا قوانین کی سختی کے باعث اب بہت سے خاندان یورپ کو اپنی پہلی ترجیح سمجھنے لگے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ایک لاکھ اکیس ہزار سے زیادہ ہندوستانی طلبہ یورپی یونین کے مختلف ممالک میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد اب بھی امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے، تاہم یورپ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ امریکہ، کنیڈا اور آسٹریلیا کے بعد تیزی سے ایک بڑی تعلیمی منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یورپ کو صرف آسان ملازمتوں کی منزل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں کو نفرت کی آگ کو محبت سے بجھانے کی تلقین کی

شیوارامن پانڈیان نے کہا کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ کسی مخصوص یورپی ملک میں تعلیم حاصل کرتے ہی ملازمت یقینی ہو جائے گی تو اس پر آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق تعلیم طالب علم کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے اور روزگار کے دروازے ضرور کھولتی ہے، لیکن کامیابی کا انحصار آخرکار فرد کی مہارت، زبان پر عبور اور عملی صلاحیتوں پر ہی ہوتا ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے متعدد طلبہ نے بھی یورپ میں درپیش بعض عملی مشکلات کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق کئی ممالک میں مقامی زبان سیکھنا روزگار کے لیے تقریباً ضروری ہے، جبکہ ایمسٹرڈیم جیسے بڑے شہروں میں رہائش کا بحران، ملازمتوں کے لیے سخت مقابلہ اور مخصوص مہارتوں کی بڑھتی ہوئی طلب بھی اہم چیلنجز ہیں۔ بعض طلبہ نے یورپ کے کچھ حصوں میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بعض علاقوں میں تارکینِ وطن کے بارے میں سخت رویوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔

یہ بھی پڑھئے: وانگ چک کی جبری اسپتال منتقلی پر اپوزیشن حملہ آور

اس کے باوجود اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستانی طلبہ کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیدرلینڈز کے مطابق تعلیمی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں نیدرلینڈز میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد تقریباً ۳۷۰۰؍ تک پہنچ گئی، جبکہ ۱۹۔۲۰۱۸ء میں یہ تعداد ۲۶۳۰؍ تھی۔ اس اضافے کے بعد ہندوستانی طلبہ نیدرلینڈز میں یورپی یونین سے باہر آنے والے طلبہ کا تیسرا بڑا گروپ بن گئے ہیں۔ اسی طرح آئنڈھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے بتایا کہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے ہندوستان سے تقریباً ۲۱۴۰؍ پری انرولمنٹ موصول ہوئی ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً ایک ہزار ۳۹۰؍ تھی۔ دوسری جانب لیڈن یونیورسٹی کے باقاعدہ ماسٹرز پروگراموں میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق ۲۰۲۱ء میں جہاں ایسے طلبہ کی تعداد ۷۰؍  تھی، وہ رواں سال بڑھ کر ۱۲۰؍ ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گجرات: اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کے قیام کی مخالفت

ادھر اٹلی کی معروف یونیورسٹی آف پڈووا نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہندوستان میں اس کی شراکت دار ایجنسیاں یورپ میں تعلیم کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کی اطلاع دے رہی ہیں، یہاں تک کہ ایسے علاقوں سے بھی جہاں روایتی طور پر طلبہ امریکہ کو ترجیح دیتے تھے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مستقل داخلوں میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مؤثر اور تیز رفتار عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ چنئی سے تعلق رکھنے والے انجینئر ٹی سوتھیر، جو اس وقت جمہوریہ چیک اور اٹلی کی اسکولوں میں داخلے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ یورپ کے بارے میں لوگوں کا تاثر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسپتال میں بھی وانگ چک کی بھوک ہڑتال جاری، ’’سنسد چلو‘‘ مارچ کی حمایت کا اعلان، پولیس الرٹ

انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل تک ان کا خاندان یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کے حق میں نہیں تھا، لیکن حالیہ پیش رفت کے بعد اب وہ بھی اسے ایک بہتر اور محفوظ تعلیمی انتخاب سمجھنے لگا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یورپی یونین اپنی موجودہ پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد جاری رکھتی ہے تو آئندہ چند برسوں میں یورپ نہ صرف ہندوستانی طلبہ بلکہ ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے بھی دنیا کی اہم ترین منزلوں میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے دونوں خطوں کے تعلیمی، معاشی اور سفارتی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK