ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریما حسن نے کہا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے محض اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے حقیقی عدالتی اور سیاسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔“
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 10:08 PM IST | Paris
ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریما حسن نے کہا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے محض اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے حقیقی عدالتی اور سیاسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔“
یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی۔فلسطینی رکن ریما حسن نے اپنے خلاف جاری قانونی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور حکام پر ”عدالتی ہراسانی“ کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائیاں ان کے سیاسی موقف سے جڑی ہوئی ہیں۔
’فرانس انبووڈ‘ (ایل ایف آئی) پارٹی سے تعلق رکھنے والی ۳۳ سالہ سیاستدان ریما حسن، کو اس ہفتے کے شروع میں تحقیقات کے سلسلے میں کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا تھا اور جمعہ کو مزید شکایات کے سلسلے میں ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کی گئی۔ وہ سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ”دہشت گردی کی ترغیب“ دینے کے الزامات پر ۷ جولائی کو عدالتی مقدمہ کا سامنا کریں گی۔
فرانسیسی استغاثہ کے مطابق، یہ معاملہ گزشتہ ماہ ’ایکس‘ پر ان کے تبصروں سے متعلق ہے جس میں انہوں نے ۱۹۷۲ء میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہونے والے ایک حملے میں ملوث جاپانی کارکن کا حوالہ دیا تھا۔ پیرس پراسیکیوٹر آفس نے بھی ان کے خلاف مزید سمن جاری کئے ہیں جن میں انہیں جرم کی تعریف اور جرم پر اکسانے سمیت دیگر الزامات کے تحت، ۱۶ ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عرب لیگ کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کے اسرائیلی قانون کی تحقیق کا مطالبہ
”میرے خلاف کارروائی سیاسی محرکات پر مبنی ہے“
اپنے وکیل کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریما حسن نے کہا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائیاں، سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے محض اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے حقیقی عدالتی اور سیاسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دباؤ اس وقت سے ہی شروع ہوگیا تھا جب انہوں نے سیاست میں قدم رکھا۔ حسن کی پارٹی نے ان کے دعوؤں کی حمایت کی ہے۔ ایل ایف آئی کے کوآرڈینیٹر مینوئل بومپارڈ نے ان کے خلاف کارروائیوں کو ”عدالتی ظلم“ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ریما حسن شام میں حلب کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئیں اور بعد میں فرانس منتقل ہوئیں۔ وہ ۲۰۲۴ء میں یورپی پارلیمنٹ کی ممبر منتخب ہوئیں اور اس طرح یورپی پارلیمنٹ کی پہلی فرانسیسی نژاد فلسطینی رکن بن گئیں۔ انہیں فلسطینی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی مؤثر شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی سمیت سات دیگر ممالک کی یروشلم میں عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت
حکام نے حسن کے الزامات کو مسترد کردیا
فرانسیسی حکام نے حسن کو سیاسی طور پر نشانہ بنائے جانے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ لارینٹ نونیز نے کہا کہ یہ مقدمہ، متعلقہ بیانات کی سنگینی پر مبنی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ حسن کے خلاف کئی یہودی تنظیموں کی جانب سے شکایات درج کرائی گئی تھیں جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ”یہاں کوئی ظلم نہیں ہو رہا ہے۔“