Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجاہد آزادی اصغر مرزاپوری نے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

Updated: August 15, 2026, 3:38 PM IST | Saadat Khan | Kamatipura

معروف شاعر محمد اصغر انصاری نے تحریک آزادی میں نوعمری سے حصہ لینا شروع کردیا تھا،انہوں نے پنشن لینے سے انکار کردیا تھا۔

Asghar Mirzapuri. Picture: INN
اصغر مرزاپوری۔ تصویر: آئی این این
مجاہد آزادی اور معروف شاعر محمد اصغر انصاری (جن کا قلمی نام اصغر مرزاپوری تھا) کی پیدائش ۱۵؍ جولائی ۱۹۱۵ء کو مدنپورہ ،محمد عمر رجب روڈ پر واقع صفرا بادی اسکول کےقریب کی عمارت میں ہوئی تھی ۔ اس دورمیں مدنپورہ آزادی کے متوالوں کا مسکن تھا۔یہاں کے بیشترنوجوان گاندھی جی، نہرو اور مولاناابوالکلام آزاد کی آواز پر مرنے مٹنے کوتیار تھے۔ یہاں آزادی سےمتعلق آئے دن جلسہ جلوس منعقدہوتا۔ ان ہی سرگرمیوں سے متاثرہوکر اصغرمرزاپوری نے بھی تحریک آزادی میںنوعمری سے حصہ لینا شروع کیا۔ان کا ایک گروپ تھا جو ملک کی آزادی سےمتعلق انتہائی سرگرم تھا۔اس دورمیں وہ مجاہدین آزادی حافظ علی بہادرخان، عابد علی جعفربھائی، نصرت اللہ عباسی ، صالح بھائی عبدالقادر (سابق وزیر اعلیٰ بامبے پریسیڈنسی) ، عبدالحمید انصاری(بانی روزنامہ انقلاب)، غلام احمد خاں آرزو(بانی شامنامہ ہندوستان) ، یحییٰ انصاری اور بھولا بھائی دیسائی کے ہمراہ رہاکرتےتھے۔ 
 
 
اصغرانصاری کا بچپن ملک کی آزادی کی سرگرمیوں اور تحریکوں کو دیکھتے ہوئے گزرا۔ اسی کا اثر تھا کہ وہ ۱۶؍سال کی عمر میں جنگ آزادی کی لڑائی میں شریک ہوئے اور ۱۹۴۲ء کی بھارت چھوڑو تحریک میں پیش پیش رہے جس کی وجہ سے انہیں جیل بھی جانا پڑا۔بھارت چھوڑ و آندولن کے دوران اصغرمرزاپوری کوبھی پولیس نے بہت زدوکوب کیاتھا جس کی وجہ سے انہیں گرانٹ روڈپر واقع سوپر سنیماکے سامنے والی گلی کے ایک اسپتال میں علاج کیلئے داخل کرایاگیاتھا۔ تقریباً ۱۵؍دن کوما رہے۔ بعد ازیں روبہ صحت ہونے پر انہیں گرفتار کیاگیاتھا۔ اس سےقبل۱۹۳۰ء میں ممبئی کے وڈالا میں ہونے والے نمک ستیہ گرہ میں بھی انہوں نے حصہ لیاتھا جس کی وجہ سےانہیں جیل جانا پڑا تھا۔ 
 
 
ملک کی آزادی کے بعد حکومت ہندکی جانب سے مجاہدین آزادی کو پنشن کی پیشکش کی گئی لیکن اصغر انصاری جیسے سچے حب الوطن نے اس پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ ’’ میرا مقصد میرے ملک کی آزادی تھی، مجھے اس کی کمائی نہیں کھاناہے۔‘‘ اسی وجہ سے انہوں نے پوری زندگی پنشن نہیں لی 
مجاہد آزادی اصغرمرزاپوری کے چھوٹے صاحبزادے  مبین اظہر کے مطابق’’ میرے والد حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے ۔اپنی پوری زندگی ملک کے فلاح و بہبود کیلئے وقف کی ۔ ان خدمات کے عوض کبھی کوئی اُمید نہیں رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے دی جانے والی پنشن بھی قبول نہیں کی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK