Updated: July 13, 2026, 9:52 PM IST
| Mexico City
۲۰۲۶ء فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی چار ٹیموں، فرانس، انگلینڈ، اسپین اور ارجنٹائنا، کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ فرانس اور انگلینڈ کی ٹیموں میں تارکینِ وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اور بیرونِ ملک پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ اسپین نے مقامی فٹ بال ڈھانچے کے ساتھ ثقافتی تنوع کو بھی جگہ دی ہے۔ دوسری جانب ارجنٹائنا کا زیادہ تر اسکواڈ مقامی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اس خصوصی تجزیاتی رپورٹ میں چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں کے ۱۰۴؍ کھلاڑیوں کے سماجی اور ثقافتی پس منظر، پہلی نسل کے کھلاڑیوں، بیرونِ ملک پیدا ہونے والے فٹ بالرز، مقامی کھلاڑیوں اور مسلم فٹ بالرز کی موجودگی کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ فرانس، انگلینڈ، اسپین اور ارجنٹائنا سیمی فائنل میں پہنچنے والی چار ٹیمیں ہیں، لیکن ان چاروں اسکواڈز کا سماجی اور ثقافتی پس منظر ایک دوسرے سے خاصا مختلف ہے۔ اگر ان ٹیموں کے کھلاڑیوں کی پیدائش اور خاندانی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جدید فٹ بال میں کامیابی کا کوئی ایک فارمولا نہیں۔ کہیں تارکینِ وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی اکثریت میں ہیں، کہیں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے فٹ بالرز نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایک ٹیم تقریباً مکمل طور پر مقامی طور پر پیدا ہونے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔
چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں کے مجموعی ۱۰۴؍ کھلاڑیوں میں تقریباً ۵۶؍ فیصد ایسے ہیں جو اپنے ہی ملک میں پیدا ہوئے اور جن کے بارے میں حالیہ مہاجرتی پس منظر عوامی طور پر معلوم نہیں، جبکہ تقریباً ۴۴؍ فیصد کھلاڑی یا تو تارکینِ وطن خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر بیرونِ ملک پیدا ہونے کے باوجود اپنے موجودہ ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی ٹیم کی کامیابی یا ناکامی کی وجہ بیان نہیں کرتے بلکہ صرف ان اسکواڈز کی سماجی ساخت کی عکاسی کرتے ہیں۔
فرانس: دنیا کی متنوع ترین فٹ بال ٹیم

فرانس کی فٹ بال ٹیم ۔ تصویر: ایکس
اگر کسی ایک قومی ٹیم کو جدید دور کی سب سے متنوع ٹیم کہا جائے تو وہ فرانس ہے۔ موجودہ فرانسیسی اسکواڈ میں تقریباً پانچ میں سے چار کھلاڑی ایسے ہیں جن کا تعلق یا تو تارکینِ وطن خاندانوں سے ہے یا وہ فرانس سے باہر پیدا ہوئے۔ کپتان کیلین ایمباپے کی والد کی جڑیں کیمرون جبکہ والدہ الجزائر سے تعلق رکھتی ہیں۔ عثمان ڈیمبیلے مالی اور موریطانیہ سے تعلق رکھنے والے خاندان میں پیدا ہوئے، اوریلین شوامینی کے والدین کیمرون سے تعلق رکھتے ہیں، ابراہیما کوناتے اور یوسف فوفانا کے خاندان مالی سے آئے، جبکہ جول کونڈے کے والد کا تعلق بینن سے ہے۔ اسی طرح ریان چرکی الجزائری نژاد خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بریڈلی بارکولا کے خاندان کی جڑیں ٹوگو میں ہیں، جبکہ دیزیرے دوئے آئیوری کوسٹ سے تعلق رکھنے والے خاندان میں پیدا ہوئے۔
فرانس کی ٹیم میں صرف تارکینِ وطن خاندانوں کے بچے ہی شامل نہیں بلکہ کئی ایسے کھلاڑی بھی موجود ہیں جو خود فرانس سے باہر پیدا ہوئے۔ گول کیپر برائس سامبا جمہوریہ کانگو میں پیدا ہوئے، مائیکل اولیس انگلینڈ میں پیدا ہوئے جبکہ مارکس تھورام نے اٹلی میں آنکھ کھولی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام مختلف پس منظر رکھنے والے کھلاڑیوں کی شناخت آج صرف ایک ہے، فرانس۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں فرانس مسلسل عالمی فٹ بال کی مضبوط ترین طاقتوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ۲۰۱۸ء کا عالمی کپ جیتنے اور ۲۰۲۲ء کے فائنل تک پہنچنے کے بعد ۲۰۲۶ء میں بھی فرانس سیمی فائنل میں موجود ہے۔
انگلینڈ: بدلتی ہوئی شناخت کی عکاسی

انگلینڈ کی فٹ بال ٹیم ۔ تصویر: آئی این این
اگر فرانس تنوع کی سب سے نمایاں مثال ہے تو انگلینڈ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ موجودہ انگلش اسکواڈ میں بھی تقریباً دو تہائی کھلاڑی ایسے ہیں جن کا تعلق تارکینِ وطن خاندانوں سے ہے یا جن کی خاندانی جڑیں برطانیہ سے باہر موجود ہیں۔ بوکایو ساکا نائجیرین والدین کے بیٹے ہیں اور آج انگلینڈ کے اہم ترین ونگرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ایبریچی ایزے کے والدین بھی نائیجیریا سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ نونی مادوئیکے اور کوبی مینو کے خاندان کی جڑیں بھی اسی ملک میں ہیں۔ دفاع میں مارک گوہی منفرد مثال ہیں۔ وہ آئیوری کوسٹ میں پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ انگلینڈ منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے فٹ بال کی تربیت حاصل کی اور بعد ازاں انگلینڈ کی قومی ٹیم کے مستقل رکن بن گئے۔
ٹریوو چالوبا کے والدین سیرا لیون سے تعلق رکھتے ہیں، جیرل کوانسا کے خاندان کی جڑیں گھانا میں ہیں، جبکہ ریس جیمز، اولی واٹکنز اور ڈیجڈ اسپینس کے خاندان کی تاریخ کیریبین ممالک سے جا ملتی ہے۔ اگرچہ ہیری کین، جوڈ بیلنگھم اور ڈیکلن رائس انگلینڈ میں پیدا ہوئے، تاہم ان میں سے بعض کے خاندانوں کی جڑیں آئرلینڈ سمیت دیگر خطوں تک پھیلی ہوئی ہیں، جو برطانوی معاشرے کی تاریخی نقل مکانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ انگلینڈ کی یہ ٹیم اس حقیقت کی نمائندہ ہے کہ جدید برطانوی معاشرہ مختلف ثقافتوں، نسلوں اور پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے تشکیل پایا ہے، اور یہی تنوع آج قومی ٹیم میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔
اسپین: مقامی بنیاد، مگر نئی نسل میں بڑھتا ہوا تنوع

اسپین کی فٹ بال ٹیم ۔ تصویر: آئی این این
اسپین کی قومی ٹیم فرانس اور انگلینڈ کے مقابلے میں مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ موجودہ اسکواڈ کی اکثریت ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو اسپین میں پیدا ہوئے اور جن کے بارے میں حالیہ مہاجرتی پس منظر عوامی طور پر دستیابنہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں اسپین کی نئی نسل میں بھی ثقافتی تنوع نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ۱۸؍ سالہ الامین جمال ہیں، جن کے والد مراکش جبکہ والدہ استوائی گنی (Equatorial Guinea) سے تعلق رکھتی ہیں۔ کم عمری کے باوجود جمال نہ صرف اسپین بلکہ عالمی فٹ بال کے نمایاں ترین ستاروں میں شمار ہونے لگے ہیں۔
اسی طرح نیکو ولیمز گھانا سے تعلق رکھنے والے والدین کے بیٹے ہیں۔ ان کے والدین بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ پہنچے تھے، جبکہ نیکو نے اسپین میں پرورش پائی اور آج قومی ٹیم کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ الیخاندرو بالڈے کے والدین کا تعلق گنی بساؤ اور ڈومینیکن ریپبلک سے ہے، جبکہ سامو اگہیوا (سابقہ سامو اومورودیون) نائیجیرین نژاد خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسپین کے اسکواڈ میں دو ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جو بیرونِ ملک پیدا ہوئے۔ ڈین ہیوسن نیدرلینڈز میں پیدا ہوئے لیکن کم عمری میں اسپین منتقل ہو گئے، جبکہ رابن لی نارمان فرانس میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں ہسپانوی شہریت حاصل کر کے قومی ٹیم کا حصہ بنے۔
اس کے برعکس پیڈری، گاوی، میکل اویارزابال، فیبیان روئز، دانی کارواخال، مارک کوکورییا، فیراں ٹوریس، پاؤ کوبارسی اور دیگر کئی کھلاڑی مقامی طور پر پیدا ہوئے اور اسپین کے روایتی فٹ بال ڈھانچے سے ابھر کر سامنے آئے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسپین کے موجودہ اسکواڈ میں تقریباً تین چوتھائی کھلاڑی مقامی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ باقی کھلاڑی یا تو تارکینِ وطن خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا بیرونِ ملک پیدا ہوئے ہیں۔
ارجنٹائنا: روایتی ماڈل آج بھی برقرار

ارجنٹائنا کی فٹ بال ٹیم ۔ تصویر: آئی این این
سیمی فائنل کی چار ٹیموں میں اگر کوئی اسکواڈ سب سے مختلف ہے تو وہ ارجنٹائنا ہے۔ موجودہ ارجنٹائنی ٹیم تقریباً مکمل طور پر ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو ارجنٹائنا میں پیدا ہوئے اور وہیں فٹ بال کی تربیت حاصل کی۔ اگرچہ ارجنٹائنا خود ایک ایسا ملک ہے جہاں انیسویں اور بیسویں صدی میں لاکھوں یورپی تارکینِ وطن، خصوصاً اٹلی اور اسپین سے آ کر آباد ہوئے، لیکن موجودہ قومی ٹیم میں حالیہ مہاجرتی پس منظر رکھنے والے کھلاڑی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیونل میسی، لاوتارو مارٹینیز، جولیان الواریز، روڈریگو ڈی پال، اینزو فرنانڈیز، کرسچیان رومیرو، ایمیلیانو مارٹینیز، نکولس اوٹامینڈی، لیاندرو پاریدیس، الیکسس میک الیسٹر، جیوانی لو سیلسو اور دیگر تقریباً تمام کھلاڑی ارجنٹائنا میں پیدا ہوئے۔
اس اسکواڈ میں نمایاں استثنا الیخاندرو گارناچو ہیں، جو اسپین کے شہر میڈرڈ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کے ذریعے ارجنٹائنی شہریت رکھنے والے گارناچو نے بعد میں ارجنٹائنا کی نمائندگی کا انتخاب کیا اور آج قومی ٹیم کا حصہ ہیں۔ یوں ارجنٹائنا ان چاروں سیمی فائنلسٹس میں واحد ٹیم ہے جہاں تقریباً پورا اسکواڈ مقامی طور پر پیدا ہونے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سیمی فائنل میچ سے قبل سابق کھلاڑی جو کول کا دعویٰ `انگلینڈ میسی کو روک سکے گا
چار راستے، ایک منزل
اگر چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ فرانس میں تارکینِ وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والے یا بیرونِ ملک پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ انگلینڈ بھی اسی رجحان کی ایک مضبوط مثال پیش کرتا ہے، جہاں قومی ٹیم جدید برطانوی معاشرے کے تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔ اسپین نے اپنی روایتی مقامی بنیاد برقرار رکھتے ہوئے نئی نسل میں بڑھتے ہوئے تنوع کو بھی جگہ دی ہے۔ ارجنٹائنا نے تقریباً مکمل طور پر مقامی کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ کے ساتھ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: سیمی فائنل سے پہلے انگلینڈ کو ادھوری کڑی تلاش کرنی ہوگی: ہیری کین
یہ تمام مثالیں ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی فٹ بال میں کامیابی کا کوئی ایک سماجی یا آبادیاتی فارمولا موجود نہیں۔ مختلف ممالک اپنی تاریخ، آبادی، ہجرت، فٹ بال ڈھانچے اور نوجوانوں کی تربیت کے الگ الگ نظام کے ذریعے عالمی سطح پر کامیاب ٹیمیں تیار کر رہے ہیں۔ البتہ ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ جدید فٹ بال آج پہلے سے کہیں زیادہ عالمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کھلاڑیوں کے خاندانی پس منظر، ثقافتی تنوع اور مختلف معاشروں کی نمائندگی نے قومی ٹیموں کی ساخت کو بدل دیا ہے، مگر جب میچ شروع ہوتا ہے تو ان تمام کھلاڑیوں کی شناخت صرف ایک ہوتی ہے، اپنے ملک کی قومی جرسی۔
نوٹ: یہ رپورٹ ۲۶؍ رکنی اسکواڈ کی بنیاد پر عوامی طور پر دستیاب معلومات اور حالیہ مہاجرتی پس منظر کی درجہ بندی کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ: سوئزرلینڈ کو۳۔ ۱؍سے ہرا کر ارجنٹائنا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں
فرانس:
۲ء۱۹؍ فیصد (مقامی) ۵؍ کھلاڑی
۵ء۶۱؍ فیصد (تارکین وطن کی پہلی نسل) ۱۶؍ کھلاڑی
۴ء۱۵؍ فیصد (غیر ملکی) ۴؍ کھلاڑی
انگلینڈ:
۶ء۳۴؍ فیصد (مقامی)۹؍ کھلاڑی
۵ء۶۱؍ فیصد (تارکین وطن کی پہلی نسل) ۱۶؍ کھلاڑی
۸ء۳؍ فیصد (غیر ملکی) ایک کھلاڑی
یہ بھی پڑھئے: کیپ ورڈے فٹ بال ٹیم کے۴۰؍ سالہ کھلاڑی ووزنہا سے نو دریافت سمندری گھونگا موسوم
اسپین:
۱ء۷۳؍ فیصد(مقامی) ۱۹؍ کھلاڑی
۲ء۱۹؍ فیصد (تارکین وطن کی پہلی نسل) ۵؍ کھلاڑی
۷ء۷؍ فیصد (غیر ملکی) ۲؍ کھلاڑی
ارجنٹائنا:
۲ء۹۶؍ فیصد (مقامی) (۲۵؍ کھلاڑی
صفر فیصد (تارکین وطن کی پہلی نسل)
۸ء۳؍فیصد (غیر ملکی) ایک کھلاڑی
یہ بھی پڑھئے: ٹیم کو لگاتار مل رہی کامیابی عام بات نہیں : میسی
چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں کا مجموعی جائزہ (۱۰۴؍ کھلاڑی)
مقامی: ۵۸؍ کھلاڑی (۸ء۵۵؍ فیصد)
تارکین وطن کی پہلی نسل: ۳۷؍ کھلاڑی (۶ء۳۵؍ فیصد)
غیر ملکی: ۸؍ کھلاڑی (۷ء۷؍ فیصد)
اہم مشاہدات
(۱) فرانس میں تقریباً ۸۱؍ فیصد کھلاڑی یا تو تارکینِ وطن خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا بیرونِ ملک پیدا ہوئے۔
(۲) انگلینڈ میں یہ تناسب ۴ء۶۵؍ فیصد ہے۔
(۳) اسپین میں تقریباً ۹ء۲۶؍ فیصد کھلاڑی ان دو زمروں میں آتے ہیں۔
(۴) ارجنٹائنا میں صرف ۸ء۳؍ فیصد کھلاڑی بیرونِ ملک پیدا ہوئے، جبکہ پہلی نسل کے کھلاڑی موجودہ اسکواڈ میں نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ورلڈ کپ اسکریننگ کروانے والے محمد الوحیدی کی موت پر خطہ سوگوار
چار سیمی فائنلسٹ میں مسلمان فٹ بالرز کا تناسب
دوسری جانب اگر چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں عوامی طور پر مسلمان ہونے والے کھلاڑیوں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے کھلاڑی فرانس میں ہیں۔
(۱) فرانسیسی اسکواڈ میں کیلین ایمباپے (مسلم ماں، لیکن ایمباپے اپنا مذہبی عقیدہ خفیہ رکھتے ہیں)، عثمان ڈیمبیلے، ابراہیما کوناتے، اوریلین شوامینی، یوسف فوفانا، راین چرکی، دیزیرے دوئے، مانو کونے، بریڈلی بارکولا، میگنیس اکلیوش اور بریس سامبا سمیت متعدد کھلاڑی مسلمان ہیں، یا ان کے والدین میں کوئی ایک مسلمان ہے، یا، کئی کھلاڑی مذہبی عقیدے کے متعلق عوامی سطح پر بات چیت نہیں کرتے۔

عثمان ڈیمبیلے۔تصویر: ایکس
(۲) انگلینڈ کی ٹیم میں بوکایو ساکا، ایبریچی ایزے، نونی مادوئیکے، مارک گوہی اور کوبی مینو ایسے نمایاں کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے مسلمان ہونے یا مسلم پس منظر کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی ہے۔

بوکایو ساکا۔ تصویر: ایکس
(۳) اسپین کے اسکواڈ میں الامین جمال اور سامو اگہیوا مسلمان کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

الامین جمال۔تصویر: ایکس
(۴) ارجنٹائنا کے موجودہ اسکواڈ میں کوئی ایسا کھلاڑی موجود نہیں جس نے عوامی طور پر اپنے مسلمان ہونے کی تصدیق کی ہو۔
مجموعی طور پر چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں تقریباً ۱۸؍ ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کے مسلمان ہونے کے بارے میں عوامی معلومات دستیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیا فیفا ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کمی محسوس نہیں ہوتی؟
فرانس: ۱۱؍ مسلمان کھلاڑی (۳ء۴۲؍ فیصد)
انگلینڈ: ۵؍ مسلمان کھلاڑی (۲ء۱۹؍ فیصد)
اسپین: ۲؍ مسلمان کھلاڑی (۷ء۷؍ فیصد)
ارجنٹائنا: صفر مسلمان کھلاڑی
مجموعی طور پر ۱۰۴؍ کھلاڑیوں میں سے ۱۸؍ مسلمان ہیں، جن کا فیصد ۳ء۱۷؍ہے۔
احتیاط: یہ اعداد و شمار صرف ان کھلاڑیوں پر مبنی ہیں جن کے مسلمان ہونے کے بارے میں عوامی طور پر قابلِ تصدیق معلومات موجود ہیں۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، اس لیے کسی ایسے کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا جس کے عقیدے کی عوامی تصدیق دستیاب نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تعداد حتمی مذہبی مردم شماری نہیں بلکہ عوامی معلومات پر مبنی تخمینہ ہے۔