فلوریڈا کے گورنر نے کسی بھی گروپ کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے کے قانون پر دستخط کئے،جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 07, 2026, 10:13 PM IST | Florida
فلوریڈا کے گورنر نے کسی بھی گروپ کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے کے قانون پر دستخط کئے،جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
فلوریڈا کے گورنر ران ڈی سینٹس نے ایک قانون پر دستخط کر دیے ہیں جو ریاستی عہدیداروں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی گروپ کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے سکیں اور اس کی حمایت کرنے والے طلبہ کو تعلیمی اداروں سے خارج کرسکیں۔دریں اثناءحقوقِ انسانی کی تنظیموں نے کہا ہے کہ پیر کو منظور کیا گیا یہ قانون آزادی اظہار کو محدود کرے گا۔اس قانون کے تحت ریاست کے داخلی سلامتی کے سربراہ، گورنر، اور کابینہ کسی بھی ایسی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے سکتے ہیں جو ان کی رائے میں انتہا پسندانہ کارروائیوں میں ملوث ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: سیکڑوں امریکی فوجی زخمی، اسرائیلی اخراجات میں اضافہ، جنگی دباؤ بڑھ گیا
بعد ازاں اس نامزدگی کے بعداس تنظیم کو زبردستی تحلیل کیا جا سکتا ہے اور اسے ریاستی فنڈنگ سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی طالب علم ملکی یا غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی ترویج کرے گا تو اسے تعلیمی ادارے سے نکال دیا جائے گا۔ جبکہ امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل (CAIR) نے اس قانون کو ’’سخت گیر‘‘ اور آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں ڈی سینٹس نے ایک ایگزیکٹو آرڈیننس پر دستخط کرتے ہوئے امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا تھا، تاہم ایک جج نے بالآخر اس حکم نامے کو روک دیا۔ آزادی اظہار کی تنظیم ’پین امریکہ ‘نے کہا کہ’’ یہ قانون افراد پر بے جادباؤ ڈال کر آزادی اظہار کو محدود کر سکتا ہے، جس سے وہ بولنے سے گریز کریں۔‘‘ اس کے علاوہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کئی ریپبلکن زیرِ انتظام ریاستوں نے فلسطین حامی گروپوں کو انتہاپسند قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے ۔ حالانکہ یہ گروپ ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن قانونی عمل کی خلاف ورزی ہے اور حمایت کو انتہاپسندی سے غلط طور پر جوڑتا ہے۔جبکہ ٹرمپ کی جانب سے کچھ مظاہرین کو ملک بدر کرنے کی کوششوں کو عدالتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر عالمی تقسیم، امریکہ میں اختلافات، سفارتی دباؤ میں اضافہ
ڈی سینٹس نے اس قانون کو انتہاپسندی سے نمٹنے اور تعلیمی نظام میں جواب دہی کو یقینی بنانے کا ایک لائحہ عمل قرار دیا۔تاہم، ’پین امریکہ ‘کے فلوریڈا ڈائریکٹر ولیم جانسن نے کہا کہ’’ یہ قانون ’’فلوریڈا کے طلبہ کے خلاف آئینی طور پر تحفظ یافتہ اظہارِ رائے پر سزا کے دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘