Inquilab Logo Happiest Places to Work

احمد آباد طیارہ حادثے کی پہلی برسی، ہولناک یادیں آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں

Updated: June 12, 2026, 10:01 AM IST | New Delhi

مہلوکین کے اہل خانہ اب بھی جہاز میں سفر سے خوف زدہ، بعض کو ایسا صدمہ پہنچا اورذہنی دھچکا پہنچا کہ اب تک کونسلنگ کروا رہے ہیں۔

The grieving heirs of the plane crash victims. (File photo)
طیارہ حادثہ کے مہلوکین کے غمزدہ ورثاء کی۔ (فائل فوٹو)

احمد آباد میں ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی ۱۷۱؍کے المناک حادثے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، لیکن اس سانحے کی ہولناک یادیں آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ۱۲؍ جون۲۰۲۵ءکو لندن جانے والی پرواز احمد آباد کے میگھانی نگر میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار۲۴۱؍ افراد اور زمین پر موجود۱۹؍ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا تھا۔ بھاسکر کی گراؤنڈ رپورٹ کے مطابق، حادثے کے ایک سال بعد بھی بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں اس سانحے کے آثار مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ جہاں طیارے کا ملبہ گرا تھا اور جہاں لاشیں ملی تھیں۔دوسری جانب حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندان آج بھی شدید صدمے کا شکار ہیں۔ کچھ افراد اب بھی فضائی سفر سے خوف محسوس کرتے ہیں، جبکہ بعض اس ذہنی اذیت سے نکلنے کے لیے مسلسل نفسیاتی مشاورت (کونسلنگ) حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’عزیز دوست‘‘ امریکہ کا ہندوستان کے ایک اور جہاز پر حملہ

 متاثرہ خاندانوں کی درد بھری کہانیاں

 جہاز کی آواز سے بھی خوف آتا ہے: دِیو کے رہنے والے رفیق عرب نے ۲۵؍ سالہ بیٹے فیضان کو اس طیارہ حادثے میں کھو دیا تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے کبھی ہوائی سفر نہیں کیا ہے۔ رفیق کہتے ہیںکہ ’’ہمارے اوپر سے گزرتے ہوئے طیارے کی آواز بھی ہمیں بے چین کر دیتی ہے، میں اب بھی خوف زد ہ ہوجاتا ہوں۔‘‘

والدین کی موت کے بعد ملازمت چھوڑ دی: سورت کی رہائشی مکتی ونسدیا کے والدین، دیویا اور ارجن سنگھ، اس حادثے میں ہلاک ہوئے۔ اس سانحے کے بعد مکتی شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو گئیں۔ انہوں نے اپنی ٹریول ایجنسی کی ملازمت چھوڑ دی اور کئی ماہ تک نفسیاتی علاج اور کونسلنگ حاصل کرتی رہیں۔

 مالی کا کام چھوٹ گیا، بیوی بھی چھوڑ گئی: عینی شاہد اجے پرمار: اجے پرمار حادثے کے وقت گھر واپس جا رہے تھے اور حادثے کی زد میں آ گئے تھے۔ ان کا دو ماہ تک علاج جاری رہا۔ ڈاکٹروں نے انہیں دھوپ میں کام کرنے سے منع کر دیا۔ رنگت اور جسمانی حالت بدل جانے اور روزگار ختم ہونے کے باعث شادی کے صرف ایک ماہ بعد ان کی اہلیہ بھی انہیں چھوڑ کر چلی گئی۔

 تین دھماکے ہوئے تھے: جائے حادثہ کے قریب جھونپڑی میں رہنے والے جینا بھائی نے بتایا’’س دن میری چھٹی تھی۔ اچانک تین زور دار دھماکے ہوئے۔ پہلا دھماکہ مجھے بم پھٹنے جیسا محسوس ہوا۔ میں بھاگا تو سامنے ایک درخت میں آگ لگی ہوئی تھی۔ دوسرے دھماکے میں میں زمین پر گر گیا اور میرے سینے پر چوٹ آئی۔ بعد میں مجھے دو ماہ بعد اپنی جھونپڑی میں واپس جانے کی اجازت ملی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: منی لانڈرنگ الزام: ’نیوز کلک‘ کو راحت، ای ڈی کی کارروائی کالعدم قرار دی گئی

 جس ہاسٹل پر طیارہ گرا، وہاں آج بھی حادثے کے آثار موجود

جس ہاسٹل پر طیارہ گرا تھا، اس کے عقب میں آج بھی دس سے زائد دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ گاڑیاں حادثے کے وقت طلبہ کی تھیں۔ آگ لگنے کے باعث وہ مکمل طور پر جل چکی ہیں اور زنگ آلود ہو کر ان کا رنگ بھی بدل گیا ہے۔ تمام گاڑیوں کے ٹائر جل چکے ہیں اور صرف اسٹیل کے پہیے باقی رہ گئے ہیں۔ بیشتر گاڑیوں میں نہ انجن موجود ہے اور نہ ہی بیٹری۔ بُلٹ موٹر سائیکلوں، کاروں، بائیکوں اور سائیکلوں سمیت یہ تمام گاڑیاں غالباً اسی حالت میں موجود ہیں جس حالت میں انہیں۱۲؍ جون۲۰۲۵ء کو دوپہر۴۰:۱؍ بجے سے پہلے وہاں کھڑا کیا گیا تھا۔ میگھانی نگر کے ایف ایس ایل چوراہے سے گھوڑا کیمپ جانے والی سڑک سے گزرنے والا تقریباً ہر شخص آج بھی جائے حادثہ کے قریب اپنی گاڑی کی رفتار کم کر دیتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ وہاں کھڑے ہو کر اس سانحے پر گفتگو کرتے ہیں۔ کئی افراد مہلوکین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK