Updated: October 16, 2026, 6:34 PM IST
| Paris
فرانس میں بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف سنیچر کو ملک گیر احتجاج کی تیاری ہے، جس کے تحت ۲۰۰ ؍سے ۳۰۰ ؍مقامات پر مظاہرے متوقع ہیں۔ ’یلو ویسٹ‘ تحریک سمیت مختلف مزدور تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے احتجاج کی حمایت کی ہے، جبکہ حکام نے ممکنہ تشدد کے پیش نظر حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔
فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سنیچر کو ملک گیر احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ ملک بھر میں ۲۰۰ ؍سے ۳۰۰ ؍مقامات پر مظاہرے کئے جائیں گے۔ فرانس انفو نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ مظاہروں کا انعقاد بڑے شہروں میں متوقع ہے، جبکہ احتجاج کرنے والے افراد چوراہوں، پٹرول پمپوں اور سپر مارکیٹوں کے باہر بھی جمع ہو سکتے ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں شروع ہونے والی ’یلو ویسٹ‘ تحریک کی نمایاں شخصیات، جن میں جیروم روڈریگز، پریسیلیا لودوسکی اور میکسم نکول شامل ہیں، نے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ روس ڈیزل معاہدے کے ساتھ تاریخ کے غلط رخ پر ہیں: زیلنسکی
مظاہرین کے مطالبات میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی، مجوزہ بجٹ کے تحت مختلف الاؤنسز اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو منجمد کرنے کی مخالفت، اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ فرانس انفو کے مطابق، سی جی ٹی ٹریڈ یونین، سیاسی جماعت ’فرانس اَن بو‘ اور فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی نے بھی اس احتجاجی مہم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حکام پیرس سمیت دیگر بڑے شہروں میں ممکنہ بدامنی سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران پرتشدد مظاہرین کے گروہوں کے ساتھ جھڑپوں کا خدشہ ہے، جبکہ پولیس نے دارالحکومت میں مجوزہ مظاہروں کے راستوں پر جزوی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پیرس میں حکام نے امن و امان کی صورت حال اور تشدد کے خدشات کے پیش نظر دو مجوزہ مظاہروں کیلئے متبادل راستے تجویز کئے ہیں۔