عوام تک معیاری کھانے پہنچانے کو یقینی بنانے کیلئے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(ایف ڈی اے) ‘ نے کھانے پینے کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اور مختلف زمروں کے حساب سے کارروائی کی جارہی ہے جس میں مسالے تیار کرنے والوں اور سپلائر کے خلاف مہم میں پورے مہاراشٹر میں کارروائی کی گئی ہے۔
تکارام منڈے۔ تصویر: آئی این این
عوام تک معیاری کھانے پہنچانے کو یقینی بنانے کیلئے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(ایف ڈی اے) ‘ نے کھانے پینے کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اور مختلف زمروں کے حساب سے کارروائی کی جارہی ہے جس میں مسالے تیار کرنے والوں اور سپلائر کے خلاف مہم میں پورے مہاراشٹر میں کارروائی کی گئی ہے۔ اس دوران ممبئی کے دو ٹانکی سمیت شہر و مضافات کی تقریباً ۱۰؍ دکانوں اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
جمعرات کو ایف ڈی اے کمشنرتکارام منڈے نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دو ٹانکی پر واقع ہندوستان مسالا گرائنڈنگ ملس، باندرہ مغرب میں راحت منزل میں واقع جیفسن، سانتا کروز میں واقع گُوس بمپس پِکّلس اور شری گجانن مسالا اسٹورس، اندھیری چار بنگلہ پر نیو بامبے مسالہ شاپ، اندھیری میں خیرانی مینشن کے قریب شریفہ شاپنگ میں راٹھوڑ مسالا شاپ، گھاٹکوپر پنت نگر میں شری چیتنیا چِکانے، ملنڈ میں ٹھکّر ٹریڈرس، دہیسر میں پوروین انڈسٹریز اور بھانڈوپ میں اننتا فوڈ پروڈکٹ کے لائسنس معطل کرکے ان سب کو حفظان صحت کے اصولوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنے کام کاج میں بہتری لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کلیان ڈومبیولی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا
تھانے، نوی ممبئی، تُربھے، کلیان، امبرناتھ اور پنویل میں مسالے تیار کرنے والی ۹؍ کمپنیوں کے لائسنس معطل کئے گئے ہیں۔پوری ریاست میں مجموعی طور پر ۱۱؍ ہزار ۹۶۳ء۸۷؍ کوئنٹل وزن کی ۱۹ء۷۰؍ کروڑ روپے مالیت کی کھانے پینے کی اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔ اس مہم کے دوران کُل ۸۷؍ لائسنس معطل کئے گئے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد چھترپتی سنبھا جی نگر (۲۷)، پونے اور امراوتی میں (۱۴، ۱۴)، ممبئی اور کوکن میں (۱۲، ۱۲) اور ناسک (۸) شامل ہیں۔یکم اپریل سے ۲۹؍ اکتوبر کے درمیان ایف ڈی اے نے ممبئی میں کُل ۱۲۳؍ مقامات کا جائزہ لیا جن میں سے ۵۴؍ کمپنیوں اور تجارتی اداروں کو کام کاج میں بہتری لانے کا نوٹس دیا گیا ، ۱۰؍ لائسنس معطل کئے گئے اور ۳۴ء۹۱؍ لاکھ روپے کا مال ضبط کیا گیا۔