Updated: July 13, 2026, 9:04 PM IST
| Tokyo
جاپان میں کم ہوتی شرحِ پیدائش اور سکڑتی آبادی نے ایک غیرمعمولی سماجی تبدیلی کو جنم دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ پالتو کتوں اور بلیوں کی تعداد ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف جاپانی معاشرے کے خاندانی ڈھانچے کو بدل دیا ہے بلکہ پالتو جانوروں کی دیکھ بھال سے وابستہ صنعت کو بھی تیزی سے وسعت دی ہے، جس کی مالیت اب ۸۸۰؍ ارب ین سے تجاوز کر چکی ہے۔
جاپان میں کم ہوتی شرحِ پیدائش اور مسلسل سکڑتی آبادی نے ملک کے سماجی اور معاشی منظرنامے کو نئی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس تبدیلی کی ایک نمایاں جھلک شہری پارکوں اور سڑکوں پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں بچوں کی گاڑیوں میں شیر خوار بچوں کے بجائے چھوٹے کتوں اور بلیوں کو گھمایا جا رہا ہے۔ تازہ آبادیاتی اور مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں رجسٹرڈ پالتو کتوں اور بلیوں کی مجموعی تعداد اب ۱۵؍ سال سے کم عمر انسانی بچوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان جاپان میں خاندانی ڈھانچے، طرزِ زندگی اور صارفین کی ترجیحات میں آنے والی بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق جاپان میں نوجوان نسل کے لیے بچوں کی پرورش پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی اور مشکل ہو چکی ہے۔ شہری زندگی، طویل دفتری اوقات، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے بہت سے افراد اور جوڑوں کو والدین بننے کے بجائے پالتو جانور پالنے کی طرف مائل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی یہودیوں میں فلسطین حامی ظہران ممدانی، نیتن یاہو سے زیادہ مقبول: پول
ماہرین کا کہنا ہے کہ پالتو جانور نہ صرف تنہائی کم کرتے ہیں بلکہ بغیر کسی سماجی یا معاشی دباؤ کے جذباتی وابستگی بھی فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں خاندان کے باقاعدہ فرد کی حیثیت دی جانے لگی ہے۔ اس سماجی تبدیلی نے جاپان میں پالتو جانوروں کی مصنوعات کی صنعت کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ بچوں کے لیے جدید مصنوعات تیار کرنے والی کئی معروف کمپنیاں اب اپنی مہارت پالتو جانوروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ جاپانی کمپنی Lucky Industries، جو بچوں کے لیے جدید اور آرام دہ بے بی کیریئرز بنانے کے لیے مشہور ہے، نے حال ہی میں ’’Nu-i‘‘ کے نام سے کتوں کے لیے خصوصی ارگونومک ہِپ کیریئرز متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان کی تیاری میں جانوروں کے ڈاکٹروں سے مشاورت کی گئی تاکہ چھوٹے کتوں کے جسمانی ڈھانچے کے مطابق آرام دہ ڈیزائن تیار کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں ماسک پہنا شخص کون تھا؟
اسی طرح بچوں کے اعلیٰ معیار کے اسٹرولرز بنانے والی کمپنی AirBuggy نے بھی پالتو جانوروں کے لیے خصوصی اسٹرولرز کی مانگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ ان اسٹرولرز میں جھٹکے جذب کرنے والے فریم اور عمر رسیدہ یا کمزور پالتو جانوروں کے لیے اضافی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ادھر جاپانی صارفین کی معروف کمپنی Unicharm، جو بچوں کے ڈائپرز تیار کرتی ہے، نے اپنی ’’Manner Wear‘‘ مصنوعات کو بھی تیزی سے وسعت دی ہے۔ اس لائن کے تحت کتوں اور بلیوں کے لیے خصوصی ڈائپرز اور ٹریننگ پیڈ تیار کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق پالتو جانوروں سے متعلق مصنوعات اب اس کی مجموعی فروخت کا تقریباً ۱۷؍ فیصد حصہ بن چکی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں ان مصنوعات کا منافع بچوں کی مصنوعات سے بھی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے۲؍طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کئے
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جاپان میں پالتو جانوروں کی صنعت تیزی سے پریمیم مارکیٹ کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اب مالکان اپنے جانوروں کے لیے مہنگا خصوصی کھانا، ڈیزائنر لباس، طبی سہولتیں، لگژری لوازمات اور دیگر اعلیٰ معیار کی مصنوعات خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تخمینوں کے مطابق جاپان کی پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کی صنعت کی مالیت اب ۸۸۰؍ ارب ین (تقریباً ساڑھے ۵؍ کھرب روپے) سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ماہرین اسے ملک کی نسبتاً مستحکم اور کساد بازاری سے کم متاثر ہونے والی صنعتوں میں شمار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بچوں سے متعلق مصنوعات کی مارکیٹ مسلسل سکڑ رہی ہے کیونکہ جاپان میں شرحِ پیدائش کئی برسوں سے تاریخی کم ترین سطح پر برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں جاپان کی معیشت، لیبر مارکیٹ اور سماجی ڈھانچے پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ پالتو جانوروں کی صنعت مزید تیزی سے ترقی کرتی رہے گی۔