• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکزی حکومت کو ذاتی ڈیٹا جمع کرنے کا جواز پیش کرنا چاہئے: سابق بیوروکریٹس

Updated: September 03, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi

سابق بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے حوالے سے مرکزی حکومت کو ذاتی ڈیٹا جمع کرنے کا جواز پیش کرنا چاہئے، یہ معلومات زیادہ تر آبادی کے اعدادوشمار یا عوامی پالیسی کی تشکیل کے لیے کم اہمیت رکھتی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سابق بیوروکریٹس کے ایک گروپ کے مطابق مردم شماری ۲۰۲۷ء سوالنامے میں جواب دہندگان کے والدین، شریک حیات اور بینک اکاؤنٹس کی تعداد کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی ہیں، جس کے لیے مرکزی حکومت کو جواز پیش کرنے کی ضرورت ہے۔کانسٹیٹیوشنل کنڈکٹ گروپ نے اشارہ کیا کہ’’ اس طرح کی معلومات محض اس لیے جمع نہیں کی جانی چاہئیں کہ یہ جمع کی جا سکتی ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ۲۰۲۷ء کی مردم شماری کی مشق کے لیے سوالنامے میں ۱۲؍سوالات شامل ہیں جوگزشتہ  مردم شماری میں نہیں پوچھے گئے تھے۔ ان میں والدین کے نام، شریک حیات کا نام، مستقل رہائشی پتے، ان کی قومیت، کورونا ویکسین کہاں لگوائی، بینک اکاؤنٹس کی تعداد، موبائل فون، اور آدھار، ووٹر آئی ڈی، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کی تفصیلات طلب کرنے والے سوالات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: BCI کو قانون کے طلباء کے خلاف کارروائی کا کوئی حق نہیں

بعد ازاں ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے گروپ نے ایک کھلے خط میں کہا، ’’اس معلومات کا زیادہ تر حصہ آبادی کے اعدادوشمار یا عوامی پالیسی سے متعلق کم اہمیت رکھتا ہے۔نئے شامل کیے گئے کچھ سوالات، خاص طور پر جواب دہندگان کے مذہب اور والدین کی جائے پیدائش کے بارے میں تفصیلات طلب کرنے والے سوالات، قومی آبادی رجسٹر کی تیاری یا تازہ کاری میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں، جو کہ مجوزہ قومی شہری رجسٹر سے منسلک ہے۔‘‘قومی آبادی رجسٹر ہندوستان کے تمام معمول کے باشندوں کی فہرست ہے۔۔ناقدین کو خدشہ ہے کہ این آر سی، جب شہریت ترمیمی ایکٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے گا، تو حکومت کو بہت سے مسلمانوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور کرنے کی اجازت دے گا۔ حکومت اور اس کے حامیوں کا اصرار ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
تاہم اپنے خط میں، بیوروکریٹس نے کہا کہ وہ شہریوں کے رجسٹر کی تیاری کے مخالف نہیں ہیں۔ تاہم، یہ مشق شفاف طریقے سے، واضح طور پر متعین عمل کے ذریعے کی جانی چاہیے، نہ کہ مردم شماری کو ایک متبادل طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے۔ریٹائرڈ بیوروکریٹس نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کے ڈیٹا کا مجموعہ اس شماریاتی نتائج سے متعین ہونا چاہیے جو نتائج اس سے حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کی مشق کو برادریوں یا افراد کی پروفائلنگ کے مواقع پیدا نہیں کرنے چاہئیں۔شریک حیات کا نام پوچھنے والا سوال خاص طور پر مداخلت آمیز ہے۔انہوں نے مردم شماری کرنے والوں کی طرف سے جواب دہندگان کی ذات کی تفصیلات ریکارڈ کرنے کے لیے کھلے سوالات پوچھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ سوالنامہ منسوخ، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں کی تعداد قائم کرنے کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ فراہم نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھئے: بار کونسل کے صدر منن مشرا کو سپریم کورٹ سے پھر جھٹکا

مزید برآں سابق بیوروکریٹس نے نشاندہی کی کہ ان کی شناختیں شیڈول کاسٹس، شیڈول ٹرائب اور دیگر پسماندہ طبقات کی درجہ بندیوں کو عبور کرتی ہیں۔مردم شماری۲۰۲۷ء میں، سروے کرنے والے جواب دہندگان سے پوچھیں گے کہ کیا وہ شیڈول کاسٹ یا شیڈول ٹرائب سے تعلق رکھتے ہیں، اور دوسری برادریوں کے لیے ان کی ذات کے بارے میں ایک کھلا سوال بھی شامل کریں گے۔ واضح رہے کہ آزادہندوستان میں یہ پہلا موقع ہوگا جب تمام برادریوں میں ذات کا شمار کیا جائے گا۔ اب تک، مردم شماری صرف شیڈول کاسٹس اور شیڈول ٹرائبز کی آبادی کو ریکارڈ کرتی تھی۔ ہندوستان نے آخری بار۱۹۳۱ء میں تمام ذاتوں کے گروپوں کی آبادی گننے کی مشق کی تھی۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں پنجاب کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جولیو ریبیرو، دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق ہندوستانی سفیر گوتم مکھوپادھیائے، سابق الیکشن کمشنر اشوک لاوسا، سابق خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن اور سابق انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس افسر اور کارکن ہرش مندر شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK