Updated: August 31, 2026, 2:07 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسر ایس چوکالنگم نے واضح کیا ہے کہ خصوصی جامع نظرثانی کے دوران جن ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹروں کے Enumeration Forms جمع نہیں ہوسکے، انہیں مستقل طور پر ووٹر فہرست سے خارج سمجھنا درست نہیں۔ ریاست کے ۷۸ء۹؍ کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ۷۱ء۷؍ کروڑ نے فارم جمع کرائے، جبکہ باقی کو مختلف وجوہ کی بنیاد پر ’’ناقابلِ حصول فارم‘‘ کے زمرے میں رکھا گیا۔
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسر ایس چوکالنگم۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر میں خصوصی جامع نظرثانی کے دوران ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹروں کے Enumeration Forms جمع نہ ہونے کے معاملے پر ریاست کے چیف الیکٹورل افسر ایس چوکالنگم نے کہا ہے کہ اس تعداد کو مستقل طور پر ووٹر فہرست سے خارج ہونے والے افراد سمجھنا درست نہیں۔چوکالنگم نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ۰۷ء۲؍ کروڑ کا عدد صرف ان معاملات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں گھر گھر تصدیق کے دوران فارم جمع نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق ۳۱؍ اگست کو جاری ہونے والی ووٹر فہرست صرف مسودہ ہے اور اس کے بعد دعوے اور اعتراضات کا مکمل عمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن
مہاراشٹر میں مجموعی طور پر ۷۸ء۹؍ کروڑ رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ ۳۰؍ جون سے ۱۷؍ اگست تک جاری گھر گھر تصدیق کے دوران ۷۱ء۷؍ کروڑ، یعنی ۸۵ء۷۸؍ فیصد، ووٹروں نے دستخط شدہ Enumeration Forms جمع کرائے۔ باقی ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹروں کو ’’ناقابلِ حصول فارم‘‘ کے زمرے میں رکھا گیا، جو کل انتخابی فہرست کا ۱۵ء۲۱؍ فیصد ہیں۔ اس زمرے میں ۵۲ء۷۵؍ لاکھ ووٹر ایسے ہیں جو موجود نہیں ملے، ۸۰ء۷۶؍ لاکھ مستقل طور پر منتقل ہوچکے ہیں، ۸۱ء۳۴؍ لاکھ کو متوفی قرار دیا گیا، ۶۳ء۱۷؍ لاکھ کے نام کسی دوسری جگہ پہلے سے درج یا نقل پائے گئے، جبکہ ۲۳ء۲؍ لاکھ دیگر زمرے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی’ لیک امریکہ‘ کی حفاظت کرتے’ ڈونالڈ ڈک‘ جیسے فوجیوں کی اے آئی ویڈیو جاری
چوکالنگم نے کہا کہ ’’موجود نہیں‘‘ قرار دیے گئے ووٹروں کے بارے میں یہ ضروری نہیں کہ وہ مستقل طور پر کہیں اور منتقل ہوچکے ہوں۔ بعض افراد کام یا تعلیم کے باعث گھر پر موجود نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہری علاقوں میں کئی لوگ شام ساڑھے سات بجے یا ۸؍ بجے کے بعد گھر پہنچتے ہیں، جبکہ انتخابی عملہ ہر گھر تک رات گئے نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی موجودہ ووٹر کا نام مسودہ فہرست میں موجود نہیں تو وہ Form 6 کے ذریعے دوبارہ شمولیت کی درخواست دے سکتا ہے۔ انتخابی فہرست میں کسی غلطی کی اصلاح کے لیے Form 8، جبکہ کسی نام کے اخراج پر اعتراض کے لیے Form 7 استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دعوے اور اعتراضات کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوال پوچھنے پر طلبہ کوکارروائی اور سزا کی دھمکی نہیں دی جاسکتی : جسٹس اجل بھوئیاں
چیف الیکٹورل افسر نے یہ بھی کہا کہ بیرونِ ریاست یا بیرونِ ملک تعلیم اور ملازمت کے لیے عارضی طور پر موجود نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ووٹر اپنا حق کھو دے گا۔ ایسے ووٹروں کو بھی مسودہ فہرست میں اپنا نام چیک کرنا چاہیے اور نام غائب ہونے کی صورت میں مقررہ طریقے سے درخواست دینی چاہیے۔ اسی طرح کسی ووٹر کا نام دو جگہ درج پائے جانے کی صورت میں بھی فوری طور پر پورے انتخابی ریکارڈ سے نام حذف نہیں کیا جائے گا۔ چوکالنگم کے مطابق اگر نقل شدہ اندراج کی تصدیق ہوجائے تو ایک جگہ کا اندراج منسوخ کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل ضروری ہے۔ آج یعنی ۳۱؍ اگست کو مسودہ انتخابی فہرست جاری ہونے کے بعد ووٹروں کو اپنے نام اور تفصیلات کی جانچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حتمی انتخابی فہرست ۴؍ نومبر کو جاری کی جائے گی۔