Updated: August 09, 2026, 8:04 PM IST
| Mumbai
ہندوستان میں روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے والے صارفین کو ایک بار پھر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایف ایم سی جی شعبے کی بڑی کمپنیاں، جن میں برٹانیا، ڈابر، ہندوستان یونی لیور ، گو د ر یج کنزیومر، ٹاٹا کنزیومر اور نیسلے انڈیا شامل ہیں، رواں سہ ماہی میں اپنی بعض مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
ایف ایم سی جی۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان میں روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے والے صارفین کو ایک بار پھر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایف ایم سی جی (FMCG) شعبے کی بڑی کمپنیاں، جن میں برٹانیا، ڈابر، ہندوستان یونی لیور (HUL)، گو د ر یج کنزیومر، ٹاٹا کنزیومر اور نیسلے انڈیا شامل ہیں، رواں سہ ماہی میں اپنی بعض مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
کمپنیوں کے مطابق خام مال کی بڑھتی قیمتیں، کموڈیٹی لاگت، خام تیل کے نرخ اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے منافع کے مارجن پر دباؤ بڑھایا ہے۔ تاہم کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی صارفین کی طلب اب بھی مضبوط ہے اور پریمیم مصنوعات کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مراکش اور الجزائر ویمنز افریقہ کپ کے سیمی فائنل میں، ۲۰۲۷ءورلڈ کپ کے لیے بھی کوالیفائی
جون سہ ماہی میں پہلے ہی ۲؍ سے ۵ ؍فیصد اضافہ
رپورٹ کے مطابق ایف ایم سی جی کمپنیوں نے جون سہ ماہی کے دوران اوسطاً ۲؍سے ۵؍ فیصد تک قیمتیں بڑھائی تھیں ۔ اب ستمبر سہ ماہی میں بھی کئی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ کمپنیاں صرف براہِ راست قیمت بڑھانے کے بجائے شرنک انفلیشن(Shrinkflation) کا طریقہ بھی استعمال کر رہی ہیں۔ اس میں مصنوعات کی قیمت تقریباً وہی رکھی جاتی ہے، لیکن پیکٹ میں موجود مقدار یا وزن کم کر دیا جاتا ہے۔
برٹانیا کے بسکٹ مزید مہنگے یا کم مقدار میں مل سکتے ہیں
برٹانیا انڈسٹریز کو رواں سہ ماہی میں تقریباً ۵ء۱؍ سے ۲؍ فیصد اضافی پرائسنگ کی توقع ہے۔ خاص طور پر ۵؍ اور ۱۰؍والے بسکٹ پیک پر Shrinkflation کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق چینی اور پام آئل کی بلند قیمتیں لاگت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ برٹانیا کے ایم ڈی اور سی ای او رَکشت ہرگاوے کے مطابق جون سہ ماہی میں پرائسنگ کا تقریباً ایک فیصد اثر Shrinkflation کے ذریعے آیا تھا، جبکہ ستمبر سہ ماہی میں مزید ۵ء۱؍ سے ۲؍ فیصد کا پرائسنگ ایکشن دیکھا جا سکتا ہے۔
گو د ر یج کنزیومر نے بھی قیمت بڑھانے کے اشارے دیے
گودریج کنزیومر پروڈکٹس نے جون سہ ماہی میں اوسطاً تقریباً ۵؍ فیصد قیمتیں بڑھائی تھیں ۔ کمپنی نے ستمبر سہ ماہی میں مزید اضافہ کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ تاہم کمپنی خام مال کی قیمتوں کے رجحان پر مزید وضاحت کا انتظار کر رہی ہے۔ کمپنی کے سی ای او سدھیر سیتاپتی کے مطابق کئی خام مال کی قیمتیں خام تیل سے منسلک ہیں اور خام تیل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر عام طور پر۳؍ سے ۴؍ ہفتوں میں نظر آتا ہے۔
ڈابر بھی قیمت بڑھانے پر غور کر رہا ہے
ڈابر انڈیا کا کہنا ہے کہ خام مال اور دیگر اخراجات بلند رہنے کا امکان ہے۔ ایسے میں مارجن برقرار رکھنے کے لیے کمپنی منتخب مصنوعات کی قیمتوں میں محتاط اضافہ کر سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق آمدنی میں اضافہ قیمت اور فروخت دونوں سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم زیادہ مہنگائی کے باعث والیوم گروتھ پر دباؤ رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مہیش بابو کی سالگرہ پر’’وارانسی‘‘ کی دو خاص تصاویر جاری
ایچ یو ایل کی کئی مصنوعات بھی مہنگی ہو سکتی ہیں
ہندوستان یونی لیور (ایچ یو ایل ) ستمبر سہ ماہی میں متعدد پروڈکٹ کیٹیگریز کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ کمپنی کو سہ ماہی بنیاد پر تقریباً ۲؍ سے ۵؍ فیصد مہنگائی کا دباؤ نظر آ رہا ہے۔ایچ یو ایل کی سی ای او اور ایم ڈی پریا نائر کے مطابق جون سہ ماہی میں بھی قیمتوں میں۲؍ سے ۵؍ فیصد اضافہ کیا گیا تھا اور بڑھتی ہوئی لاگت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ٹاٹا کنزیومر اور نیسلے کی بھی نظر لاگت پر
ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس کے ایم ڈی سنیل ڈیسوزا نے بھی ضرورت پڑنے پر قیمتوں میں اضافے کے اشارے دیے ہیں۔ دوسری جانب نیسلے انڈیا نے کہا ہے کہ کمپنی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مانسون اور ال نینو کے ممکنہ اثرات پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔
صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر کمپنیاں قیمتیں بڑھاتی ہیں تو روزمرہ استعمال کی کئی اشیا، خصوصاً بسکٹ، صابن، پرسنل کیئر مصنوعات، کھانے پینے کی اشیا اور دیگر گھریلو مصنوعات** کے لیے صارفین کو زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔ البتہ کمپنیوں کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ قیمتیں بڑھانے کے باوجود صارفین کی طلب متاثر نہ ہو۔ اسی لیے بعض کمپنیاں براہِ راست قیمت بڑھانے کے بجائے پیکٹ کا وزن کم کرنے یا مختلف قیمتوں والے چھوٹے پیک متعارف کرانے جیسے طریقے اختیار کر سکتی ہیں۔