امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن اس فیصلے سے یہ سوالات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں کہ امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کیون وارش مہنگائی کو دوبارہ۲؍ فیصد کے ہدف تک لانے کے اپنے عزم کو کس طرح عملی جامہ پہنائیں گے؟
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 12:15 PM IST | Washington
امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن اس فیصلے سے یہ سوالات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں کہ امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کیون وارش مہنگائی کو دوبارہ۲؍ فیصد کے ہدف تک لانے کے اپنے عزم کو کس طرح عملی جامہ پہنائیں گے؟
امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن اس فیصلے سے یہ سوالات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں کہ امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کیون وارش مہنگائی کو دوبارہ۲؍ فیصد کے ہدف تک لانے کے اپنے عزم کو کس طرح عملی جامہ پہنائیں گے؟
متوقع فیصلے کے مطابق فیڈرل ریزرو نے اپنی بنیادی شرحِ سود کو۳ء۵۰؍ فیصد سے ۳ء۷۵؍ فیصد کی حد میں برقرار رکھا لیکن پالیسی سازی کرنے والی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے۱۲؍ میں سے۳؍اراکین نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اس اجلاس میں شرحِ سود میں۰ء۲۵؍ فیصد (۲۵؍ بیسس پوائنٹس) اضافے کی حمایت کی۔
یہی ۳؍ اراکین یعنی فیڈ کے کلیولینڈ، ڈلاس اور منیاپولس کے علاقائی بینکوں کے صدور اپریل کے آخر میں جیروم پاول کی بطور فیڈ چیئرمین آخری پالیسی میٹنگ میں بھی اختلافی نوٹ دے چکے تھے۔ اس وقت انہوں نے مستقبل میں شرحِ سود میں کمی کے عندیے کو ختم کرنے کی حمایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: خام تیل کی سپلائی کیلئے نئے راستے کاانتخاب
مئی میں فیڈرل ریزرو کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے والے کیون وارش کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایسی مہنگائی ہرگز قابلِ قبول نہیں جو ۵؍برس سے زائد عرصے سے مرکزی بینک کے مقررہ ہدف سے اوپر برقرار ہے۔ گزشتہ ماہ تک مہنگائی میں مزید تیزی آرہی تھی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت سے متعلق دیگر اخراجات نے بھی طلب میں اضافہ کر دیا۔
فیڈرل ریزرو نے اپنے تازہ دو روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری مختصر پالیسی بیان میں کہا کہ مہنگائی اب بھی کمیٹی کے مقررہ ۲؍ فیصد ہدف کے مقابلے میں بلند سطح پر برقرار ہے۔فیڈ نے معیشت سے متعلق اپنی تشخیص میں ۱۷؍جون کے پالیسی بیان کی عبارت کو لفظ بہ لفظ برقرار رکھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
فیڈرل ریزرو نے کہا کہ امریکی معاشی سرگرمیاں مضبوط رفتار سے فروغ پا رہی ہیں۔ مرکزی بینک نے جون کے بیان کی طرح اس بار بھی کہا کہ روزگار میں اضافہ افرادی قوت میں ہونے والے اضافے کے ساتھ ہم آہنگ رہا ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح میں بہت معمولی تبدیلی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لیمبورگینی کا منافع کم لیکن ریکارڈ آمدنی نے حیران کردیا
فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں نے دسمبر سے۳ء۵۰؍ سے۳ء۷۵؍ فیصد کی شرحِ سود کو برقرار رکھتے ہوئے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ بلند قرض معیشت پر دباؤ پیدا کررہا ہے جو ایسی مہنگائی کو کم کرنے کےلئے کافی ہے جو اشیاء کی قیمتوں پر عائد ٹیرف کے عارضی اثرات کے برعکس خود بخود ختم نہیں ہوسکتی۔ماہرین کےمطابق فیڈ کے فیصلےکا اثر عالمی مارکیٹ پر بھی پڑے گا۔