• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سابق بنگلہ دیشی رکن پارلیمنٹ سمیت۶؍افراد کو سزائے موت سنادی گئی

Updated: February 07, 2026, 10:27 AM IST | Dhaka

۷؍ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، انسانیت مخالف جرائم کا الزام۔ ایک سابق رکن پارلیمنٹ کی تمام جائیداد ضبط کرکے اسے مستحق افراد میں تقسیم کرنے کا حکم۔

Security personnel stand guard outside a court in Dhaka. Photo: INN
ڈھاکہ میں  ایک عدالت کے باہر مامورسیکوریٹی اہلکار۔ تصویر: آئی این این

عوامی لیگ کےسابق لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام سمیت۶؍ افراد کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی جبکہ ۷؍افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامی سابق رکن پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام اور پولیس اہلکاروں سمیت ۶؍ افراد کو۲۰۲۴ء کی بغاوت کے دوران انسانیت کیخلاف جرائم پر سزائے موت سنائی جن میں مظاہرین کو قتل کر کے ان کی لاشیں جلا دینے جیسے جرائم بھی شامل ہیں۔ عدالت نے ۷؍ افراد کو عمر قیداور۲؍ کو۷؍ سال قید کی سزا سنائی اور ایک ملزم کو بری کردیاجو بعد میں سرکاری گواہ بن گیا تھا۔ 
عدالت نے ایک سابق رکن پارلیمنٹ کی تمام جائیداد ضبط کرکے اسے مستحق افراد میں تقسیم کرنے کا حکم بھی دیا۔ 
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق ۵؍ اگست ۲۰۲۴ءکو اشولیا کے علاقے میں ۶؍ مظاہرین کو گولی مار کر قتل کیا گیا اور ان کی لاشیں جلا دی گئیں، ایک متاثرہ شخص اس وقت بھی زندہ تھا جب اسے آگ لگا دی گئی، یہ واقعہ اسی دن پیش آیا جب عوامی لیگ کی حکومت ختم ہوئی اور شیخ حسینہ ہندوستان فرار ہوگئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: امام بارگاہ میں دھماکہ، ۳۱؍ افراد جاں بحق

سزائے موت پانے والوں میں سابق رکن پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام، سابق اشولیا پولیس اسٹیشن کے آفیسر انچارج اے ایف ایم سید، سابق سب انسپکٹر عبدالملک، سابق اسسٹنٹ سب انسپکٹر بشواجیت ساہا، سابق کانسٹیبل مکول چوکدر اور عوامی لیگ کی یوتھ ونگ کے لیڈر رونی بھوئیاں شامل ہیں۔ 
۷؍ دیگر ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ تمام پولیس اہلکار تھے۔ مقدمے میں شامل۱۶؍ افراد میں سے۸؍ قید میں ہیں۔ 
یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں اسی عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے ایک اور مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی۔  
اقوامِ متحدہ کے مطابق۲۰۲۴ء کی بغاوت کے دوران تقریباً ایک ہزار۴۰۰؍افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر ہلاکتیں پولیس کی فائرنگ اور عوامی لیگ کے کارکنوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔ 
خیال رہے کہ اس مقدمے کی سماعت۷؍ اگست۲۰۲۴ء کو شروع ہوئی۔ ۲۱؍ اگست کو تمام ۱۶؍ملزمین کے خلاف الزامات عائدکئے گئے جبکہ حتمی دلائل سننے کے بعد۲۰؍ جنوری کو عدالتی فیصلہ سنایا گیا۔ اس دوران۶۳؍ گواہوں میں سے۲۴؍ پراسیکوشن کے گواہ اور ایک دفاعی گواہ نے اپنی شہادت ریکارڈ کرائی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK