Updated: July 06, 2026, 8:28 PM IST
| Paris
فرانس کے شمال مشرقی علاقے میں واقع لالیک میوزیم میں نقاب پوش افراد نے علی الصبح دھاوا بول کر لاکھوں یورو مالیت کے نایاب کرسٹل زیورات چرا لیے۔ حملہ آوروں نے چھ ڈسپلے کیس توڑ کر تقریباً ۲۰؍ نوادرات لوٹ لیے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق نقصان چار ملین یورو (تقریباً ۴۴؍ کروڑ روپے) تک پہنچ سکتا ہے۔ واقعے کے بعد میوزیم کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔
علامتی تصویر: آئی این این
فرانس کے مشہور لالیک میوزیم میں ایک منظم ڈکیتی کے دوران لاکھوں یورو مالیت کے نایاب کرسٹل زیورات چوری کر لیے گئے، جس کے بعد فرانسیسی عجائب گھروں کی سیکوریٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے ۵؍ بجے نقاب پوش افراد کا ایک گروپ شمال مشرقی فرانس کے قصبے ونگن سر موڈر (Wingen-sur-Moder) میں واقع میوزیم میں داخل ہوا اور چند ہی لمحوں میں چھ ڈسپلے کیسز توڑ کر قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، تفتیش سے واقف ذرائع نے بتایا کہ تقریباً ۲۰؍ زیورات چوری کیے گئے ہیں، جبکہ ابتدائی تخمینے کے مطابق مالی نقصان چار ملین یورو تک پہنچ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق واردات کے دوران سیکوریٹی الارم بج گیا تھا، تاہم سیکوریٹی کمپنی کے عملے کے پہنچنے سے قبل صفائی کرنے والی ایک خاتون جائے وقوعہ پر پہنچی، جس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ذرائع نے بتایا کہ چوری ہونے والی تمام اشیا کرسٹل سے تیار کی گئی تھیں، ان میں قیمتی جواہرات شامل نہیں تھے، اس لیے انہیں پگھلا کر فروخت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کے لیے میوزیم اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیو جرسی: ہندوستانی گروسری اسٹور کے افتتاح پر بھگدڑ، سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث
میوزیم انتظامیہ نے ڈکیتی کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ واقعے کے بعد میوزیم کئی روز تک عوام کے لیے بند رہے گا۔ میوزیم نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’’چوری کے ایک واقعے کے بعد لالیک میوزیم آئندہ چند دنوں تک بند رہے گا۔ آپ کے تعاون اور تفہیم پر شکریہ۔‘‘ لالیک میوزیم ۲۰۱۱ء میں مشہور فرانسیسی جیولر اور شیشہ ساز رینے لالیک (René Lalique) کی اصل فیکٹری کے قریب قائم کیا گیا تھا۔ یہاں ۶۵۰؍ سے زائد نایاب نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جن میں آرٹ نووو اور آرٹ ڈیکو طرز کے زیورات، شیشے کے شاہکار اور جدید کرسٹل تخلیقات شامل ہیں۔ مقامی اخبار Les Dernières Nouvelles d’Alsace (DNA) کے مطابق، تقریباً ۱۵۰۰؍ آبادی والے قصبے ونگن سر موڈر کے میئر کرسچین ڈورشنر نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام حفاظتی نظام بروقت فعال ہوئے تھے، تاہم ملزمان انتہائی منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کر کے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ یہ شہر تارکینِ وطن نے تعمیر کیا ہے
انہوں نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ ملزمان کو میوزیم کے اندرونی انتظامات اور سیکوریٹی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل تھیں۔ وہ یقیناً انتہائی ماہر اور منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے۔‘‘ یہ واردات گزشتہ برس پیرس کے لوور میوزیم میں ہونے والی جرات مندانہ ڈکیتی کے چند ماہ بعد پیش آئی ہے، جہاں دن دہاڑے چند منٹوں میں تقریباً ۱۰۲؍ ملین امریکی ڈالر مالیت کے تاریخی زیورات، جن میں فرانسیسی شاہی تاج کے نایاب نوادرات بھی شامل تھے، چرا لیے گئے تھے۔ تازہ ڈکیتی کے بعد فرانس میں عجائب گھروں، آرٹ گیلریوں اور ثقافتی ورثے کے مراکز کی سیکوریٹی پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔