فنانشل انٹیلی جنس یونٹ - انڈیا کے ڈائریکٹر نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ۱۵؍ ورچوئل ڈجیٹل ایسٹس سروس پرووائیڈرز کو قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi
فنانشل انٹیلی جنس یونٹ - انڈیا کے ڈائریکٹر نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ۱۵؍ ورچوئل ڈجیٹل ایسٹس سروس پرووائیڈرز کو قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے ہیں۔
فنانشل انٹیلی جنس یونٹ - انڈیا کے ڈائریکٹر نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ۱۵؍ ورچوئل ڈجیٹل ایسٹس سروس پرووائیڈرز کو قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان ۱۵؍ وی ڈی اے ایس پیز میں ویکسا انٹرنیشنل ایکسچینج لمیٹڈ، بی ایل ایف گلوبل لمیٹڈ، ریزر ایکس، بٹونکس ایل ایل سی، ڈیجی فائنیکس لمیٹڈ، ہوپ فل ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ ، فب ٹی سی لمیٹڈ / ایکس ٹی ٹیکنیکل پی ٹی ای لمیٹڈ، ایل ٹریڈ لمیٹڈ، وو ٹیک لمیٹڈ، مارکیٹا ٹریڈنگ انک ، سی ایچ این گروپ ایل ایل سی، سمپل سواب لمیٹڈ ، ایف ایف جی ایکس گروپ ایل ایل سی، یو اے بی کلیئر وائٹ ٹیکنالوجیز اور فن سیون سی زیڈ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’گوڈزیلا مانئس زیرو‘‘ کا نیا ٹریلر جاری، نومبر میں ’’رامائن‘‘سے بڑا مقابلہ ہوگا
اس کے ساتھ ہی، ان کرپٹو اثاثہ جاتی سروس فراہم کنندگان کو عوام کی رسائی سے ان ایپلیکیشنز/یو آر ایل کو ہٹانے کے لیے بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قوانین کی متعلقہ شقوں کی تعمیل کیے بغیر غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ وی ڈی اے ایس پیز کو مارچ ۲۰۲۳ء میں پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ،۲۰۰۲ء کی شقوں کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ کے فریم ورک کے دائرہ کار میں لایا گیا تھا۔
ملک میں کام کرنے والے تمام ورچوئل ڈجیٹل ایسٹس کے ماہرین کے لیے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ - انڈیا کے پاس بطور رپورٹنگ ایجنسی رجسٹرڈ ہونا اور پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ، ۲۰۰۲ء اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے تحت مقررہ ذمہ داریوں کی تعمیل کرنا لازمی ہے۔ ورچوئل ڈجیٹل اثاثوں اور فیئٹ (روایتی) کرنسیوں کے درمیان تبادلے، ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی، ان کی حفاظت یا انتظام، یا ان پر کنٹرول فراہم کرنے والے آلات جیسی سرگرمیوں میں مصروف تمام اداروں کے لیے اسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:لیہ پولٹن انگلینڈ ویمنز کی نئی منیجنگ ڈائریکٹر مقرر
رجسٹریشن کی ضرورت کا انحصار ملک میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں پر ہے، ادارے کی فزیکل موجودگی اس کے لیے ضروری نہیں۔ وزارت نے عام لوگوں کو بیدار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کرپٹو پروڈکٹس اور این ایف ٹیز غیر منظم ہیں اور انتہائی جوکھم بھرے ہو سکتے ہیں۔ ایسے لین دین سے ہونے والے کسی بھی نقصان کی بھرپائی کے لیے کوئی ریگولیٹری قانون یا تلافی کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکتی۔