فرانس میں جاری احتجاج اور اس کے دوران ہونے والے تشدد کے نتیجے میں سیکڑوں ملین یورو کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے، وزیر معیشت کا کہنا ہے کہ ہم اسے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گےکیونکہ۲۴؍ اکتوبر کو نئے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 10:09 PM IST | Paris
فرانس میں جاری احتجاج اور اس کے دوران ہونے والے تشدد کے نتیجے میں سیکڑوں ملین یورو کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے، وزیر معیشت کا کہنا ہے کہ ہم اسے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گےکیونکہ۲۴؍ اکتوبر کو نئے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
فرانسیسی وزیر معیشت رولینڈ لیسکیور نے بدھ کو ہفتے کے آخر میں تشدد اور بدامنی سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ دسیوں یا شاید سیکڑوں ملین یورو لگایا۔فرانسیسی آر ٹی ایل ریڈیو سے بات کرتے ہوئے، لیسکیور نے واقعات کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس میں اندر سے پرتشدد تحریکوں، انتشار پسندوں اور غنڈوںنے حملہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نقصان سے متاثرہ دکانداروں کی مدد کے لیے انشورنس کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے اور عہد کیا کہ حکام اس قسم کے واقعات دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: پُرتشدد مظاہروں کے بعد پیرس سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ
بعد ازاں لیسکیور نے سنیچرکو ہونے والے نئے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’ ہم اسے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘فرانسیسی براڈکاسٹر بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، ییلو ویسٹ تحریک نے سنیچر کو پیرس میں مظاہرہ کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جس میں کوآرڈینیٹر بنجمن بال نے کہا ہے کہ پیرس پولیس پریفیکچر میں ایک باضابطہ اعلامیہ جمع کرایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل کنفیڈریشن آف لیبر کی پیرس برانچ اور ایک طلبہ یونین نے بھی باسٹیل میں جمع ہونے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ منصوبہ بند مظاہرہ فرانسیسی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف احتجاج کے ایک ہفتے بعد آیا ہے جو جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا، جس میں تشدد اور املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات درج ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس، اٹلی میں دکانداروں کا مظاہروں کے دوران لوٹ مار کرنے والوں کا مقابلہ
ذہن نشین رہے کہ اکتوبر کو فرانس بھر میں تقریباً۵۵۰۰۰۰؍ لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جس کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، کئی دکانوں کو لوٹ لیا گیا، اور۲۰۰۰؍ سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔