Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی سطح پر ’’محمد‘‘ نام رکھنے کے رجحان میں اضافہ، برطانیہ سر فہرست

Updated: July 13, 2026, 9:51 PM IST | London

برطانیہ میں مسلسل تیسرے سال ’’محمد‘‘ نومولود لڑکوں کا سب سے مقبول نام قرار پانے کے بعد مغربی ممالک میں اس نام کی مقبولیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ انگلینڈ اور ویلز کے علاوہ جرمنی، بلجیم، فرانس، نیدرلینڈز، سویڈن اور امریکہ میں ’’محمد‘‘ نام رکھنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض یورپی ممالک میں اسلام مخالف سیاست کے عروج کے باوجود کئی بڑے شہروں میں ’’محمد‘‘ بدستور مقبول ترین ناموں میں شامل ہے۔

Thousands of British Muslims demonstrate against blasphemy against the Prophet Muhammad. Photo: INN
ہزاروں برطانوی مسلمان پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے۔تصویر: آئی این این

انگلینڈ اور ویلز میں نومولود لڑکوں کے ناموں کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار نے ایک بار پھر اس رجحان کی تصدیق کر دی ہے کہ ’’محمد‘‘ مسلسل تیسرے سال بھی سب سے زیادہ رکھا جانے والا لڑکوں کا نام بن گیا ہے۔ برطانیہ کے سرکاری ادارے آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس (ONS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء کے دوران ’’محمد‘‘ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ ’’نوآ‘‘ (نوح) دوسرے اور ’’اولیور‘‘ تیسرے نمبر پر رہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ میں آبادیاتی تبدیلیوں، مسلم آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب اور سماجی رجحانات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ یورپ کے کئی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتیں تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن دوسری جانب مسلم خاندانوں میں ’’محمد‘‘ نام کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سوال صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ جرمنی، فرانس، بلجیم، نیدرلینڈز، سویڈن اور دیگر غیر مسلم اکثریتی ممالک میں یہ نام کس مقام پر ہے اور وہاں اس کی مقبولیت کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں ماسک پہنا شخص کون تھا؟

برطانیہ میں نام ’’محمد‘‘
برطانیہ میں جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ہزاروں نومولود بچوں کا نام ’’محمد‘‘ رکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی ایک اہم وجہ برطانیہ میں مسلم آبادی میں اضافہ، نوجوان مسلم خاندانوں کی تعداد اور اسلامی روایت سے وابستگی ہے۔ مسلمانوں میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے نام پر بچوں کے نام رکھنے کی روایت صدیوں پرانی ہے، جس کی جھلک اب مغربی ممالک کے سرکاری ریکارڈ میں بھی واضح طور پر نظر آنے لگی ہے۔ اس رپورٹ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ برطانوی ادارہ مختلف ہجوں کے ناموں کو الگ الگ شمار کرتا ہے۔ یعنی ’’Muhammad‘‘، ’’Mohammed‘‘ اور ’’Mohammad‘‘ کو ایک ہی نام کے مختلف اندازِ تحریر تصور کرنے کے بجائے الگ اندراجات کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود صرف ’’Muhammad‘‘ ہی مسلسل تیسرے سال پہلے نمبر پر رہا، جبکہ اگر تینوں ہجوں کو یکجا کیا جائے تو اس نام کی مقبولیت دوسرے تمام ناموں سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔
برطانیہ کی اس تازہ رپورٹ نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ’’محمد‘‘ صرف انگلینڈ اور ویلز تک محدود ایک رجحان ہے یا یورپ اور دیگر ترقی یافتہ غیر مسلم ممالک میں بھی یہ نام تیزی سے مقبول ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے مختلف ممالک کے سرکاری اعداد و شمار، شہری سطح کے ریکارڈ اور ناموں کی سالانہ درجہ بندی کا جائزہ لیا گیا، جس سے کئی دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوکرینی صدر زیلنسکی نے اچانک پوری حکومت برطرف کردی

جرمنی میں نام ’’محمد‘‘
برطانیہ کے بعد اگر یورپ کے دیگر غیر مسلم اکثریتی ممالک کا جائزہ لیا جائے تو ایک دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ اگرچہ قومی سطح پر انگلینڈ اور ویلز کی طرح کسی دوسرے بڑے یورپی ملک میں ’’محمد‘‘ پہلے نمبر پر نہیں پہنچ سکا، لیکن کئی اہم شہروں اور علاقوں میں یہ برسوں سے مقبول ترین ناموں میں شامل ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلم آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بعض شہروں کی سماجی اور آبادیاتی ساخت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔
جرمنی اس کی نمایاں مثال ہے۔ ملک بھر میں لڑکوں کے ناموں کی فہرست میں اب بھی ’’نوآ‘‘، ’’میٹیو‘‘ اور دیگر نام سرفہرست ہیں، تاہم دارالحکومت برلن میں ’’محمد‘‘ کئی برسوں سے سب سے زیادہ رکھے جانے والے لڑکوں کے ناموں میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی میں ترک، عرب اور دیگر مسلم برادریوں کی بڑی آبادی اس رجحان کی اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ قومی درجہ بندی میں یہ نام ابھی پہلے نمبر تک نہیں پہنچا، لیکن بڑے شہری مراکز میں اس کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: مادورو حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی

بلجیم میں نام ’’محمد‘‘
اسی طرح بلجیم میں بھی قومی سطح پر ’’محمد‘‘ پہلے نمبر پر نہیں ہے، لیکن برسلز اور اینٹورپ جیسے بڑے شہروں میں یہ کئی برسوں سے سب سے زیادہ منتخب کیے جانے والے لڑکوں کے ناموں میں شامل ہے۔ ان دونوں شہروں میں مراکشی اور ترک نژاد مسلم آبادی کی نمایاں موجودگی اس رجحان کو تقویت دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی ناموں کے انتخاب پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔

فرانس میں نام ’’محمد‘‘
فرانس کی صورت حال بھی کسی حد تک مختلف مگر دلچسپ ہے۔ ملک میں بچوں کے ناموں کی قومی درجہ بندی برطانیہ کی طرح نمایاں انداز میں جاری نہیں کی جاتی، تاہم مختلف مقامی اور علاقائی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مارسی اور پیرس کے نواحی علاقے سین سان دونی میں ’’محمد‘‘ کئی برسوں سے مقبول ترین ناموں میں شامل رہا ہے۔ ان علاقوں میں مسلم آبادی کا تناسب فرانس کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کا اثر نومولود بچوں کے ناموں پر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شام: الشرع کا نو منتخب پارلیمنٹ سے تاریخ میں نیا باب شروع کرنے کا مطالبہ

نیدرلینڈز اور سویڈن میں نام ’’محمد‘‘
دوسری جانب نیدرلینڈز اور سویڈن میں بھی ’’محمد‘‘ کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، لیکن یہ ابھی قومی سطح پر پہلے دس ناموں میں جگہ نہیں بنا سکا۔ اسی طرح امریکہ میں بھی یہ نام مسلم برادری کے اندر تو خاصا مقبول ہے، مگر مجموعی قومی درجہ بندی میں اب بھی لیئم، نوح، اولیور اور تھیوڈور جیسے نام سرفہرست ہیں۔

’’محمد‘‘ کی بڑھتی مقبولیت
اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ انگلینڈ اور ویلز اس وقت واحد بڑی مغربی اکائی ہیں جہاں ’’محمد‘‘ قومی سطح پر پہلے نمبر پر پہنچ چکا ہے، لیکن جرمنی، بلجیم اور فرانس کے متعدد بڑے شہروں میں بھی اس نام کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہی رجحان اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے کہ یورپ میں آبادیاتی تبدیلیاں کس طرح سماجی اور ثقافتی منظرنامے پر اپنے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اس رجحان کی ایک اہم وجہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مسلم آبادی میں مسلسل اضافہ بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہجرت، خاندانی ملاپ، قدرتی آبادی میں اضافے اور نسبتاً کم عمر مسلم آبادی نے کئی مغربی ممالک کی آبادیاتی ساخت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی تبدیلی نومولود بچوں کے ناموں کے انتخاب میں بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی عالمی سطح پر رسوائی، دوسرے بیٹے نے بھی باپ کا نام ہٹا دیا

تحقیقی اداروں کے اندازوں کے مطابق برطانیہ میں مسلمان آبادی کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ فرانس، جرمنی، بلجیم، نیدرلینڈز اور سویڈن میں بھی مسلم برادری گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں رفتار سے بڑھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے بڑے شہروں میں ’’محمد‘‘، ’’احمد‘‘، ’’علی‘‘ اور دیگر اسلامی نام پہلے کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ آبادی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے نام کسی بھی معاشرے کی بدلتی ہوئی آبادیاتی تصویر کا ایک اہم اشارہ سمجھے جاتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب یورپ کے کئی ممالک میں تارکین وطن اور مسلمانوں سے متعلق سیاسی بحث پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ جرمنی میں آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD)، فرانس میں نیشنل ریلی، نیدرلینڈز میں گیرٹ ولڈرز کی جماعت اور دیگر دائیں بازو کی سیاسی قوتیں ہجرت پر سخت پابندیوں اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مسلسل مہم چلا رہی ہیں۔ متعدد ممالک میں اسلاموفوبیا، نفرت انگیز جرائم اور مساجد پر حملوں کے واقعات بھی بحث کا موضوع رہے ہیں۔
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کے ناموں میں آنے والی تبدیلی کو صرف سیاست کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس رجحان کے پیچھے بنیادی عوامل آبادی میں اضافہ، نوجوان مسلم خاندانوں کا زیادہ تناسب، مذہبی وابستگی اور خاندانی روایات ہیں۔ مسلمان والدین کی بڑی تعداد آج بھی اپنے بچوں کے لیے حضرت محمد ﷺ کے نام کو ترجیح دیتی ہے، جس کے باعث مختلف ہجوں کے ساتھ یہ نام مغربی ممالک کے سرکاری ریکارڈ میں مسلسل نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم۷۱؍ برس کی عمر میں اچانک علالت کے بعد انتقال کر گئے

ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ناموں کے رجحانات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں بچوں کے نام صرف ایک سماجی روایت کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ وہ آبادی، ثقافت، مذہبی شناخت اور ہجرت جیسے عوامل کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی لیے مغربی ممالک میں ’’محمد‘‘ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو صرف ایک نام کی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ بدلتے ہوئے آبادیاتی رجحانات کے آئینے میں دیکھا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس (ONS) ہر سال بچوں کے ناموں کی درجہ بندی جاری کرتا ہے، جبکہ جرمنی، بلجیم، فرانس اور دیگر ممالک میں یہ اعداد و شمار مختلف سرکاری اداروں یا مقامی انتظامیہ کے ذریعے مرتب کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے تمام ممالک میں ناموں کی درجہ بندی کا طریقۂ کار یکساں نہیں۔ کہیں قومی سطح کے اعداد و شمار دستیاب ہیں تو کہیں صرف ریاستی یا شہری سطح کی فہرستیں جاری کی جاتی ہیں۔ یہی فرق اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ بعض شہروں میں ’’محمد‘‘ پہلے نمبر پر ہونے کے باوجود پورے ملک کی فہرست میں سرفہرست نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: شاہی مہمانوں کا قرآن کمپلیکس اور مدینہ کے تاریخی مقامات کا دورہ

اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’محمد‘‘ کے مختلف ہجے، جیسے Muhammad، Mohammed، Mohammad اور بعض ممالک میں Mohamed، الگ الگ شمار کیے جاتے ہیں۔ اگر ان تمام ہجوں کو یکجا کیا جائے تو کئی یورپی ممالک میں اس نام کی مجموعی مقبولیت سرکاری درجہ بندی سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ یہی نکتہ ماہرین اکثر اس بحث میں اٹھاتے ہیں کہ مختلف املا کی وجہ سے اس نام کی اصل مقبولیت مکمل طور پر سامنے نہیں آ پاتی۔
اگر موجودہ آبادیاتی رجحانات برقرار رہے تو آنے والے برسوں میں جرمنی، بلجیم، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے بڑے شہروں میں بھی ’’محمد‘‘ کی مقبولیت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ کب اور کن ممالک میں قومی سطح کی درجہ بندی کو متاثر کرے گی، اس کا انحصار ہر ملک کی آبادی، شرح پیدائش، ہجرت کے رجحانات اور ناموں کے سرکاری اندراج کے نظام پر ہوگا۔ فی الحال ایک بات واضح ہے کہ برطانیہ میں ’’محمد‘‘ صرف ایک نام نہیں بلکہ بدلتے ہوئے سماجی اور آبادیاتی منظرنامے کی ایک نمایاں علامت بن چکا ہے، جس کے اثرات یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی مختلف صورتوں میں نظر آ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK