Inquilab Logo Happiest Places to Work

پہلی بار ہیومنائیڈ روبوٹس نے زندہ جانور کی کامیاب سرجری کی

Updated: July 15, 2026, 11:38 AM IST | California

یہ تجربہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے انجینئرس اور سرجنوں نے مل کر انجام دیا، سرجری کامیاب بھی رہی۔

This surgery is being hailed as a major breakthrough for future healthcare facilities. Photo: INN
اس سرجری کو مستقبل میں صحت کی سہولتوں کیلئے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

طبی میدان میں ایک اہم پیش رفت کے تحت پہلی بار ۲؍ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس نے زندہ جانور پر کامیاب سرجری انجام دی جسے مستقبل میں صحت کی سہولتوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر  میں ۸؍ جولائی کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ تجربہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے انجینئرس اور سرجنوں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔رپورٹ کے مطابق روبوٹس نے لیپرواسکوپک کولی سسٹیکٹومی (پتہ نکالنے کی سرجری) کامیابی سے انجام دی جس میں بافتوں (ٹشوز) کو ہٹانا، کٹ لگانا، کلپس لگانا اور جگر کے نیچے سے پتّہ نکالنے جیسے مراحل شامل تھے۔تحقیق کے دوران ایک سرجری میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے سرجن کی معاونت سے کام کیا، جبکہ دوسری سرجری مکمل طور پر دو ہیومنائیڈ روبوٹس نے انجام دی۔

یہ بھی پڑھئے: لندن میں ہلدی رام کی پہلی شاخ، افتتاح پر ہندوستانی کمیونٹی کا زبردست جوش و خروش

محققین کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا انسان نما روبوٹس ایسے حالات میں طبی خدمات فراہم کر سکتے ہیں جہاں ڈاکٹر فوری طور پر موجود نہ ہوں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے سینٹر فار دی فیوچر آف سرجری کے عبوری ڈائریکٹر ڈاکٹر ریان بروڈرک نے کہا ہے کہ بطور پروف آف کانسیپٹ یہ تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔تحقیقی ٹیم نے روبوٹس کو سرجیکل آلات پکڑنے کے لیے خصوصی ایڈاپٹرز اور ایسا سافٹ ویئر تیار کیا، جس کی مدد سے سرجن کے ہاتھوں کی حرکات روبوٹ کے بازوؤں تک درست انداز میں منتقل کی جا سکیں۔محققین نے ان روبوٹس کو’’ سرجی ‘‘ کا نام دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں یہ روبوٹس صرف آپریشن تھیٹر ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی طبی سہولتوں کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال: نوجوان کی خودسوزی کے بعد بالین شاہ حکومت کیخلاف مظاہرے، استعفیٰ کا مطالبہ

تحقیق میں استعمال ہونے والے روبوٹس کوئی خصوصی طور پر تیار کردہ مشینیں نہیں تھیں بلکہ مارکیٹ میں دستیاب یونی ٹری جی ون  ہیومنائیڈ روبوٹس تھے، جن کی قیمت ۲۰؍ ہزار امریکی ڈالرز سے کم ہے۔ ان روبوٹس نے پوری کامیابی کے ساتھ یہ تجربہ کیا اور سرجری کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچایا ۔ اس تجربہ کی سائنس کی دنیا میں کافی ستائش ہو رہی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید تجربات ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK