جنسی مجرم ایپسٹین کے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود بارک کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور اس نے ”ان کے تحت جاسوس کے طور پر تربیت حاصل کی تھی۔“ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ بارک نجی طور پر بنجامن نیتن یاہو کو ”ایک مجرم“ سمجھتے تھے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 8:05 PM IST | Washington
جنسی مجرم ایپسٹین کے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود بارک کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور اس نے ”ان کے تحت جاسوس کے طور پر تربیت حاصل کی تھی۔“ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ بارک نجی طور پر بنجامن نیتن یاہو کو ”ایک مجرم“ سمجھتے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ۳۰ جنوری کو جیفری ایپسٹین کیس سے جڑی تقریباً ۳۰ لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری ہونے کے بعد روزانہ نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، ان دستاویزات میں ایف بی آئی کی رپورٹ بھی شامل ہے جس میں ایپسٹین کے بارے میں امریکی ایجنسی کے مخبر کے دعوؤں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ مخبر کا کہنا تھا کہ اسے پورا یقین ہوگیا تھا کہ ایپسٹین کم از کم جزوی طور پر اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے لیے کام کر رہا تھا۔
مخبر نے ایف بی آئی کو بتایا کہ ایپسٹین کے دیرینہ وکیل، ایلن ڈرشوٹز نے مبینہ طور پر اس وقت کے امریکی اٹارنی الیکس اکوسٹا کو بتایا تھا کہ جنسی مجرم کا تعلق ”امریکی اور اتحادی دونوں انٹیلی جنس سروسیز“ سے تھا۔ دستاویز کے مطابق، مخبر نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایپسٹین اور ڈرشوٹز کے درمیان ہونے والی کالز سنی تھیں، جس کے بعد، ان کے بقول، موساد کے افسران ڈرشوٹز کو ”ڈی بریف“ (معلومات کے حصول) کے لیے کال کرتے تھے۔
ذریعے نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایپسٹین کے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود بارک کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور اس نے ”ان کے تحت جاسوس کے طور پر تربیت حاصل کی تھی۔“ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ بارک نجی طور پر (اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم) بنجامن نیتن یاہو کو ”ایک مجرم“ سمجھتے تھے۔ مخبر نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈرشوٹز نے ایک بار کہا تھا کہ اگر وہ جوان ہوتے تو وہ موساد ایجنٹ کے طور پر اسٹن گن ساتھ رکھتے۔ ایف بی آئی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ذریعے کے خیال میں ڈرشوٹز کو خود اسرائیلی انٹیلی جنس نے اپنے ساتھ ”شامل“ کرلیا تھا۔
ان میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور یہ کسی باضابطہ تحقیقاتی نتیجے کے بجائے ایک خفیہ مخبر کی طرف سے آئے ہیں۔ اس کے باوجود، ان الزامات نے ان قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے کہ اپسٹین محض ایک سرمایہ کار اور جنسی مجرم نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع تر انٹیلی جنس نیٹ ورک کا حصہ تھا۔
بل گیٹس کے خلاف ردِعمل میں شدت
ایپسٹین سے تعلقات کے الزام میں امریکی ارب پتی اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی مشکلات بڑھتی جارہی ہے، جن کا نام نئی جاری کردہ فائلز میں بار بار آیا ہے۔ گیٹس نے بیان دیا ہے کہ وہ ایپسٹین کے ساتھ گزارے گئے ”ہر منٹ“ پر نادم ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے ایپسٹین سے منسوب ایک ڈرافٹ ای میل میں موجود ان دعوؤں کو براہِ راست مسترد کر دیا جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ گیٹس نے ”روسی لڑکیوں“ کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے، وہ جنسی بیماری (ایس ٹی ڈی) کا شکار ہوئے اور اپنی اہلیہ کو بتائے بغیر ان کیلئے اینٹی بائیوٹکس حاصل کیں۔
گیٹس نے اس ای میل کو ”جھوٹا“ قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسے کبھی بھیجا ہی نہیں گیا تھا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کا رابطہ صرف عشائیوں اور فلاحی گفتگو تک محدود تھا، انہوں نے مزید کہا کہ ”میں کبھی اس کے جزیرے پر نہیں گیا۔ میں کبھی کسی خاتون سے نہیں ملا۔“
گیٹس کی سابقہ اہلیہ، میلنڈا فرینچ گیٹس نے کہا کہ ان انکشافات نے تکلیف دہ یادیں تازہ کر دی ہیں۔ میلنڈا کا موقف ہے کہ فائلوں میں نامزد ہر شخص کو اب بھی سوالات کے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس جوڑے نے ۲۰۲۱ء میں طلاق لے لی تھی۔ میلنڈا پہلے بھی اشارہ دے چکی ہیں کہ ایپسٹین ان کی شادی میں تناؤ کا ایک سبب تھا۔
گیٹس کے ایک ترجمان نے مزید سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویزات صرف گیٹس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے میں ناکامی پر ایپسٹین کی مایوسی اور ان لوگوں کو ”پھنسانے اور بدنام کرنے“ کی اس کی خواہش کو ظاہر کرتی ہیں جنہیں وہ کنٹرول نہیں کرسکتا تھا۔
زیلنسکی اسرائیلیوں کے اشاروں پر چل رہے ہیں: پوتن
دستاویزات کی اس قسط کے بعد یوکرین بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایپسٹین کی مئی ۲۰۱۹ء کی ای میلز بتاتی ہیں کہ سابق امریکی وزیرِ خزانہ لیری سمرز نے ایپسٹین سے یوکرین کے بارے میں پوچھا تھا۔ ایپسٹین نے جواب دیا کہ ولادیمیر زیلینسکی، جو اس وقت نومنتخب صدر تھے، ”مدد کی تلاش“ میں تھے۔ روسی صدر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ (زیلینسکی) ”اسرائیلیوں کے اشارے پر چل رہے ہیں۔“
ایپسٹین فائلز میں زیلینسکی کا کم از کم ۱۰ بار ذکر آیا ہے۔ دیگر ای میلز بتاتی ہیں کہ ایپسٹین نے زیلینسکی کے انتخاب سے چند ہفتے قبل فروری ۲۰۱۹ء میں کیِف کا دورہ کیا تھا، جس سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا انہوں نے یوکرینی سیاسی حلقوں میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔
ایک علیحدہ ای میل میں، ایپسٹین کے ساتھی بورس نیکولک نے روسی سیاست دان الیا پونوماریو سے ملاقات کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں پوتن کے خلاف بغاوت کے ممکنہ لیڈر کے طور پر بیان کیا۔ نیکولک نے خبردار کیا کہ پونوماریو کی زندگی خطرے میں ہے لیکن یہ تجویز بھی دی کہ وہ ایک دن پوتن کی جگہ لے سکتے ہیں۔
ان پیغامات میں براہِ راست کسی غلط کام کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے، لیکن یہ ایپسٹین کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو وال اسٹریٹ سے کہیں آگے، اعلیٰ سطح کے جغرافیائی سیاسی نیٹ ورکس میں گہرائی تک پیوست تھا۔