Updated: February 04, 2026, 10:02 PM IST
| Islamabad
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے امریکہ سے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ اس وقت اوبر ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ان کے اثاثے منجمد کیے گئے، جس کے بعد وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سوری نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف جاری مقدمات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام قرار دیا۔ ان کے بیان نے پاکستان کی سیاسی صورتحال اور عدالتی عمل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے امریکہ میں اوبر ڈرائیور کے طور پر کام کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عدالتی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کے خلاف مقدمات، بینک اکاؤنٹس کی بندش اور مالی پابندیوں کے بعد ان کے لیے ملک میں رہنا ممکن نہیں رہا، جس کے نتیجے میں وہ امریکہ منتقل ہوئے۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ وہ کسی قسم کی شرمندگی کے بغیر محنت مزدوری کر رہے ہیں اور اوبر ڈرائیونگ کو باعزت روزگار سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’میں محنت سے روزی کما رہا ہوں، لیکن یہ صورتحال خود بخود پیدا نہیں ہوئی بلکہ سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ سابق ڈپٹی اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں صرف ان ہی نہیں بلکہ متعدد سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کی وجہ سے قانونی اور انتظامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات شفاف عدالتی عمل کے بجائے سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس
سوری کے مطابق، عمران خان کے خلاف جاری مقدمات نے پاکستان میں جمہوریت، قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو مجرمانہ کارروائی میں تبدیل کرنا ایک خطرناک رجحان ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ پر بھی پڑتے ہیں۔ واضح رہے کہ قاسم خان سوری ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۲ء تک پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی لیڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ اپریل ۲۰۲۲ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران ان کے فیصلے نے ملک کو آئینی بحران سے دوچار کیا تھا، جس کے بعد وہ شدید سیاسی تنازع کا مرکز بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن حالات نے انہیں مجبور کر دیا۔ ان کے بقول، ’’جب مالی ذرائع بند کر دیے جائیں اور قانونی دباؤ مسلسل بڑھتا رہے تو انسان کے پاس محدود راستے رہ جاتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غازی آباد:آن لائن گیم ’’کورین لو‘‘ ٹاسک، تین نابالغ بچیوں کی خود کشی
سوری کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں نے ان کے موقف کو سیاسی انتقام کی مثال قرار دیا، جبکہ ناقدین نے کہا کہ بیرون ملک رہ کر اس نوعیت کے بیانات پاکستان کے اندرونی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ابھی تک پاکستانی حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے قاسم خان سوری کے دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، قاسم خان سوری کا بیان پاکستان میں جاری سیاسی تقسیم، عدالتی تنازعات اور جمہوری عمل کے مستقبل پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے۔