• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سابق آئی اے ایس افسر دیویا متل کا سیاست میں آنے کا اعلان

Updated: September 30, 2026, 10:56 AM IST | Inquilab News Network | Luckhnow

عوام کی آواز بننے کا عزم، حال ہی میں عہدہ سے استعفیٰ دیا تھا، کہا: یوپی میںرہ کر سیاست کروں گی، کسی سے ڈرنے والی نہیں۔

Divya Mittal. Photo: INN.
دیویا متل۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش کیڈر کی سابق آئی اے ایس افسر دیویا متل نےسیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کیا ہے ، فی الحال وہ کس پارٹی سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کریں گی، اس کے بارےمیں انھوںنےکچھ نہیں کہا لیکن اپنے ویڈیو میں انھوںنے بی جے پی پر جم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ ان پر الزام ہے کہ انھوںنے راہل گاندھی سے ملاقات کی جبکہ یہ محض افواہ ہے۔ انھوں نے کسی بھی سیاسی لیڈر سے کوئی ملاقات نہیں کی ہے ۔انھوںنے صرف عوام کی آواز بننے کیلئے سیاست میں قدم رکھا ہے،اگر ضرورت پڑی تونئی پارٹی بنا کر سیاست کریں گی ۔ انھوںنے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ کسی سے ڈرنے والی نہیںہیں اور اترپردیش میں ہی رہ کر سیاست کریں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:امریکہ: کیلیفورنیا میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ سرکاری تعطیلات کے طور پر تسلیم

اتر پردیش کے سنت کبیر نگر ، مرزا پور اور دیوریا میں ضلع مجسٹریٹ کے عہدے پر تعینات رہ چکیں سابق آئی اےایس افسر دیویا متل کو یوگی حکومت نے چند ماہ قبل ضلع مجسٹریٹ دیوریا کے عہدے ہٹا کر بورڈآف رنیویو بھیج دیا تھا ، جہاں سے گزشتہ ۳۰؍ اگست کو انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔۱۴؍ ستمبر کو ان کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ۔ منگل کو انھوںنےسوشل میڈیا پر ایک ویڈیوپوسٹ کیا جس میں انھوںنے کہاکہ وہ اتر پردیش میں ہی رہیں گی ، کسی سے ڈرنے والی نہیںہیں ، سوال کروں گی ، مجھے طاقت یا پاور نہیں بلکہ عوام کی آواز بننا ہے ۔ عوام کو میرا ساتھ دینا چاہئے۔ انھوںنے کہاکہ ان کو حساب اور انصاف چاہئے ، جس کیلئے انھوںنے سیاست میں اترنے کی بات کہی۔ انھوں نے کہاکہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی سیاست عوام کے ساتھ شروع کریں گی تاکہ وہ عوام کی آواز بن کر افسران اور لیڈروں سے حساب مانگ سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK