• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختلف ریاستوں میں سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ، معمولات متاثر

Updated: September 04, 2026, 10:55 AM IST | Agency | New Delhi

آسام میں سیلاب متاثرین کی تعداد۲۵؍ ہزار سے زیادہ جبکہ مہلوکین کی تعداد۱۰۸؍ ہو گئی،یوپی میں سیلاب سے ۳؍ اموات، وارانسی اور غازی پورمیں گنگا خطرے کے نشان سے اوپر۔

A view of a flood-affected area in the city of Allahabad (Prayagraj), UP. Picture: PTI
یو پی کے شہر الہ آباد (پریاگ راج) کے ایک سیلاب زدہ علاقے کا منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ملک کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر مسائل سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں ۔ آسام میں سیلاب  سے۲۵؍ ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہیں اور ریاست میں سیلاب سے متعلق واقعات میں مہلوکین کی تعداد۱۰۸؍ ہو گئی ہے، جبکہ مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش میں بھی شدید بارش کے باعث ریل اور سڑک رابطے متاثر ہوئے ہیں۔یہ حال کی بارش ہے جس سے کئی ریاستوں میںسیلاب کی صورتحال ہے۔

آسام سب سے زیادہ متاثر 

آسام اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں شامل ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی کے مطابق ریاست کے ۷؍ اضلاع گولپارہ، شیوساگر، بشواناتھ، ناگاؤں، موریگاؤں، مغربی کاربی آنگلونگ اور کچھار سیلاب کی زد میں ہیں۔ ان اضلاع کے۱۵۵؍گاؤں میں تقریباً۲۵۰۸۳؍ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ بے گھر افرادکیلئے۱۳؍ امدادی کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔مغربی کاربی آنگلونگ میں سیلاب سے ایک خاتون کی موت کے بعد ریاست میں سیلاب سے متعلق اموات کی مجموعی تعداد۱۰۸؍ ہو گئی ہے۔ اس ریاست میں سیلاب سے تقریباً۶۴۷۷؍ہیکٹر زرعی اراضی بھی متاثر ہوئی ہے۔ نُمالی گڑھ میں دھنسری اور متیجوری میں کٹکھال ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ انتظامیہ ندیوں میں پانی کی سطح اور حساس علاقوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر : پنجاب کی ووٹر لسٹ سے راگھو چڈھا کا نام غائب، شدید برہم

 

مرشد آباد میں ریلوےلائن پر لینڈ سلائیڈنگ

مغربی بنگال کے مُرشِدآباد ضلع میں شدید بارش کے دوران فرکا کے قریب ریلوے لائن پر لینڈ سلائیڈنگ سے ریل خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ تِل ڈانگا اور نیو فرکا اسٹیشنوں کے درمیان پٹری پر ملبہ آنے کے بعد دارجلنگ میل اور کنچن کنیا ایکسپریس سمیت شمالی بنگال کی طرف جانے والی کئی ٹرینیں مختلف اسٹیشنوں پر روک دی گئیں۔ریلوے حکام اور انجینئر پٹری کو بحال کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے بعد ہی ٹرینوں کی آمدورفت معمول پر لائی جائے گی۔ محکمہ موسمیات نے بیر بھوم اور مُرشِدآباد میں شدید بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ خلیج بنگال میں بننے والے کم دباؤ کے علاقے کے باعث جنوبی بنگال میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

مدھیہ پردیش کے ستنا میں۵۰؍سے زیادہ گاؤں متاثر 

مدھیہ پردیش میں بھی شدید بارش کے باعث حالات تشویشناک ہیں۔ ستنا ضلع کے چترکوٹ میں منداکنی ندی میں پانی کی سطح بڑھنے سے۵۰؍ سے زیادہ گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں امدادی اور بچاؤ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ این ڈی آر ایف نے۱۴۳۸؍ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، جبکہ ایس ڈی آر ایف نے تقریباً۱۰۰؍ افراد کو بچایا ہے۔ضلع مجسٹریٹ پلکِت گرگ کے مطابق سیلاب سے تقریباً۶۵۰؍ مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں۷۰؍ مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ اسی دوران کُروَی تھانے کے علاقے میں شدید بارش کے بعد ایک کچا مکان گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد کی موت ہو گئی۔ منداکنی ندی کا پانی خطرے کے نشان کے قریب پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرین ایک گھنٹہ کی تاخیر سے آنے پر امبیولی ریلوے اسٹیشن پر ہنگامہ

وارانسی میںگنگا ندی کا پانی خطرے کے نشان سے اوپر

اتر پردیش کے کئی حصوں میں سیلابی صورتِ حال اور گنگا سمیت مختلف دریاؤں کے بڑھتے ہوئے پانی نے انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ وارانسی میں گنگا کی سطح وارننگ لیول سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ غازی پور میں دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ریاست کے۳۲؍ ا ضلاع سیلاب کی زد میں ہیںجبکہ ۲۳؍ ا ضلاع شدید متاثر ہیں۔ سیلاب کے سبب ۳؍ اموات ہوئی ہیں۔ متوفیوں میںایک ۱۸؍ ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK