Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیمپو سے لے کر کوکیز تک، اے آئی عام مصنوعات کی جدت کو تیز کررہا ہے: لوریل

Updated: July 06, 2026, 7:08 PM IST | Paris

فرانسیسی کاسمیٹکس کمپنی لوریل (L’Oréal) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی مدد سے بیوٹی اور ہیئر کیئر مصنوعات کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اے آئی نے ایسے مالیکیولز کی نشاندہی ممکن بنائی ہے جنہیں ایک پروڈکٹ سے دوسرے پروڈکٹ میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نئی مصنوعات کی تیاری کی رفتار چار گنا بڑھ گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فرانسیسی کاسمیٹکس کمپنی لوریل (L’Oréal) نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے استعمال نے اس کی تحقیق اور مصنوعات کی تیاری کے عمل میں نمایاں تیزی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث اب نئی مصنوعات پہلے کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تیزی سے تیار کی جا رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، لوریل کے کنزیومر پروڈکٹس ڈویژن کے صدر فیبرس میگربین (Fabrice Megarbane) نے بتایا کہ کمپنی گزشتہ چار برس سے اپنی تحقیقی لیبارٹریوں میں اے آئی استعمال کر رہی ہے، جہاں یہ ٹیکنالوجی ایسے مالیکیولز کی شناخت میں مدد دیتی ہے جنہیں مختلف بیوٹی اور ہیئر کیئر مصنوعات میں نئے انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میگربین کے مطابق، کمپنی نے حالیہ عرصے میں جلد کی نگہداشت کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے بعض مالیکیولز کو شیمپو میں کامیابی سے استعمال کیا ہے، جس کے ذریعے ایسا شیمپو تیار کیا گیا ہے جو کولیجن کی مدد سے بالوں میں گھنا پن، حجم اور قدرتی ابھار پیدا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: ہرغیرملکی وفد کی حاضری کے وقت قرآن کی الگ الگ آیتوں کی تلاوت

انہوں نے آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقدہ کنزیومر گڈز فورم گلوبل سمٹ کے موقع پر کہا کہ اے آئی کی مدد سے نئے مالیکیولز اور ان کے ممکنہ فوائد کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے دریافت کیا جا سکتا ہے، جس سے جدت کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر صارفین کی اشیا تیار کرنے والی متعدد بڑی کمپنیاں بھی اب مصنوعی ذہانت کو تحقیق اور مصنوعات کی ترقی میں استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں نیسلے (Nestlé)، ہیلیون (Haleon) اور مونڈیلیز (Mondelez) شامل ہیں، جو اے آئی کی مدد سے نئی ترکیبیں تیار کرنے، اجزا کی جانچ، صارفین کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے اور سپلائی چین کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مسابقت، صارفین کی تیزی سے بدلتی ترجیحات اور لاگت میں اضافے نے انہیں تحقیق اور جدت کے لیے جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک اب کھرب پتی نہیں رہے، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کی فروخت سے جھٹکا لگا

لوریل کے چیف ایگزیکٹو نکولس ہیرونیمس (Nicolas Hieronimus) نے گزشتہ سال کمپنی میں جدت کو فروغ دینے کے لیے ’’بیوٹی اسٹیمولیشن پلان‘‘ شروع کیا تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب کمپنی نے کئی برسوں میں اپنی فروخت کی رفتار میں نسبتاً سست اضافہ ریکارڈ کیا تھا۔ ادھر، چاکلیٹ بنانے والی کمپنی مونڈیلیز کے چیف انفارمیشن اینڈ ڈجیٹل آفیسر فلیپو کاتالانو (Filippo Catalano) نے رائٹرز کو بتایا کہ اے آئی نے مصنوعات کی تیاری کے روایتی طریقہ کار کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق، اے آئی نہ صرف نئی ترکیبوں کے تخلیقی آئیڈیاز پیش کرتا ہے بلکہ انسانی ماہرین ان تجاویز کا جائزہ لے کر بہتر فارمولے تیار کرتے ہیں۔ اس عمل سے مصنوعات کی تیاری کا وقت نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کا چین کو بڑا دھچکا، سستی اشیا پر ۳؍ یورو کی یکساں کسٹم ڈیوٹی عائد

کاتالانو نے کہا کہ اے آئی کی مدد سے کمپنی خام مال کے متبادل ذرائع تلاش کرنے، سپلائی چین پر انحصار کم کرنے اور صارفین کی ضروریات کے مطابق مصنوعات میں فوری تبدیلیاں کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مونڈیلیز نے گولڈن اوریو (Golden Oreo) کی گلوٹن فری کوکیز اور چپس آہائے (Chips Ahoy) کی نئی ترکیب تیار کرنے میں بھی اے آئی سے مدد حاصل کی، جبکہ کمپنی کے مطابق بسکٹ کے شعبے میں اے آئی کے ذریعے تیار کی جانے والی تقریباً ۶۰؍ فیصد ترکیبیں غذائیت، پائیداری اور لاگت کے اعتبار سے پہلے سے بہتر ثابت ہوئی ہیں۔ کاتالانو کے مطابق، اے آئی ایسی صلاحیت فراہم کرتا ہے جو پہلے ممکن تو تھی، لیکن جس میں مہینوں یا برسوں کا وقت لگتا تھا، وہی کام اب چند ہفتوں یا چند مہینوں میں مکمل ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK