Updated: July 13, 2026, 8:01 PM IST
| New York
امریکہ میں کیے گئے دو حالیہ سرویز نے امریکی یہودی برادری کے اندر اسرائیل اور غزہ جنگ کے حوالے سے بدلتے رجحانات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک سروے میں نیویارک کے مسلم میئر ظہران ممدانی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو سے زیادہ پسند کیے جانے کا انکشاف ہوا، جبکہ دوسرے سروے نے بتایا کہ غزہ جنگ نے امریکی یہودیوں کو مذہبی، نظریاتی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے۔
ظہران ممدانی اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
امریکہ میں یہودی رائے عامہ سے متعلق سامنے آنے والے ایک تازہ سروے نے ایک غیر معمولی سیاسی منظرنامہ پیش کیا ہے۔ سروے کے مطابق نیویارک کے مسلم میئر ظہران ممدانی کو امریکی یہودیوں میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔ سروے میں ۴۴؍ فیصد شرکاء نے ظہران ممدانی کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جبکہ نیتن یاہو کے حق میں یہ شرح صرف ۳۲؍ فیصد رہی۔ بظاہر یہ اعداد و شمار ایک مسلمان سیاستداں اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان مقبولیت کا موازنہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک کہیں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
امریکہ میں برسوں تک یہ تصور غالب رہا کہ اسرائیل کی حمایت امریکی یہودی برادری کا تقریباً متفقہ مؤقف ہے، مگر غزہ جنگ کے بعد یہ تصویر تیزی سے بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی یہودیوں کے درمیان اسرائیلی حکومت، غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور خصوصاً نیتن یاہو کی قیادت کے بارے میں اختلافات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے ہو چکے ہیں۔ مذہبی اور سیکولر، معمر اور نوجوان، قدامت پسند اور لبرل یہودیوں کے درمیان رائے کا فرق اب صرف سیاسی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ سماجی اور خاندانی سطح پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے اس سروے کی اصل اہمیت ظہران ممدانی کی مقبولیت میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ امریکی یہودی برادری کے اندر اسرائیل کے حوالے سے ایک نئی فکری کشمکش جنم لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں ماسک پہنا شخص کون تھا؟
نیتن یاہو کی مقبولیت کیوں گھٹ رہی ہے؟
امریکی یہودی برادری میں بنجامن نیتن یاہو کی مقبولیت میں آنے والی کمی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا عکس ہے۔ اگرچہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں کے بعد اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، لیکن غزہ میں جاری طویل فوجی کارروائی، بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتیں اور انسانی بحران نے امریکی معاشرے کے ساتھ ساتھ یہودی برادری کے ایک بڑے حصے کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالیہ سروے میں صرف ۳۲؍ فیصد امریکی یہودیوں نے نیتن یاہو کے بارے میں مثبت رائے دی، جبکہ ۵۹؍ فیصد نے ان کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف ایک لیڈر کی مقبولیت میں کمی نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی متنازع عدالتی اصلاحات، غزہ جنگ کے دوران اختیار کی گئی حکمتِ عملی، یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر تنقید اور امریکہ میں ڈیموکریٹک حلقوں کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے امریکی یہودی، جو اسرائیل کے وجود اور سلامتی کی حمایت کرتے ہیں، اب نیتن یاہو کی قیادت اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کو الگ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں نیویارک کے مسلم میئر ظہران ممدانی کے حق میں سامنے آنے والی بہتر رائے کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔ متعدد مبصرین کے مطابق یہ سروے ممدانی کی غیر معمولی مقبولیت سے زیادہ نیتن یاہو کے خلاف بڑھتی بے اطمینانی کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ مقابلہ دو شخصیات سے زیادہ امریکی یہودی برادری کے اندر بدلتے سیاسی مزاج کی کہانی بیان کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی میں سیزیرین آپریشن پر سختی، ۱۰۰؍سے زائد ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں
غزہ جنگ نے امریکی یہودی برادری کو بھی تقسیم کر دیا
تازہ سروے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے امریکی یہودی برادری کے اندر موجود گہری نظریاتی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اسرائیل کے حوالے سے امریکی یہودیوں کا مؤقف بڑی حد تک یکساں سمجھا جاتا تھا، لیکن غزہ جنگ نے اس تاثر کو خاصا کمزور کر دیا ہے۔ اب اختلاف صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مذہبی وابستگی، عمر اور نظریاتی رجحانات کی بنیاد پر بھی واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔
اسوسی ایٹڈ پریس اور NORC کے مشترکہ سروے کے مطابق مذہبی یہودی اسرائیل کی غزہ میں جاری فوجی کارروائی کو نسبتاً زیادہ درست قرار دیتے ہیں، جبکہ سیکولر اور لبرل یہودیوں کی بڑی تعداد اس سے اختلاف کرتی ہے۔ سروے میں شامل سیکولر یہودیوں میں صرف تقریباً ہر پانچ میں سے ایک فرد نے اسرائیلی کارروائی کو جائز قرار دیا، جبکہ مذہبی یہودیوں میں اس کی حمایت نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ جنگ نے امریکی یہودی برادری کے اندر پہلے سے موجود نظریاتی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ نوجوان نسل کا بدلتا ہوا سیاسی شعور بھی ہے۔ نئی نسل کے بہت سے امریکی یہودی اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اسرائیلی حکومت کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت کے قائل نہیں رہے۔ ان کے نزدیک اسرائیل کی سلامتی اپنی جگہ اہم ہے، مگر غزہ میں انسانی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اسی لیے اب امریکی یہودی برادری کے اندر ہونے والی بحث صرف اسرائیل کی حمایت یا مخالفت تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی حمایت کی حدود کیا ہونی چاہئیں اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو کس نظر سے دیکھا جائے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس نے امریکہ میں اسرائیل سے متعلق سیاسی مباحثے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۱۳؍ ترقی پذیر ممالک نے تعلیم سے زیادہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا: یونیسکو
اختلافِ رائے اب گھروں اور رشتوں تک پہنچ چکا ہے
غزہ جنگ کے اثرات صرف سیاسی حلقوں یا میڈیا مباحث تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی بازگشت امریکی یہودی برادری کی نجی زندگی میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ اسوسی ایٹڈ پریس اور NORC کے سروے کے مطابق ۵۵؍ فیصد امریکی یہودیوں نے کہا کہ اسرائیل اور غزہ سے متعلق دوسروں کے خیالات نے انہیں کسی نہ کسی موقع پر دل آزردہ یا ناراض کیا۔ مزید یہ کہ تقریباً ہر دس میں سے تین افراد نے اعتراف کیا کہ اس مسئلے پر شدید اختلافات کے باعث انہوں نے کسی دوست، رشتہ دار یا جاننے والے سے تعلق یا رابطہ ختم کر دیا۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کا تنازع اب صرف خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں رہا بلکہ امریکی یہودی معاشرے کے اندر شناخت، اخلاقیات اور سیاسی وابستگی کے سوالات سے بھی جڑ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندانوں کی نشستوں، عبادت گاہوں، یونیورسٹی کیمپسوں اور سماجی تقریبات میں بھی اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اکثر تلخی اختیار کر لیتی ہے۔
کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اسرائیل کے معاملے پر اختلافات ضرور ہوتے تھے، لیکن انہیں عموماً ذاتی تعلقات پر حاوی نہیں ہونے دیا جاتا تھا۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد جذبات اس قدر شدید ہو گئے ہیں کہ بعض خاندانوں میں اس موضوع پر گفتگو سے گریز کیا جانے لگا ہے، جبکہ کئی دوستیاں بھی اسی اختلاف کی نذر ہو چکی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جو موجودہ صورتِ حال کو ماضی سے مختلف بناتا ہے۔ امریکی یہودی برادری کے اندر اختلافِ رائے اب محض ووٹ یا سیاسی وابستگی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ذاتی تعلقات، سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی شناخت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اسی لیے مبصرین اسے صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہری سماجی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
نوجوان نسل کا بدلتا نقطۂ نظر اور مستقبل کی سیاست
تجزیہ کاروں کے نزدیک حالیہ سروے کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ امریکی یہودی برادری کے اندر ایک نئی نسل ایسے خیالات کے ساتھ ابھر رہی ہے جو ماضی کی روایتی سیاسی سوچ سے خاصے مختلف ہیں۔ یہ نوجوان نسل اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر فخر کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت کو بھی ضروری نہیں سمجھتی۔ خاص طور پر غزہ جنگ نے اس سوچ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اسوسی ایٹڈ پریس اور NORC کے سروے کے مطابق نوجوان اور سیکولر امریکی یہودی اسرائیل کی موجودہ حکومت اور اس کی عسکری حکمتِ عملی پر بزرگ اور مذہبی طبقے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی نظر رکھتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے بھی یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران، شہری ہلاکتوں اور بین الاقوامی قوانین سے متعلق خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی بدلتے ہوئے رجحان کا ایک اظہار ظہران ممدانی اور بنجامن نیتن یاہو سے متعلق سامنے آنے والے سروے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ نتائج کسی ایک شخصیت کی مقبولیت یا غیر مقبولیت سے زیادہ اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی یہودی ووٹر اب شخصیات کے بجائے پالیسیوں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی حمایت اور نیتن یاہو کی حمایت کو ایک ہی چیز سمجھنے کا تصور پہلے کی نسبت کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی رجحان آئندہ برسوں میں بھی برقرار رہا تو اس کے اثرات صرف امریکی یہودی برادری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکہ کی داخلی سیاست، ڈیموکریٹک پارٹی کے مؤقف اور واشنگٹن و تل ابیب کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سروے کو محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ امریکی یہودی سیاست میں ایک ممکنہ تاریخی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرینی صدر زیلنسکی نے اچانک پوری حکومت برطرف کردی
یہ صرف ایک سروے نہیں، ایک بدلتی ہوئی سیاسی حقیقت ہے
امریکی یہودی برادری کے بارے میں طویل عرصے سے یہ تصور پایا جاتا رہا ہے کہ اسرائیل کی حمایت اس کی متفقہ شناخت کا لازمی حصہ ہے۔ تاہم حالیہ سروے اس روایت پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی سلامتی اور اس کے وجود کی حمایت اب بھی امریکی یہودیوں کی بڑی اکثریت کے لیے اہم ہے، لیکن یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں، خصوصاً غزہ جنگ کے حوالے سے، اختلافِ رائے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔
دوسری جانب غزہ جنگ نے امریکہ میں اسرائیل سے متعلق بحث کو بھی نئی سمت دے دی ہے۔ اب یہ معاملہ صرف خارجہ پالیسی یا مشرقِ وسطیٰ کی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی معاشرے، جامعات، سیاسی جماعتوں اور خود یہودی برادری کے اندر بھی ایک سنجیدہ فکری مباحثے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ نوجوان نسل، لبرل حلقے اور سیکولر یہودی پہلے کے مقابلے میں زیادہ کھل کر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ مذہبی اور قدامت پسند حلقے اسرائیل کے مؤقف کی مضبوط حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔