Updated: August 31, 2026, 4:09 PM IST
| Brooklyn
وینزویلا کے گرفتار صدر نکولس مادورو نے امریکہ کی حراست میں رہتے ہوئے پہلی مرتبہ اپنی تصاویر جاری کی ہیں۔ ۳۰؍ اگست کو جاری کی گئی تصاویر ۲۵؍ جون کی ہیں، جن میں مادورو فتح کا نشان بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے نام پیغام میں کہا، ’’ہم مضبوط کھڑے ہیں، ہمارے دل آپ کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔‘‘ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس اس وقت بروکلین کے میٹروپولیٹن حراستی مرکز میں بغیر ضمانت کے زیرِ حراست ہیں، جبکہ امریکی عدالت نے ان کے مقدمے کی سماعت یکم جون ۲۰۲۷ء سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نکولس مادورو۔ تصویر: ایکس
وینزویلا کے گرفتار صدر نکولس مادورو نے امریکہ میں زیرِ حراست رہتے ہوئے پہلی مرتبہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کردی ہیں۔ انہوں نے ۳۰؍ اگست کو جاری پیغام میں کہا کہ وہ مضبوط اور پُراعتماد ہیں اور اپنے حامیوں کی محبت کو محسوس کررہے ہیں۔ یہ تصاویر ۲۵؍ جون کو لی گئی تھیں، جن میں ۶۳؍ سالہ مادورو فتح کا نشان بناتے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے تصاویر کو اپنے پوتے پوتیوں، بچوں اور حامیوں کے لیے ’’محبت اور امید کا ایک چھوٹا سا تحفہ‘‘ قرار دیا۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا، ’’ہم مضبوط، پُرسکون اور پُراعتماد رہیں گے: خدا ہمارے ساتھ ہے۔ خدا راستہ نکالے گا۔ وینزویلا دوبارہ جنم لے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹر مستقل طور پر خارج نہیں ہوئے: چیف الیکٹورل افسر
مادورو اور ان کی اہلیہ ۶۹؍ سالہ سیلیا فلورس اس وقت نیویارک کے بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن حراستی مرکز میں بغیر ضمانت کے قید ہیں۔ امریکی عدالت نے ان کے مقدمے کی سماعت یکمجون ۲۰۲۷ء سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں کو جنوری میں کراکس میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائی کے بعد گرفتار کرکے امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔ امریکی استغاثہ نے مادورو اور فلورس پر منشیات سے متعلق دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت سنگین وفاقی الزامات عائد کیے ہیں۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ دونوں نے منشیات کے گروہوں کے ساتھ مل کر ہزاروں ٹن کوکین امریکہ پہنچانے میں تعاون کیا۔ مادورو اور فلورس دونوں نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ مادورو نے جنوری میں عدالت میں پیشی کے دوران کہا تھا، ’’میں ایک شریف آدمی ہوں۔ میں اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں۔‘‘