علماء، ائمہ اورمبلغین نے توجہ دلائی، کہا: جس اہتمام سے بینر لگایا گیا تھا اسی طرح بحفاظت نکال لیجئے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 3:37 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
علماء، ائمہ اورمبلغین نے توجہ دلائی، کہا: جس اہتمام سے بینر لگایا گیا تھا اسی طرح بحفاظت نکال لیجئے۔
علماء، ائمہ اور مبلغین نےاس جانب پھر توجہ دلائی ہےکہ عیدمیلادالنبیؐ کے بینر نکالنے کا اہتمام کیجئے تاکہ بے حرمتی نہ ہو اورکہاہےکہ جس اہتمام اورجوش وخروش سے بینر لگایا گیا تھا اسی طرح بحفاظت نکال لیجئے، شہری انتظامیہ کا انتظار نہ کیجئے۔ واضح رہے کہ عیدمیلادالنبی ؐکے تعلق سے شہر اور مضافات کے تمام مسلم علاقوں میں تنظیموں، سیاسی لیڈران اورسماجی خدمت گاروں کی جانب سے بڑے بینرس لگائے گئے ہیں۔
اس تعلق سے مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےکہاکہ ’’اس جانب پہلے بھی توجہ دلائی گئی تھی پھر یاددہانی کرائی جارہی ہے کہ کلمہ طیبہ، آیت قرآنی کے ساتھ کعبۃ اللہ، گنبدِ خضریٰ اور دیگر مقاماتِ مقدسہ کے خاکے والے بینرس لگائے جاتے ہیں مگرعیدمیلادالنبیؐ کے بعد ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس لئے جس جوش وخروش سے بینرس لگائے گئے تھے، اسی اہتمام سے انہیں نکال بھی لیا جائے تاکہ بے ادبی نہ ہو۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: موتی لال نگر کے مکینوں کا مہاڈا دفتر پرزبردست مورچہ
دعوتِ اسلامی کے مبلغ جنید برکاتی نے کہاکہ ’’ جشن عیدمیلادالنبیؐ منانے کا سبھی اہتمام کرتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ قرآن وحدیث یا مقدس مقامات کی تصویر والےبینرس لگائے جائیں اوراگر لگائے جائیں تو اسے ذمہ داری سمجھ کر نکال لیا جائے۔ اس لئے کہ بی ایم سی عملہ تو اپنی ڈیوٹی کرتا ہے، ذمہ داری ہم سب کی ہے کہ ہم آیت قرآنی اورمقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہ ہونے دیں اور اس تعلق سے اپنی ذمہ داری محسوس کریں ۔ ‘‘
باندرہ اسٹیشن والی سنی جامع مسجد کے خطیب وامام مولانا توحید اختر صدیقی نے کہاکہ’’ بار بار توجہ دلائی گئی ہے، لکھا گیا ہے اوراس کی تصدیق کی گئی ہےکہ گوونڈی میں ڈمپنگ گراؤنڈ سے ایسے بینرس بڑی تعداد میں ملے جن پرآیت قرآنی اورکلمہ ٔ طیبہ وغیرہ لکھا ہوا تھا۔ اس لئے جب ہم ایسے بینرس لگاتے ہیں تو اسی وقت یہ طے کرنا چاہئے کہ عید میلادالنبی ؐکےبعد اپنی ذمہ داری سمجھ کر اسے نکال لیں گے۔ ایسا نہ کرنے پرلگانے والے بے ادبی کے مرتکب ہوں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: پریل : جلوس سے لوٹتے وقت چند شرکاء پر شر پسندوں کے حملہ کا الزام ،۳؍افراد پر کیس درج
رضااکیڈمی کے سربراہ محمدسعید نوری نے کہا کہ ’’ یہ بہت اہم مسئلہ ہے اورسبھی کوتوجہ دینا چاہئے۔ اس لئے کہ آپ ؐ کا اسم پاک، آیت ِ قرآنی اورکلمہ وغیرہ کا احترام ہم مسلمانوں پرلازم ہے۔ اگر ایسا بینر لگایا جاتا ہے تواپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اسے نکال بھی لیا جائے، دوسروں سے شکایت فضول ہے۔ ‘‘ انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’ اگر توجہ نہ دی گئی تو اپنے علاقے میں رضااکیڈمی کی ٹیم اس کام کوانجام دے گی اورایسے بینرس اتروائے گی۔ ‘‘