Updated: July 20, 2026, 10:02 PM IST
| New Delhi
سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کی جانب سے جماعت ششم سے دہم تک طلبہ کے لیے غیر ملکی زبانوں کے انتخاب کو محدود کرنے کے فیصلے پر ماہرین تعلیم نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں عربی اور فارسی کے انڈرگریجویٹ کورسیز میں داخلوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، کیونکہ بیشتر طلبہ ممکنہ طور پر انگریزی کو ہی واحد غیر ملکی زبان کے طور پر منتخب کریں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف اسکولوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عربی اساتذہ اور خلیجی ممالک سے واپس آنے والے طلبہ بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کی جانب سے جماعت ششم سے دہم تک طلبہ کے لیے غیر ملکی زبانوں کی تعداد محدود کرنے کے فیصلے نے ملک کے متعدد تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے عربی اور فارسی زبان کے انڈرگریجویٹ پروگراموں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگر طلبہ کو صرف ایک غیر ملکی زبان منتخب کرنے کا موقع دیا جائے گا تو زیادہ تر طلبہ فطری طور پر انگریزی کا انتخاب کریں گے، جس کے نتیجے میں عربی اور فارسی جیسی زبانوں میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سی بی ایس ای نے طلبہ کو چوتھی زبان کے طور پر اضافی مضمون لینے کی سہولت برقرار رکھی ہے، جس میں کوئی غیر ملکی زبان بھی شامل ہو سکتی ہے، تاہم تعلیمی ماہرین کا خیال ہے کہ عملی طور پر بہت کم طلبہ اس اختیار سے فائدہ اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی نہیں چاہتی کہ مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کریں، اسلئے جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنا چاہتی ہے
گزشتہ تعلیمی سال تک جماعت ششم سے دہم کے طلبہ دو غیر ملکی زبانیں پڑھ سکتے تھے، تاہم نئی پالیسی کے بعد یہ سہولت محدود کر دی گئی ہے۔ سی بی ایس ای نے وضاحت کی ہے کہ جماعت ہفتم، ہشتم اور نہم کے وہ طلبہ جو پہلے ہی دو غیر ملکی زبانیں پڑھ رہے ہیں، وہ دہم جماعت تک اپنی موجودہ تعلیم اسی ترتیب سے جاری رکھ سکیں گے۔ ملک کے متعدد معروف تعلیمی اداروں جن میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (JNU)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU)، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالی کٹ یونیورسٹی، کیرالہ یونیورسٹی، مدراس یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی شامل ہیں، عربی اور فارسی میں انڈرگریجویٹ پروگرام پیش کرتی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ملاپورم کیمپس سے وابستہ فیکلٹی رکن فیصل کے پی نے کہا کہ مدارس کے طلبہ تو حسبِ سابق عربی اور فارسی کے کورسیز میں داخلہ لیتے رہیں گے، لیکن سی بی ایس ای اور دیگر عمومی تعلیمی نظام سے آنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ مارچ: حکومت سے مذاکرت کی کوشش، پولیس کی کارروائی، اہم شخصیات کی شرکت
ٹیلی گراف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ چونکہ سی بی ایس ای ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ ہے اور اس کی نئی پالیسی قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء (NEP 2020) کے مطابق مرتب کی گئی ہے، اس لیے مستقبل میں دیگر تعلیمی بورڈز بھی اسی طرز کی پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔فیصل کے مطابق اگر عربی اور فارسی پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کم ہوئی تو اسکولوں کو اپنے نصاب میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ ایسے طلبہ کو بھی داخلہ دیا جا سکے جنہوں نے اسکول کی سطح پر یہ زبانیں کبھی نہ پڑھی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں اسکولوں کو تعلیم کا آغاز بنیادی حروفِ تہجی سے کرنا پڑے گا، جس سے نصاب کی ساخت اور تدریسی طریقۂ کار دونوں متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سی ایف ایف بھارت کی یوگی سے جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر نظرثانی کی اپیل
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے کیرالہ میں سی بی ایس ای سے منسلک سیکڑوں اسکولوں میں عربی پڑھانے والے اساتذہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ فیصل نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ خلیجی ممالک میں سی بی ایس ای نصاب کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے متعدد ہندوستانی طلبہ، جو بعد میں کیرالہ کے سی بی ایس ای اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں، اب ممکنہ طور پر عربی زبان جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ دوسری جانب بعض ماہرین تعلیم کا مؤقف ہے کہ عربی اور فارسی کو صرف ’’غیر ملکی زبانیں‘‘ قرار دینا تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے درست نہیں۔ جے این یو کے سینٹر فار عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز کے پروفیسر رضوان الرحمن نے کہا کہ عربی اور فارسی نے صدیوں کے دوران اردو سمیت متعدد ہندوستانی زبانوں کے ذخیرۂ الفاظ، ادب اور تہذیب پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راجوری اور پونچھ اضلاع میں سیلاب سے تباہی، ۱۶؍ افراد ہلاک، کئی لاپتہ
انہوں نے یاد دلایا کہ وزارتِ تعلیم کی تقریباً ۶۸؍ سال پرانی صدارتی ایوارڈ اسکیم، جو کلاسیکی اور ہندوستانی زبانوں کے ممتاز اسکالرز کے اعزاز کے لیے قائم کی گئی تھی، اس میں عربی اور فارسی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت کی ایک سرکاری اسکیم ان زبانوں کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے تو انہیں صرف غیر ملکی زبانوں کے زمرے میں رکھنا پالیسی کے اندر ایک تضاد پیدا کرتا ہے۔ مگدھ یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ابھے کمار نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں میں عربی اور فارسی کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے ان زبانوں کی علمی اہمیت کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ان کے مطابق نوجوان طلبہ کو ان زبانوں کے ذریعے دستیاب وسیع علمی، تاریخی اور تہذیبی سرمایہ سے محروم کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ زبانیں صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں، افکار اور علمی روایات تک رسائی کا وسیلہ بھی ہوتی ہیں۔