سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے بجائے مصر کی سومد پائپ لائن اور نہرسوئز کے ذریعے خام تیل کی سپلائی شروع کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 11:53 AM IST | Riyadh
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے بجائے مصر کی سومد پائپ لائن اور نہرسوئز کے ذریعے خام تیل کی سپلائی شروع کر دی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے خام تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لئےایک متبادل راستہ اختیار کیا ہے۔ اب سعودی عرب خام تیل کو مصر کی سومد پائپ لائن اور نہر سوئز کے ذریعے ایشیائی ممالک تک پہنچا رہا ہے۔ اس اقدام کی وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے راستوں پر مسلسل خطرات موجود ہیں۔
آخر راستہ کیوں بدلنا پڑا؟
واضح رہےکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہاں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، اسی لئے سعودی عرب نے تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لئے متبادل راستہ اختیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لیمبورگینی کا منافع کم لیکن ریکارڈ آمدنی نے حیران کردیا
۲۰؍ سے ۳۰؍ دن زیادہ لگتےہیں
چوائس بروکنگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پہلے خام تیل کوسومد پائپ لائن کے ذریعے مصر پہنچاتا ہے پھر اسے ’سیدی کریر بندرگاہ‘ پر بحری جہازوں میں منتقل کر کے نہر سوئز کے راستے ایشیائی ممالک بھیجا جاتا ہے لیکن یہ صرف ایک متبادل راستہ ہے اور آبنائے ہرمز کی مکمل جگہ نہیں لے سکتا۔اس راستے سے تیل بھیجنے میں ۲۰؍ سے۳۰؍ دن زیادہ لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ بڑے آئل ٹینکروں کا مال درمیان میں دوسرے جہازوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔
چوائس بروکنگ کے اندازے کے مطابق اس عمل سے سعودی عرب کی لاگت تقریباً۵؍ ڈالر فی بیرل بڑھ سکتی ہے۔
دنیا کے لئے یہ کتنا بڑا خطرہ ہے؟
چوائس بروکنگ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستے مکمل طور پر بند ہو جائیں تو دنیا بھر میں روزانہ تقریباً۱۸؍ ملین بیرل خام تیل اور ۵؍ملین بیرل پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔اگرچہ دیگر ممالک سے اضافی سپلائی مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود عالمی منڈی میں روزانہ۱۱؍ سے ۱۳؍ملین بیرل کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔
صرف آبنائے ہرمز نہیں، بحیرۂ احمر بھی تشویش کا باعث
اس دوران کوٹک سیکورٹیز کے ہیڈ آف کموڈیٹی اینڈ کرنسی ریسرچ انِندیہ بنرجی کے مطابق، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی۸۰؍ سے۸۵؍ فیصد کم ہے۔اسی طرح بحیرۂ احمر کے راستے بھی تیل کی نقل و حمل سست پڑ رہی ہے۔ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو دنیا کو تیل کی سپلائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ۶۰۰؍ ارب ڈالر ہاتھ سے نکل گئے
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
کوٹک سیکورٹیز کا اندازہ ہے کہ جب تک مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہے گی،خام تیل کی قیمت ۸۰؍ سے۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہے۔اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو قیمت۱۰۰؍ ڈالر سے تجاوز کر کے۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔دوسری جانب، اگر حالات معمول پر آ گئے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل گئی تو خام کی قیمت۸۰؍ ڈالر سے نیچے آ کر۷۰؍سے۶۸؍ ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہے۔