اس تعلق سے سنّی جمعیۃ العلماء کےمدنپورہ میں واقع دفتر میںمیٹنگ بلائی گئی۔ سعودی حکومت سے اپنا فیصلہ فوراً واپس لینے کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 2:14 PM IST | Inquilab News Network | Madanpura
اس تعلق سے سنّی جمعیۃ العلماء کےمدنپورہ میں واقع دفتر میںمیٹنگ بلائی گئی۔ سعودی حکومت سے اپنا فیصلہ فوراً واپس لینے کا مطالبہ۔
سعودی عرب میں ۲۶-۲۰۲۵ ء کے تعلیمی نصاب میں متعدد تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں بعض احادیث ِ مبارکہ، اسلامی عبارات اور مذہبی اقتباسات کے حذف و ترمیم سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔اس کا حوالہ دیتے ہوئے سنی جمعیۃ العلماء کےدفتر میں رضااکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری کی سربراہی میں بدھ کو علماء کی میٹنگ منعقد بلائی گئی جس میں کہا گیا کہ ایسا کیا جانا سخت تشویش کا باعث ہے ۔ایسا اقدام محض سیاسی، سفارتی یا وقتی مصلحتوں کے تحت کیا جانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: دودھ مہنگا ہونے سے چائے بھی مہنگی مگرشوقین افراد پر زیادہ اثر نہیں پڑا
میٹنگ میں یہ واضح کیا گیا کہ رسول اکرم ؐ کی مبارک احادیث کسی حکومت، سلطنت یا وزارتِ تعلیم کی جاگیر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے مقدس علمی و دینی اوررہنمائی کا عظیم سرمایہ ہے۔ اگر کسی مستند حدیث کے کسی حصے کی تشریح مشکل یا حساس ہوتی ہے تو اس کی وضاحت مستند علماء و محدثین کے ذریعے کی جائے نہ کہ ایسی حدیث کو نصاب سے خارج کردیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:ملی تنظیموں کے نمائندوں اورعلماء پر مشتمل وفد کی ادھو ٹھاکرے سے ملاقات
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ ’’حالیہ بین الاقوامی رپورٹوں میں سعودی اسکولی نصاب میں متعدد تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں شامل بعض احادیث اور مذہبی اقتباسات کا حذف بھی بتایا گیا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ محض نصاب میں معمولی ترمیم کا معاملہ نہیں بلکہ نئی نسل کے دینی شعور اور اسلامی تاریخ کے تئیں انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ ‘‘رضا اکیڈمی کے سربراہ نے کہا کہ’’ اسلام نے اہلِ کتاب اور دیگر اقوام کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک، معاہدے، انسانی وقار اور بقائے باہمی کے واضح اصول دیئے ہیں۔ رسولِ اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ اس کی روشن ترین مثال ہے۔ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بالفرض مذہبی رواداری مقصود ہے تو سیرتِ مصطفیٰ ؐکا مکمل اور مستند تعارف نئی نسل کو کیوں نہ کرایا جائے؟ کیا رواداری کے نام پر تاریخ کے بعض حصوں کو حذف کرنا اورنصاب سے احادیث یا اس کے کسی حصےکو ختم کرنا ہی واحد راستہ ہے؟ اس کے علاوہ سعودی نصاب سے ’’مسلمان بیت المقدس سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ جیسے واضح موقف کا حذف کیا جانااور اسرائیل سے متعلق بعض سابقہ اصطلاحات کی تبدیلی کی اطلاعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اس لئے سعودی حکومت اسے فوراً واپس لے ۔‘‘
اس میٹنگ میں مولانا فرید الزماں ، مولانا امان اللہ رضا ، مولانا محمد عثمان ، برکت علی اورمحمد فرید وغیرہ شامل تھے۔