Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ ۲۶ء: ٹکٹوں کا بحران، ۷۶ء۱؍ لاکھ سے زائد ٹکٹ ری سیل بازار میں

Updated: June 10, 2026, 10:10 PM IST | New York

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں، لیکن ٹورنامنٹ کو ٹکٹوں کی فروخت کے حوالے سے غیر متوقع مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک لاکھ ۷۶؍  ہزار ٹکٹ سرکاری ری سیل پلیٹ فارم پر فروخت کے لیے دستیاب ہیں، جبکہ ہزاروں ٹکٹ اب بھی براہ راست فروخت نہیں ہو سکے۔ بعض میچوں، خصوصاً ایران، سعودی عرب اور میزبان امریکہ کے مقابلوں کے لیے بھی مانگ توقعات سے کم ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں صرف تین دن باقی ہیں، تاہم ٹورنامنٹ کے منتظمین کو ٹکٹوں کی فروخت اور اسٹیڈیم میں ممکنہ حاضری کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فیفا کے سرکاری ری سیل پورٹل پر اس وقت تقریباً ایک لاکھ ۷۶؍ ہزار ٹکٹ فروخت کے لیے موجود ہیں، جس نے عالمی فٹ بال تنظیم کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیفا اس ایڈیشن کو تاریخ کا سب سے بڑا اور کامیاب ورلڈ کپ قرار دے رہا ہے۔ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء پہلی بار ۴۸؍ ٹیموں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، جبکہ مجموعی طور پر ۱۰۴؍ میچ امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران سرکاری ری سیل پلیٹ فارم پر ٹکٹوں کی اوسط قیمتوں میں تقریباً ۲۰؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے باوجود فروخت کی رفتار سست ہے، جبکہ ری سیل پر لاگو ۲۶؍ فیصد فیس کے باعث بہت سے ٹکٹ ہولڈرز کو نقصان اٹھانے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں غربت و عدم مساوات پر تحقیق کے اعتراف میں جین ڈریز کو گلوبل ایوارڈ

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے گروپ مرحلے کے میچوں کے لیے تقریباً ۱۶؍ ہزار ٹکٹ دستیاب ہیں۔ ان مقابلوں کے لیے مارکیٹ میں سب سے کم قیمت والا ٹکٹ ۱۳۸؍ امریکی ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح شریک میزبان امریکہ کے افتتاحی میچ کے لیے بھی مانگتوقعات کے مطابق نہیں ہیں۔ پیراگوئے کے خلاف پہلے میچ کے لیے تقریباً ۴۴۰۰؍ ٹکٹ ری سیل پورٹل پر دستیاب ہیں، جن کی قیمت ۸۰۰؍ امریکی ڈالر تک ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ہر گروپ میچ کے لیے اوسطاً ۳۹۰۰؍ ٹکٹ فروخت کے لیے موجود ہیں، جو بعض مارکیٹوں میں محدود طلب کی نشاندہی کرتے ہیں۔

فیفا کی متحرک قیمتوں (Dynamic Pricing) کی پالیسی بھی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹکٹوں کی بلند قیمتوں نے عام شائقین کے لیے میچز دیکھنا مشکل بنا دیا ہے، جبکہ ری سیل مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مزید برآں، تقریباً ۱۵؍ ہزار گروپ مرحلے کے ٹکٹ اب بھی براہ راست خریداری کے لیے دستیاب ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ابتدائی فروخت فیفا کی توقعات سے کم رہی۔

یہ بھی پڑھئے: صومالی فیفا ریفری عمر آرتان کوگھنٹوں امریکہ کے حراستی سیل میں رکھا گیا

کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹورنامنٹ کے آغاز کے بعد بھی بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہتی ہیں تو یہ فیفا کے لیے ایک نمایاں انتظامی اور تجارتی دھچکا تصور کیا جا سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ورلڈ کپ کی توسیع کو عالمی فٹ بال کی ترقی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ ورلڈ کپ کا آغاز ۱۲؍ جون کو ہوگا اور دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ٹورنامنٹ میدان کے اندر اپنی توقعات پر پورا اتر پاتا ہے یا نہیں، جبکہ منتظمین اسٹیڈیمز میں بھرپور حاضری یقینی بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK