Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: مرکزی بینک کے گورنر نے ایندھن پر سبسڈی دینے کے خلاف انتباہ جاری کیا

Updated: March 13, 2026, 2:35 PM IST | Paris

بینک آف فرانس کے گورنر نے زور دیا کہ عوام کو مختصر مدت تک سبسڈیز کے بجائے فرانس کو توانائی کی خود مختاری کو مضبوط بنانے اور توانائی کی تبدیلی میں سرمایہ کاری کو تیز کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ غیر یقینی عالمی منڈیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فرانس کے مرکزی بینک، بینک آف فرانس کے گورنر نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود ایندھن پر نئی سبسڈیز متعارف کرانے کے فیصلے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی نازک مالیاتی صورتحال، اضافی اخراجات برداشت نہیں کرسکتی۔ بدھ کے دن ’آر ٹی ایل‘ براڈکاسٹر سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی مرکزی بینک کے گورنر فرانسوا ویلیروئے ڈی گلہاؤ نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں ۲ یورو (۳ء۲ ڈالر) فی لیٹر سے تجاوز کرنے کے باوجود فرانس حکومت کے ذریعے نئے امدادی اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ویلیروئے ڈی گلہاؤ نے خبردار کیا کہ ”ہمارے پاس اب مزید پیسے نہیں ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں اور لیبر یونینز کی تجاویز ملک کے بجٹ خسارے کی حالت کو مزید خراب بنا سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ ان پارٹیوں کی جانب سے ٹیکس میں کٹوتی کرنے، فیول واؤچرز یا قیمتوں پر حد مقرر کرنا جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے امدادی کارروائیاں معطل ہوسکتی ہے: اقوامِ متحدہ کا انتباہ

فرانس کا بجٹ خسارہ اس وقت مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ۵ فیصد کے قریب ہے۔ مرکزی بینک کے گورنر نے خبردار کیا کہ مزید اخراجات مالیاتی عدم توازن کو گہرا کرسکتے ہیں اور گھرانوں اور کاروباروں کے لئے قرض لینے کی لاگت میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس سے بجٹ خسارے میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے اور ہمیں اپنے رہنی قرضوں اور کاروباری قرضوں پر اور بھی زیادہ ادائیگی کرنی پڑے گی۔

ویلیروئے ڈی گلہاؤ نے زور دیا کہ عوام کو مختصر مدت کی سبسڈیز کے بجائے فرانس کو توانائی کی خود مختاری کو مضبوط بنانے اور توانائی کی تبدیلی میں سرمایہ کاری کو تیز کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ غیر یقینی عالمی منڈیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز سے ہندوستان کا ٹینکرگزرے گا، جے شنکر اور عراقچی کی گفتگو کے بعد فیصلہ

مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

فرانسیسی بینک کے گورنر کا انتباہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جاری اس تنازع نے توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایران نے تیل کی ترسیل کیلئے اہم ترین آبی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کو عملی طور پر بند کر دیا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً ۲۰ ملین بیرل تیل اور عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً ۲۰ فیصد گزرتا ہے۔

بینک آف فرانس کے مطابق، اس جیو پولیٹیکل بحران کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے اور ترقی کی رفتار سست ہوسکتی ہے جس سے فرانسیسی معیشت پر منفی اثر پڑے گا۔ مرکزی بینک کو توقع ہے کہ پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی رفتار تقریباً ۲ء۰ سے ۳ء۰ فیصد اور پورے ۲۰۲۶ء میں تقریباً ایک فیصد رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK