فرانس کی مسلم کونسل نے اسکارف پہننے والی خواتین کے خلاف سیاسی بیان بازی کی مذمت کی، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے ریمارکس خواتین کو مزید دشمنی کا شکار بنا سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 7:02 PM IST | Paris
فرانس کی مسلم کونسل نے اسکارف پہننے والی خواتین کے خلاف سیاسی بیان بازی کی مذمت کی، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے ریمارکس خواتین کو مزید دشمنی کا شکار بنا سکتے ہیں۔
فرانسیسی کونسل برائے مسلم عقیدہ (CFCM) نے منگل کو سیاسی شخصیات کے ان ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ بیانات کی شدید مذمت کی جو سر پر اسکارف پہننے والی مسلم خواتین کو نشانہ بناتے ہیں، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے تبصرے خواتین کو مزید دشمنی کا شکار بنا سکتے ہیں۔سی ایف سی ایم نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’’سخت ترین الفاظ میں‘‘ ان بیانات کی مذمت کرتی ہے جو سر پر اسکارف پہننے والی مسلم خواتین کو انتہا پسندانہ نظریے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔کونسل نے کہا، ’’جو لوگ اس شدت پسندی میں حصہ لیتے ہیں وہ سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کے حامل ہیں،‘‘ اور مزید کہا کہ اس طرح کے بیانات ’’خواتین کو عوامی مذمت کے لیے نشان زد کرنے اور انہیں خطرے میں ڈالنے کا باعث بنتے ہیں۔‘‘ سی ایف سی ایم نے کہا کہ سر پر اسکارف پہننے والی خواتین پہلے ہی توہین، دھمکیوں، ڈرانے اور حملوں" کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کینیڈا: ایم پی سلمیٰ زاہد کی رہائش گاہ کے باہر لوٹ مار کی کوشش، گاڑی نذرآتش
بعد ازاں اس نے اسکارف کو ’’عصری انتہا پسندانہ نظریے کی ایجاد‘‘ کے طور پر پیش کرنے کو مسترد کر دیا، اور نوٹ کیا کہ یہ عمل یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی بنیادی تحریروں میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔کونسل نے کہا، ’’کہ انتہا پسند تحریکیں اسے آلہ کار بنانے اور اسے اپنا نظریاتی جھنڈا بنانے کی کوشش کرتی ہیں، اس سے اس کی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔‘‘ یہ اس بات کا جواز نہیں دے سکتا کہ اسے ان لوگوں کے لیے ممنوع قرار دیا جائے جو مذہبی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر اسے آزادانہ طور پر منتخب کرتے ہیں۔‘‘ سی ایف سی ایم نے کہا کہ فرانسیسی جمہوریہ کا ردعمل واضح ہونا چاہیے، ’’ایک عورت جو اسکارف پہننے کا انتخاب کرتی ہے، بالکل اس عورت کی طرح جو اسے نہیں پہنتی، اسے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور اس کے آزادانہ انتخاب کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘
مزید برآں کونسل نے انتخابات سے قبل خواتین کے لباس کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کو ترجیح دینے پر بھی تنقید کی۔اس نے کہا، ’’سی ایف سی ایم حیران ہے کہ جیسے جیسے انتخابی مواقع قریب آتے ہیں، ایک سیاسی جماعت جو ہمارے جیسے عظیم ملک پر حکومت کرنے کی خواہش رکھتی ہے، وہ عوامی مقامات پر خواتین کے لباس کو کنٹرول کرنے کے لیے ہماری قانون نافذ کرنے والی افواج کو تعینات کرنا ایک ترجیح سمجھ سکتی ہے۔‘‘کونسل نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بہت سے دوسرے ترجیحی مشن ہیں، جن میں دہشت گردی، جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، افراد کے خلاف تشدد، اور عدم تحفظ کی تمام اقسام کا مقابلہ کرنا شامل ہے جو شہریوں کو متاثر کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ظہران ممدانی کے ہم شکلوں کا مقابلہ، ۹؍ امیدواروں میں ۱۰۰؍ ڈالر کیلئے مقابلہ
علاوہ ازیں سی ایف سی ایم نے فرانس میں انتخابی مباحثوں کو خوف، بدنامی اور تقسیم کو ہوا دینے کے لیے استعمال کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔اس نے کہا، ’’ایک انتخابی حکمت عملی جو ہمارے ملک میں خوف، بدنامی اور تقسیم کو ہوا دے کر بحث کو موڑنے پر مشتمل ہو، اسے لازمی طور پر فرانس کو درپیش حقیقی چیلنجوں کے جوابات کی عدم موجودگی کو چھپانے کی کوشش کے طور پر سمجھا جائے گا۔‘‘کونسل نے یہ بھی استدلال کیا کہ عوامی مقامات پر اسکارف پہننے پر پابندی آئینی طور پر محفوظ اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔اس نے کہا، ’’جو بھی وجوہات پیش کی جائیں، عوامی مقامات پر اسکارف پہننے پر پابندی آئینی طور پر محفوظ اصولوں، خاص طور پر ضمیر کی آزادی، انفرادی آزادی اور سیکولرازم کے اصول کے ساتھ مکمل تضاد ہوگی۔‘‘
سی ایف سی ایم نے مزید کہا کہ اس طرح کی پابندی ’’لاکھوں فرانسیسی شہریوں کے خلاف نفرت، تشدد یا امتیازی سلوک کے لیے عوام کو اکسانے کا باعث بھی ہوگی۔‘‘کونسل نے سیاسی لیڈروں سے ’’ذمہ داری اور تحمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور شہریوں سے جو آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے پابند ہیں، کہ وہ عوامی بحث اور شہری تحریک کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں۔سی ایف سی ایم نے کہا، ’’آئیے ہم لاکھوں فرانسیسیوں کو انتخابی حکمت عملی کا یرغمال نہ بنائیں۔ آئیے ہم مسلم خواتین کی پشت پر نشانات نہ لگائیں۔