ٹرمپ نے یہ بھی بتایاکہ امریکہ ایران پر دوسری جنگ عظیم کے بعدسب سے بڑا حملہ کرنے والا تھا مگر خلیجی ممالک کی درخواست پراسے منسوخ کردیا۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 10:50 AM IST | Washington/Tehran
ٹرمپ نے یہ بھی بتایاکہ امریکہ ایران پر دوسری جنگ عظیم کے بعدسب سے بڑا حملہ کرنے والا تھا مگر خلیجی ممالک کی درخواست پراسے منسوخ کردیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک بار پھرایران سےگفتگو شروع کرنے کا اعلان کیا۔ٹرمپ نےکہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ دو الگ الگ معاہدے کرنا چاہتا ہے، جن میں ایک آبنائے ہرمز سے متعلق جبکہ دوسرا ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق ہوگا۔وہائٹ ہاؤس واپسی کے دوران صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہا ہے اور یہ مذاکرات پیر کی شام سے شروع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ جب چاہے کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہم دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد ایران پر سب سے بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا’’میں ایران پر فوجی حملے کے بجائے اس کے ساتھ معاہدہ کرنا زیادہ پسند کروں گا۔ٹرمپ کے مطابق ہم ایران پر بھرپور حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی منظوری دی، کیونکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات نے حملہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: گرما کی تعطیلات میں مدینہ منورہ بدستور زائرین کیلئے کشش کا مرکز بن رہا ہے
کوئی مذاکرات نہیںہورہے ہیں: اسماعیل بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم آبنائے ہرمز سے عارضی محفوظ راستہ قائم کرنے کے معاملے پر عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے کافی نہیں ہوگا کیونکہ جب تک امریکی جارحیت جاری رہے گی، صورتحال برقرار رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ عمان کے ساتھ زیر بحث نیا بحری راستہ ایک ہی راستہ ہوگا جس میں آمد اور روانگی کے لیے الگ گزرگاہیں شامل ہوں گی۔ایرانی ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ساحلی ممالک یعنی ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک یقیناً اس عمل میں کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اصل معاملہ ایران اور عمان کے درمیان ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں کیا ہوگا، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔بقائی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستے پر اتفاق اور بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اس آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری شرط ہے، تاہم یہ واحد شرط نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بند نہیں ہوا بلکہ رواں سال فروری سے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اسےبند کیا گیا۔امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نہ کسی امریکی وفد کی میزبانی کا منصوبہ ہے اور نہ ہی ایران کسی دوسرے ملک میں وفد بھیجنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور چین سمیت کسی نئے ثالث کو شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قطر ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرتا ہے۔بقائی نے چین کے ساتھ ایران کے مضبوط تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور بیجنگ امریکہ کی تباہ کن اور جارحانہ یکطرفہ پالیسیوں پر تشویش میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کردستان کے صدر کا مستحکم شام کی حمایت کا وعدہ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کی توجہ بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے پر ہوگی۔امریکی خبر رساں ادارے نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں خطے میں تمام حملے روکنے کا معاملہ بھی شامل ہوگا ۔اس کے علاوہ ایرانی تیل کی برآمدات کو بغیر کسی رکاوٹ کے دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
امریکی فوج بدستور ہائی الرٹ ہے
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اپنے رابطے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے پر ممکن ہے کہ دونوں فریق۱۸؍ جون کو دستخط کی جانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی نکات کی طرف واپس لوٹیں۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے پیر کو صدرٹرمپ کے بیانات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج بدستور ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی کارروائی کیلئے تیار ہے۔جبکہ ایران کاکہنا ہے وہ دشمن کی ہر دھمکی کوسنجیدگی سے لیتا ہے۔
دشمن کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا ہوگا: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جس یادداشت پر دستخط ہوئے وہ شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یادداشت مستقبل میں ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنے گی۔ یادداشت پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے دشمن کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا ہوگا۔مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ اس یادداشت سے ایران، خطے اور اتحادیوں کی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔